Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

تندرست پیدا ہو گا یا معذور؟ ‘‘ تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّاسے تندرست یا معذور بنا دیتا ہے، فرشتہ پھر عرض کرتاہے:  اس کا رزق کتنا اور موت کاوقت کیا ہو گا؟پھر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے شقی یا سعید بنا دیتا ہے۔ ‘‘  (المرجع السابق،الحدیث: ۶۷۲۸،ص۱۱۳۹)

{59}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ رحم میں قرا رپکڑنے کے 40راتیں گزرنے کے بعد ایک فرشتہ نطفے کے پاس آتا ہے اور پھر عرض کرتاہے :  ’’ یارب عَزَّ وَجَلَّ !  یہ بدبخت ہو گا یا خوش بخت؟ لڑکا ہو گا یا لڑکی؟ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّجو کچھ ارشاد فرماتا ہے فرشتہ اسے لکھ لیتا ہے اور وہ فرشتہ اس کے عمل، رزق اور موت کا وقت لکھتا ہے، پھر صحیفہ لپیٹ لیتا ہے اس کے بعد نہ تو اس میں کوئی اضافہ ہوتا ہے نہ ہی کمی ۔ ‘‘   (المرجع السابق،الحدیث: ۶۷۲۵،ص۱۱۳۸)

{60}…حضرت سیدنا عبداللہ  بن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تم میں سے کسی ایک کی پیدا ئش کو ماں کے پیٹ میں 40دن تک جمع کیا جاتا ہے، پھر 40دن لوتھڑا بنا رہتا ہے، پھراسی طرح 40دن تک کے لئے مُضْغَہ بن جاتا ہے، پھر اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اسے چارچیزیں لکھنے کا حکم دیتا ہے اوراس سے کہاجاتاہے کہ اس کا عمل، اس کی موت کا وقت، اس کا رزق اور یہ لکھ دوکہ یہ شقی ہو گا یا سعید۔ پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے، بے شک تم میں سے کوئی شخص اہلِ جنت جیسے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت اور اس کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس کی تقدیراس پر غالب آ جاتی ہے تو وہ جہنمیوں جیسے عمل کر کے جہنم میں داخل ہو جاتا ہے، جبکہ ایک شخص جہنمیوں جیسے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو تقدیر اس پرغالب آ جاتی ہے اور وہ اہلِ جنت جیسے عمل کرنے لگتا ہے اور  جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ ‘‘  (صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق،باب ذکر الملائکۃ الخ،الحدیث: ۳۲۰۸،ص۲۶۰،مختصرا)

                اس حدیثِ مبارکہ میں ثُمَّیعنی  ’’  پھر ‘‘ کا لفظ ظاہراً ماقبل احادیث کی نفی کر رہا ہے، لہٰذا یا تو یہ وَاؤ یعنی ’’  اور ‘‘  کے معنی میں ہے یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ بچوں کے مختلف ہونے سے فرشتے کی آمد کی مدت بھی مختلف ہوتی ہے، کچھ بچوں کی طرف فرشتے کو پہلے 40دن مکمل ہونے پر بھیجا جاتا ہے اورکچھ کی طرف تیسرے 40دن مکمل ہونے پر بھیجا جاتا ہے۔

{61}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے (ایک دن اپنے دونوں ہاتھوں میں دو کتابیں پکڑ کر)   ارشاد فرمایا :  ’’ کیا تم جانتے ہو کہ ان دو کتابوں میں کیا ہے؟ یہ کتاب، اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے ہے اس میں جنتیوں کے، ان کے آبأ اور قبائل کے نام ہیں ، پھر ان کے آخر میں اجمالاً ذکر کر دیا ہے لہٰذا نہ ان میں کمی ہو گی نہ زیادتی۔ اور یہ رب العالمین عَزَّ وَجَلَّ  کی طرف سے دوسری کتاب ہے اس میں اہلِ جہنم، ان کے آبأ اور قبائل کے نام ہیں ، پھران کے آخرمیں ان کااجمالاًذکرکردیا ہے لہٰذا ان میں نہ کبھی کمی ہو گی نہ زیادتی، سیدھے رہو اور میانہ روی اختیار کرو کیونکہ جنتی کا خاتمہ اہلِ جنت کے اعمال پر ہو گا، اگرچہ وہ جیسے بھی عمل کرے اور جہنمی کا خاتمہ جہنمیوں کے اعمال پر ہو گا، اگرچہ وہ جیسے بھی عمل کرے، تمہارا رب عَزَّ وَجَلَّ  بندوں کے ایک فریق کے جنتی ہونے اور ایک کے جہنمی ہونے کا فیصلہ فرما چکا ہے ۔ ‘‘   (جامع الترمذی،ابواب القدر،باب ماجاء ان اللہ  کتب کتابا لاھل الجنۃالخ،الحدیث: ۲۱۴۱،ص۱۸۶۶ )

