Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

ترجمۂ کنزالایمان : اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرا یا اس نے بڑا گناہ کا طوفان باندھا۔

پھر ارشاد فرمایا:  ’’ اور والد ین کی نافرمانی کرنا۔ ‘‘  اورپھر یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:

اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَؕ-اِلَیَّ الْمَصِیْرُ (۱۴)   (پ۲۱،لقمٰن:  ۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان : یہ کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا آخر مجھی (میرے)  تک آناہے ۔

یہ بات ارشا د فرماتے وقت آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمٹیک لگا کر تشریف فرماتھے، پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمزانو پر سیدھے بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا:  ’’ سن لو اورجھوٹی بات کہنا بھی (کبیرہ گناہ ہے) ۔ ‘‘        (المعجم الکبیر،الحدیث: ۲۹۳،ج۱۸،ص۱۴۰)

{25}…حضور نبی پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ سب سے بڑے گناہ یہ ہیں :  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اوریہ کہ کوئی شخص جھوٹی قسم کھائے اورپھراُس کی مچھر کے پَر برابربھی خلاف ورزی کرے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کے دل میں ایک داغ بنادے گاجس کااثرقیامت تک رہے گا۔ ‘‘  (المسندللامام احمد بن حنبل، حدیث عبداللہ  بن انس ، الحدیث: ۱۶۰۴۳،ج۵،ص۴۳۰)

{26}… اللہ  کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ سب سے بڑے گناہ یہ ہیں :  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، ضرورت سے زائد پانی سے دوسروں کو روکنا اور نر جانور کو جفتی سے روکنا۔ ‘‘         (البحرالزّخارالمعروف بمسندالبزّار، مسند بریدۃ بن حصیب، الحدیث: ۴۴۳۷،ج ۱۰،ص۳۱۴)

{27}… شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ قیامت کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک سب سے بڑے گناہ یہ ہوں گے:   (۱) اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ شرک کرنا  (۲) مسلمان کو ناحق قتل کرنا  (۳) جنگ کے دن راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  میں جہادسے فرار ہونا  (۴) والدین کی نافرمانی کرنا  (۵) پاکدامن عورتوں پر تہمت لگا نا  (۶) جادو سیکھنا   (۷) سود کھانا اور (۸) یتیم کا مال کھانا۔ ‘‘   (صحیح ابن حبّان، ذکر کتبۃ المصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم،کتابہ الیٰ اھل یمن،الحدیث: ۶۵۲۵،ج۸،ص۱۸۰)

{28}… دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ خمر  (یعنی انگورکی شراب)  پینا سب سے بڑا گناہ اور بے حیائیوں کی جڑ ہے، جس نے شراب پی اس نے نماز چھوڑ دی اور گویا اپنی ماں ، خالہ اور پھوپھی کے ساتھ زنا کیا۔ ‘‘                             (مجمع الزوائد،کتاب الاشربۃ ،الحدیث : ۸۱۷۴،ج۵،ص۱۰۴)

{29}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بے شک کسی مسلمان کی ناحق بے عزتی کرنا سب سے بڑا کبیرہ گناہ ہے۔ ‘‘   (سنن ابی داؤد، کتاب الادب ، باب فی الغیبۃ ، الحدیث: ۴۸۷۷،ص۱۵۸۱)

{30}…امام احمد اورامام ابو داؤدرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہما کی یہ روایت اس کے موافق ہے :  ’’ مسلمان کی ناحق بے عزتی کرنا سود کھانے سے بھی بڑا گناہ ہے۔ ‘‘   (سنن ابی داؤد، کتاب الادب ، باب فی الغیبۃ ، الحدیث: ۴۸۷۶،ص۱۵۸۱)

{31}… خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لِلْعٰلَمِینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے کسی عذر کے بغیر ایک وقت میں دو نمازوں کو جمع کیا بے شک وہ کبیرہ گناہوں کے ایک دروازے پر آیا۔ ‘‘  (جامع الترمذی ،ابواب الصلوٰۃ ،باب ما جاء فی جمع بین الصلاتین فی الحضر،الحدیث : ۱۸۸،ص۱۶۵۴)

{32}…سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے سوال کیا گیا :  ’’ کبیرہ گناہ کون سے ہیں ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ شرک کرنا، اس کی رحمت سے مایوس ہونا اور اس کی خفیہ تدبیر سے بے خوف رہنا اور یہی سب سے بڑا گناہ ہے۔ ‘‘

{33}…جبکہ سیدنا امام دار قطنی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی روایت کے مطابق  ’’ وصیت میں ورثاء کو نقصان پہنچا نا بھی کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔  (سنن دارقطنی،کتاب الوصایا،الحدیث: ۴۲۴۹،ج۴،ص۱۷۸)

دوسری قسم کی روایات:

{34}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے :  ’’ تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نہ کلام فرمائے گا، نہ ان پر نظرِ رحمت فرمائے گا اور نہ ہی اُنہیں پاک فرمائے گا نیز ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔ ‘‘  حضرت سیدنا ابو ذر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ مَحبوبِ ربُّ العٰلَمین، جنابِ صادق و امین عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی تومیں نے عرض کی:  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! رسوا وبرباد ہونے والے یہ لوگ کون ہیں ؟ ‘‘  تو تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’   (۱)  (تکبر کی وجہ سے)  تہبندلٹکانے والا (۲)  احسان جتلا نے والا اور (۳)  جھوٹی قسم کے ذریعے اپنا سودا بیچنے والا۔ ‘‘   (صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب بیان غلظ تحریم اسبال الازارالخ،الحدیث: ۲۹۳،ص۶۹۶)

{35}… مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’   (وہ تین افراد یہ ہیں )  (۱) بوڑھا زانی  (۲)  جھوٹا حکمران اور  (۳) مغرور فقیر۔ ‘‘   (صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب بیان غلظ تحریم اسبال الازارالخ،الحدیث: ۲۹۶،ص۶۹۶)

{36}…ایک اور روا یت میں ان تین افراد کا ذکر ہے :  (۱)