Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

کرنے والا  (۲) اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی تقدیر کو جھٹلانے والا  (۳) میری اُمت پر اس لئے زبردستی طاقت کے ذریعے مسلَّط ہو جانے والا تا کہ جنہیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے معزز کیاانہیں ذلیل کرے اور جنہیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے رسوا کیا ہے انہیں معزز بنائے  (۴) اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی حرمت کو حلا ل ٹھہرانے والا  (۵) میری اولاد کے معاملہ میں اس چیز کو حلال سمجھنے والا جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے حرام کیا  (۶) میری سنت کوچھوڑنے والا۔ ‘‘

 (المستدرک، کتاب التفسیر، سورۃ واللیل اذا یغشی،باب ستۃ لعنھم اللہ  الخ،الحدیث:  ۳۹۹۶،ج۳،ص۳۷۵)

{5}…سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے میری سنت سے منہ پھیرا وہ مجھ سے نہیں۔ ‘‘        (صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب الترغیب فی النکاح، الحدیث:  ۵۰۶۳،ص۴۳۸)

{6}…شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو اُمت اپنے نبی کے بعد اپنے دین میں کوئی بدعت ایجاد کر لیتی ہے، وہ اس جیسی سنت کو ضائع کر بیٹھتی ہے۔ ‘‘  (المعجم الکبیر،الحدیث:  ۱۷۸،ج۱۸،ص۹۹)

{7}…مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’  آسمان کے سائے تلے نہیں کوئی ایسامعبودپوجا جاتاجو اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک پیروی کی جانے والی نفسانی خواہش سے (گناہ کے اعتبار سے ) بڑاہو۔ ‘‘

 (المعجم الکبیر،الحدیث:  ۷۵۰۲،ج۸،ص۱۰۳)

تنبیہ:

                شیخ الاسلام صلاح علائی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنے قواعد میں جو صراحت کی ہے اس کی بناء پر اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے، جبکہ علامہ جلال بلقینی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکبیرہ گناہوں کوشمارکرتے ہوئے لکھتے ہیں :  ’’ سولہواں کبیرہ گناہ بدعت ہے اور ترکِ سنت سے بھی یہی مراد ہے

سنت چھوڑنے سے کیامراد ہے؟

                سنت سے مراد وہی طریقہ ہے جس پر اہل سنت وجماعت کے دوجلیل القدر امام حضرت سیدنا ابوالحسن اشعری اور ابومنصور ماتریدی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  ہیں ، اوربدعت وہ ہے جس طریقہ پر ان دو (اماموں )  اور ان کے تمام پیروکاروں کے اعتقاد کے مخالف بدعتی فرقوں میں سے کوئی فرقہ ہے اور بدعتیوں کی مذمت میں بہت سی صحیح احادیت آئی ہیں ۔

بدعتیوں کی مذمت

{8}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے ہمارے اس معاملہ  (یعنی اسلام)  میں کوئی ایسی نئی بات نکالی جواس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔ ‘‘   (صحیح مسلم، کتاب الاقضیۃ،باب نقض الاحکام باطلۃالخ،الحدیث: ۴۴۹۲،ص۹۸۲)

{9}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے خطبہ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی حمد وثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا:   ’’  سب سے اچھی بات اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی کتاب اور سب سے بہترہدایت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہدایت ہے اور سب سے برے کام نئے پیدا ہونے والے امور ہیں ۔ ‘‘    (صحیح مسلم، کتاب الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ الخ،الحدیث:  ۲۰۰۵،ص۸۱۳)

{10}…مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مجھے تم پر تمہارے سینوں اور شرم گاہوں کی ہلاکت خیز خواہشوں اور گمراہ کر دینے والی خواہشات کا خوف ہے۔ ‘‘   (المسندللامام احمد بن حنبل،الحدیث:  ۱۹۷۹۴،ج۷،ص۱۸۱)

{11}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ نئے پیدا ہونے والے امور سے بچتے رہو کیونکہ ہر نیا کام گمراہی ہے۔ ‘‘               (سنن ابی داؤد،کتاب السنۃ، باب فی لزوم السنۃ، الحدیث:  ۴۶۰۷،ص۱۵۶۱)

{12}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّہر بدعتی کی توبہ کو روک لیتا ہے یہاں تک کہ وہ اس بدعت کو چھوڑ دے۔ ‘‘                          (المعجم الاوسط،الحدیث: ۴۲۰۲،ج۳،ص۱۶۵)

 (سنن ابن ماجہ ، ابواب السنۃ، باب اجتناب البدعالخ،الحدیث: ۵۰،ص۲۴۸۰)

{13}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب تک بدعتی اپنی بدعت چھوڑ نہیں دیتا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کا عمل قبول کرنے سے انکارکردیتاہے۔ ‘‘  (سنن ابن ماجہ ، ابواب السنۃ، باب اجتناب البدع والجدل،الحدیث: ۵۰،ص۲۴۸۰)

{14}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّنہ تو کسی بدعتی کا روزہ، حج، عمرہ اور جہاد قبول کرتاہے اور نہ اس کی کوئی فرض یانفل عبادت قبول فرماتاہے بدعتی اسلام سے اس طرح نکل جاتاہے جیسے آٹے سے بال نکلتاہے۔ ‘‘             (المرجع السابق،الحدیث: ۴۹)

{15}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بے شک میں تمہارے درمیان ایسی روشن شریعت چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ جس کی راتیں دن کی طرح روشن ہیں ، اس سے وہی بھٹکے گا جو ہلاکت میں مبتلا ہو گا۔ ‘‘

 (السنۃلابن ابی عاصم،باب ذکرقول النبی عَلَیْہِ السَّلَام ترکتکم علی مثل البیضائ،الحدیث:  ۴۸،ص۱۸)

{16}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگارعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ ہر عمل کا جوش ہوتا ہے اور ہر جوش کی ایک اِنتہاء ہوتی ہے، تو جس کی اِنتہا میری سنت کی طرف ہو گی وہ ہدایت یافتہ ہو گا، اور جس کی اِنتہا دوسری جانب ہو گی تو وہ ہلاک ہو گا۔ ‘‘     (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند عبداللہ  بن عمروبن عاص، الحدیث:  ۶۹۷۶،ج۲،ص۶۶۱بتغیرٍقلیلٍ