{62}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اچھے عمل کرو، اگر تم مغلوب ہو گئے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے لکھے اور اس کی تقدیر سے ہو گے اور اپنے کلام میں اگر کا لفظ شامل نہ کیا کرو کیونکہ جواگرکا لفظ بولتا ہے اس پر شیطان کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ ‘‘   (تاریخ بغداد، ذکر من اسمہ عمار، الحدیث: ۶۷۰۳،ج۱۲،ص۲۵۰)

{63}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے حضرت آدم (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ )  کو پیدا فرمایا اور ان کی پشت پر  (اپنی قدرت کے شایانِ شان ) دایاں دست ِقدرت پھیرا  (یعنی اس میں اپنی قدرت، برکت اور رحمت سے بھری ذُرِّیَّت پیدا فرمائی)  پھراس میں سے ایک قوم کو نکال کر ارشاد فرمایا :  ’’ یہ لوگ جنتی ہیں اور یہ جنتیوں جیسے عمل کریں گے۔ ‘‘  پھر ان کی پشت پر اپنا دستِ قدرت پھیرا تو اس سے ایک قوم نکالی اور ارشاد فرمایا :  ’’ میں نے اسے جہنم کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ جہنمیوں جیسے کام کریں گے۔اورجب اللہ  عَزَّ وَجَلَّکسی بندے کو جنت کے لئے پیدا فرماتا ہے تو اس سے جنتیوں جیسے کام لیتاہے یہاں تک کہ وہ جنتی اعمال میں سے کسی عمل پر مرتا ہے اور اس کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جاتا ہے اور جب اللہ  عَزَّ وَجَلَّکسی  بندے کو جہنم کے لئے پیدا فرماتا ہے تو اس سے جہنمیوں جیسے کام لیتا ہے یہاں تک کہ وہ اہلِ جہنم کے اعمال میں سے کسی عمل پر مرتا ہے اور پھر اس کی وجہ سے جہنم میں داخل ہو جاتا ہے۔ ‘‘   (سنن ابی داؤد،کتاب السنۃ ،باب فی القدر، الحدیث:  ۴۷۰۳،ص۱۵۶۹)

{64}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے حضرت آدم  (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ )  کو پیدا فرمایا تو ان کی پشت سے کچھ مخلوق کو پکڑ کر ارشاد فرمایا :  ’’ یہ لوگ جنتی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اور یہ جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔ ‘‘                        (المسندللامام احمد بن حنبل ،مسند الشامیین،الحدیث:  ۱۷۶۷۶،ج۶،ص۲۰۶)

حضرت سیدنا آدم و موسٰی عَلَیْہِمَاالصَّلٰوۃُالسَّلَامُ کے درمیان مباحثہ :

{65}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باِذنِ پروردْگارعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ حضرت آدم وموسیٰ  (علیہما الصلوٰۃ و السلام ) میں مباحثہ ہوا تو حضرت موسیٰ  (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ  ) نے فرمایا :  ’’ آپ تو وہ ہیں جنہیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے اپنے دستِ قدرت سے پیدا فرمایا، آپ میں اپنی جانب سے روح پھونکی، اپنے ملائکہ سے آپ کو سجدہ کروایا اور اپنی جنت میں ٹھہرایا لیکن آپ نے اپنی لغزش کی وجہ سے لوگوں کو جنت سے نکال کر انہیں بدبخت کر دیا۔ ‘‘  تو حضرت آدم (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ ) نے ارشاد فرمایا:   ’’ اے موسیٰ!  تم وہ ہو جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی رسالت کے لئے چنا اور تم پر تورات نازل فرمائی تو کیا تم مجھے ایسی بات پر ملامت کرتے ہو جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے مجھے پیدا کرنے سے پہلے ہی میرے لئے لکھ دیا تھا۔ ‘‘  تو اس طرح حضرت آدم  (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ )  حضرت موسیٰ  (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ )  پر بحث میں غالب آ گئے۔ ‘‘                              (جمع الجوامع ، قسم الاقوال، الحدیث:  ۵۷۸،ج۱،ص۱۰۸)

{66}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ حضرت  موسیٰ (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ )  نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں عرض کی:  ’’  مجھے حضرت آدم  (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ )  سے ملوادے۔ ‘‘  تو جب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں حضرت آدم  (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ ) سے ملوایا تو حضرت موسیٰ  (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ )  نے حضرت آدم (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ )  سے عرض کی :  ’’ آپ ہی ہمارے باپ آدم  (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ ) ہیں ؟ آپ ہی وہ ہیں جن میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی جانب سے روح پھونکی ، آپ کو تمام اسمأ کا علم عطا فرمایا اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ



Total Pages: 320

Go To