Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

تذکرہ ہو، نیز وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے شایان شان اس کی پہچان کا باعث بنیں یا پھر عوام الناس کی تعلیم ان سے مقصود ہو تو وہ ناجائز نہیں بلکہ ایک افضل عبادت کا درجہ رکھتے ہیں ۔

 

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر52 :                                            تقدیرکوجُھٹلانا

                اس سے مراد یہ ہے کہ اس بات کا انکار کرنا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے بندے پر خیر اور شر مقدر فرما دیئے ہیں ، جیسا کہ معتزلہ کا گمان ہے۔اللہ  عَزَّ وَجَلَّمعتزلہ پرلعنت فرمائے کیونکہ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ بندہ خود اپنے افعال کا خالق ہے۔ چونکہ یہ لوگ تقدیر کے منکرہیں اس لئے ان کا نام قَدْرِیَہ رکھ دیا گیا ان کا کہنا تھا :  ’’ اس نام کے اصل حقدار وہ لوگ ہیں جو تقدیر کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ ‘‘  آئندہ آنے والی صریح احادیث اور صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  کے اقوال ان کے اس فاسد گمان کا رد کرتے ہیں اور حجت اسی میں ہے ان فاسد عقلوں میں نہیں جنہوں نے اسے ان نصوص کی طرف منسوب کیا اور محض اپنے باطل تخیّلات کی بناء پر قرآن وحدیث کی صریح نصوص کو اپنی گندی اور بری عا دت کے مطابق چھوڑ دیا جیسے منکر نکیر کے سوال کا انکار، عذاب قبر، پل صراط، میزان، حوضِ کوثر اور آخرت میں سر کی آنکھ سے دیدارِالٰہی عَزَّ وَجَلَّ  وغیرہ ان چیزوں کا انکار جو کہ بلاشبہ صحیح بلکہ متواتر احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہیں ، اللہ  عَزَّ وَجَلَّانہیں برباد فرمائے کہ وہ سنتِ مبارکہ اور اپنے اس نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شان سے کتنے بے خبرہیں جس کے بارے میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا :

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ (۳) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ (۴)   (پ۲۷، النجم: ۳۔۴)

ترجمۂ کنز الایمان : اوروہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے وہ تونہیں مگروحی جوانہیں کی جاتی ہے۔

                اوران کے خلاف ہماری دلیل اللہ  عَزَّ وَجَلَّکا یہ فرمانِ عالیشان ہے:

اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ (۴۹)   (پ۲۷، القمر: ۴۹)

ترجمۂ کنز الایمان : بے شک ہم نے ہرچیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائی۔

شانِ نزول:

                اکثر مفسرین کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے نزدیک یہ آیت مبارکہ قدریہ کے بارے میں نازل ہوئی اور اس کی تائیدیہ روایت بھی کرتی ہے :

{1}…اس آیت کے نزول کا سبب یہ ہے کہ کفارِمکہ رسولِ اکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہو کر تقدیر کے بارے میں جھگڑنے لگے تو یہ آیاتِ مبارکہ نازل ہوئیں :

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ (۴۷) یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْؕ-ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ (۴۸) اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ (۴۹)   (پ۲۷، القمر: ۴۷۔۴۹)

ترجمۂ کنز الایمان : بے شک مجرم گمراہ اوردیوانے ہیں جس دن آگ میں اپنے مونھوں پرگھسیٹے جائیں گے اورفرمایا جائے گا چکھودوزخ کی آنچ بیشک ہم نے ہرچیز ایک اندازہ سے پیدافرمائی۔ (تفسیرا لطبری،سورۃ القمر، تحت الآیۃ: ۴۶،ج۱۱،ص۵۶۹،ملخصًا)

                قَدْرِیَہ ہی وہ مجرم ہیں جن کا ذکر اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے مذکورہ آیتِ مبارکہ میں کیا ہے، اسی طرح وہ لوگ بھی ان میں شامل ہیں جو ان کے طریقہ پر ہیں اگرچہ کامل طور پر تقدیر کے منکر نہیں جیسے معتزلہ وغیرہ۔

{2}…بعض مفسرینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے آیتِ مبارکہ کے نزول کا سبب یہ بیان کیاہے :  ’’ نجران کے ایک پادری نے حضور نبی ٔ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی :  ’’ اے محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) !  آپ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم)  کاخیال ہے کہ ہر گناہ تقدیر کی وجہ سے ہوتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ تم لوگ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے مخالف ہو۔ ‘‘  اس پر یہی آیتِ مبارکہ:  ’’  اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَاِلٰی آخرالآیۃ  ‘‘  نازل ہوئی۔

 (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی،سورۃ القمر،تحت الآیۃ: ۴۹،ص۱۰۹)

{3}…صحیح حدیث پاک میں ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے زمین وآسمان پیدا فرمانے سے پچاس ہزار 50,000 سال پہلے ہی ساری مخلوق کی تقدیریں لکھ دی تھیں ۔ ‘‘    (صحیح مسلم، کتاب القدر،باب حجاج آدم وموسی،الحدیث:  ۶۷۴۸،ص۱۱۴۰)

{4}…حضرت سیدنا طاؤس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے کرم سے اُس کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کچھ صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا جو کہتے تھے :  ’’ ہر شئے اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی تقدیرسے ہوتی ہے۔ ‘‘  اور میں نے حضرت سیدنا عبداللہ  بن عمررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ہر شے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی تقدیر سے ہے یہاں تک کہ عجز اور دوراندیشی یاعقل مندی اور عجز بھی۔ ‘‘                                            (المرجع السابق،باب کل شئی بقدر،الحدیث:  ۶۷۵۱)

{5}…امیرالمؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰکَرَّمََ اللّٰہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْمارشاد فرماتے ہیں کہ دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بندہ جب تک چارچیزوں پر ایمان نہ لے آئے اللہ  عَزَّ وَجَلَّپر ایمان نہیں لا سکتا:   (۱) لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی گواہی دے  (۲) اس بات کی گواہی دے کہ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّکا رسول ہوں ، اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے  (۳)  موت کے بعد اٹھائے جانے پر ایمان لائے اور  (۴) تقدیر کو مانے۔ ‘‘

 (جامع الترمذی، ابواب القدر،باب ماجاء ان الایمان بالقدرالخ،الحدیث:  ۲۱۴۵،ص۱۸۶۷)

{6}…ایک اورروایت میں ہے :  ’’ اچھی بری تقدیر کو مانے۔ ‘‘                             (المرجع السابق،الحدیث: ۲۱۴۴)

                مسلم شریف کی گذشتہ روایت جس میں ہے :  ’’ ہر چیز تقدیر سے ہے یہاں تک کہ عجز اور دانائی بھی۔ ‘‘  اہلِ سنت کے مذہب پر صریح دلیل ہے۔  (صحیح مسلم، کتاب القدر،باب کل شئی بقدر،الحدیث:  ۶۷۵۱،ص۱۱۴۰)

{7}…خاتَمُ الْمُرْسَلین