Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

اللہ  عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتاہے :

فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَاﭪ (۸)   (پ۳۰، الشمس: ۸)

ترجمۂ کنز الایمان : پھراس کی بد کاری اوراس کی پرہیز گاری دل میں ڈالی۔

                الہام کہتے ہیں دل میں کوئی بات ڈالنے کواور چونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہی دل میں فجور اور تقویٰ الہام فرماتا ہے لہٰذا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ان دونوں کا خالق ہوا۔ اسی لئے حضرت سیدناسعید بن جبیر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں ارشاد فرمایا:   ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے اس پر نافرمانی اور پرہیزگاری کو لازم کیا۔ ‘‘  حضرت سیدنا ابن زید رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ نے اس کی تفسیرمیں ارشاد فرمایا:    ’’ اسے اپنی توفیق سے تقویٰ کا اہل بنایا یا اسے اپنی جانب سے رسوا کرتے ہوئے فجور کا اہل بنایا۔ ‘‘

{15}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے ایک قوم پر احسان فرمایا تو انہیں خیر کا الہام فرمایا اور انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمایا، جبکہ ایک قوم کو آزمائش میں مبتلا فرمایا تو انہیں رسوا کر دیا اور ان کے افعال پر ان کی مذمت فرمائی، جب ان لوگوں نے آزمائش سے نکلنے کی استطاعت نہ پائی تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے انہیں عذاب میں مبتلا فرما دیا اور وہ پھر بھی عادل ہی ہے کیونکہ،

لَا یُسْــٴَـلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْــٴَـلُوْنَ (۲۳)  (پ۱۷، الانبیاء: ۲۳)  

ترجمۂ کنز الایمان : اس سے نہیں پوچھا جاتا جووہ کرے اوران سب سے سوال ہو گا۔

 (جامع الاحادیث، قسم الاقوال، الحدیث:  ۵۴۷۵،ج۲،ص۲۹۱،بتغیر قلیل)

                عنقریب اس جیسی اوربہت سی احادیث بیان ہوں گی۔ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِۚ-وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا  (پ۸، الانعام: ۱۲۵)

ترجمۂ کنز الایمان : اورجسے اللہ  راہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتاہے اورجسے گمرا ہ کرنا چاہے اس کا سینہ تنگ خوب رکا ہواکردیتا ہے ۔

                یہ آیت مبارکہ، پچھلی آیتوں کی طرح قَد ْرِیَہ کی گمراہی اور ان کے راہ ِاستقامت سے روگردانی کرنے پر دلالت کرتی ہے۔

 منکرینِ تقدیر کی مذمَّت پر احادیث مبارکہ :

{16}…حضرت سیدنا معا ذ بن جبل رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے کبھی کوئی ایسا نبی پیدا نہیں کیا جس کی اُمت میں مُرْجِئَہاور قَد ْرِیَہ نہ ہوں ، بے شک اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے 70انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی زبان سے مُرْجِئَہاورقَد ْرِیَہ پر لعنت فرمائی ۔ ‘‘  (المعجم الکبیر،الحدیث:  ۲۳۲،ج۲۰،ص۱۱۷)

{17}…حضرت سیدنا ابن عمررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ ہر اُمت میں مجوسی ہوتے ہیں اور اس اُمت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو یہ گمان کرتے ہیں کہ تقدیر کوئی شئے نہیں اور یہ کہ معاملہ از سرِنو والاہے (یعنی چاہے اچھا کام کرو یا برا تقدیر کوئی چیز نہیں )  لہٰذا جب تم ان سے ملو تو انہیں خبر دینا کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری۔ ‘‘  (کنزالعمال،کتاب الایمان ، قسم الاقوال، الحدیث:  ۵۵۱،ج۱،ص۷۴،بدون  ’’ ان الامر انف ‘‘ )

{18}… حضرت سیدنا ابن عمررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  نے مزید ارشاد فرمایا :  ’’ اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے دستِ قدرت میں عبداللہ  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کی جان ہے!  اگر ان میں سے کسی کے پاس اُحد پہاڑ جتنا سونا ہو پھر وہ اسے راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  میں خرچ کر دے تب بھی جب تک وہ اس بات پر ایمان نہ لے آئے کہ اچھی، بری تقدیر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کا کوئی عمل قبول نہ فرمائے گا۔ ‘‘                                                                                           (المجعم الکبیر، رقم ۷۵۰۲، ج۸، ص ۱۰۳)

{19}… اس کے بعد انہوں نے مسلم شریف میں مذکورحدیث ِجبرائیل کو ذکر کیا جس کامضمون یہ ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی گئی :  ’’ ایمان کیا ہے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ ایمان یہ ہے کہ تم اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ،اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لاؤ اور اچھی، بری تقدیر کو مانو۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب الایمان،باب بیان الایمانالخ،الحدیث: ۹۳،ص۶۸۱)

                گذشتہ احادیث کے علا وہ بھی تقدیرکے بارے میں بہت سی احادیث ہیں ، میں ان کے عظیم فائدے اور عمومی نفع کی بناء پر انہیں یہاں ذکرکرنا پسند کرتاہوں ۔

{20}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس نے تقدیر کو جھٹلایا اس نے میری لائی ہوئی ہر چیز کا انکار کیا۔ ‘‘      (کنزالعمال،کتاب الایمان ، قسم الاقوال،فصل فی الایمان بالقدر، الحدیث:  ۴۸۰،ج۱،ص۶۸)

{21}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو اچھی بُری تقدیر کو نہیں مانتا میں اس سے بیزار ہوں ۔ ‘‘                    (مسند ابی یعلی الموصلی، مسند ابی ہریرہ، الحدیث: ۶۳۷۳،ج۵،ص۴۵۶)  

{22}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگارعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ بندہ جب تک چارچیزوں پر ایمان نہ لے آئے مؤمن نہیں ہوسکتا:   (۱) اس بات کی گواہی دے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا رسول ہوں اس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے  (۲) موت پر ایمان لائے،  (۳) قیامت کے دن اٹھنے کو مانے اور  (۴) اچھی بری تقدیر پر ایمان لائے۔ ‘‘                 (مسند امام احمد بن حنبل،مسند عبداللہ  بن عمرو، الحدیث: ۷۰۰۴،ج۲،ص۶۶

Total Pages: 320

Go To