Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{4}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے میرے  (وصال ظاہری کے) بعد میری کسی مٹی ہوئی سنت کو زندہ کیا تو اسے اس سنت پر عمل کرنے والوں کی مثل ثواب ملے گا اور ان عمل کرنے والوں کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی، اور جس نے گمراہی والی بدعت ایجاد کی جس سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّاور اس کا رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمراضی نہیں تو اسے اس پر عمل کرنے والوں جتنا گناہ ملے گا اور ان عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہو گی۔ ‘‘

 (جامع الترمذی، ابواب العلم، باب ماجاء فی الاخذبالسنۃالخ،الحدیث: ۲۶۷۷،ص۱۹۲۱)

{5}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے کسی شے کی طرف دعوت دی اسے قیامت کے دن اس کی دی ہوئی دعوت کے ساتھ اتنی دیرکھڑاکیاجائے گاجتنی دیر اس نے وہ دعوت دی ہو گی اگرچہ ایک شخص نے  ایک ہی شخص کودعوت دی ہو۔ ‘‘    (سنن ابن ماجہ ، ابواب السنۃ ، باب من سنۃ سنۃ حسنۃالخ،الحدیث:  ۲۰۸،ص۲۴۹۰)

{6}…حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ یہ بھلائی کے کام  (آخرت کے)  خزانے ہیں اور ان خزانوں کی کچھ کنجیاں بھی ہیں ، لہٰذا خوشخبری ہے اس بندے کے لئے جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّاچھائی وبھلائی کی کنجی اور برائی و شر کا تالا بنا دے اورہلاکت ہے اس بندے کے لئے جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے برائی کی کنجی اور بھلائی کا تالا بنا دیا ہو۔ ‘‘

 (المرجع السابق،باب من کان مفتاحاًللخیر،الحدیث:  ۲۳۸،ص۲۴۹۲)

تنبیہ:

                اس گناہ کو ان احادیثِ مبارکہ میں بیان کردہ سخت وعید کی بناء پر کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اور وہ وعید گناہوں کا

 دُگنا ہونا ہے۔ جو کہ عذاب کے اضافے کا سبب ہے، یہ اضافہ اتنا زیادہ ہو گا کہ حساب اسے شمار میں لانے سے عا جز ہو گا۔

سوال: اگر وہ رائج کردہ معصیت کبیرہ ہو تو بھی اسے کبیرہ گناہ کہنا درست نہیں ، اور اگر کبیرہ نہ ہو تو اسے کبیرہ گناہ کہنا اِشکال میں ڈالتا ہے۔

جواب: اسے کبیرہ گنا ہ پر محمول کرنا زیادہ مناسب ہے، اگرچہ میں نے کسی کواس بات کی صراحت کرتے ہوئے نہیں پایا کہ اگر اس نے صغیرہ گناہ رائج کیا تو اس کے کبیرہ ہونے میں کوئی اِشکال نہیں کیونکہ جب اس نے غیر کے لئے اس گناہ کو رائج کیا اور پھر اس میں اس کی پیروی بھی کی گئی تو یہ زیادہ برا ہو گیا اور اس کی سزا بھی دُگنی ہو گئی، اس بناء پر وہ کبیرہ گناہ کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہو گیا کیونکہ کبیرہ کا گناہ تو اس سے فارغ ہونے پر ختم ہو جاتا ہے لیکن اس طرح رائج کردہ گناہ ہمیشہ بڑھتا رہتا ہے، لہٰذا ثابت ہوا کہ ان دونوں صورتوں میں بہت فرق ہے، پھر میں نے بہت سے علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکو دیکھا کہ انہوں نے دین میں نئی بات کا اضافہ کرنے کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا اور اس صحیح حدیثِ پاک سے استدلال کیا کہ

{7}…اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جس نے  (دین میں )  کوئی نئی بات ایجاد کی اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس پر لعنت فرمائے۔ ‘‘

 ابن قیم   ([1])  سے منقول  ہے :  ’’ یہ لعنت اسی ایجاد شدہ بات کے مختلف ہونے سے مختلف ہو جاتی ہے، جب وہ بات بڑی ہو  تو گناہ بھی بڑا ہو جائے گا۔ ‘‘

                سیدناامام ذہبی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں یہ حدیث، ’’ جس نے گمراہی کی دعوت دی یا برا طریقہ رائج کیا  ‘‘  بھی اسی کی تائید کرتی ہے۔ اور اس میں ہماری بیان کردہ تفصیل کی تصریح موجود ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 کبیرہ نمبر51 :                                                   سنّت چھوڑدینا

{1}…حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ ایک فرض نماز اپنے بعد والی فرض نماز کے درمیان کے گناہوں کے لئے، ایک جمعہ اگلے جمعہ تک اور ایک  (ماہ) رمضان اگلے  (ماہ) رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ ‘‘  پھر اس کے بعد ارشاد فرمایا :  ’’ مگر یہ ا عمال تین گناہوں کو نہیں مٹاتے، وہ گناہ یہ ہیں :   (۱) اللہ  عَزَّ وَجَلَّکا شریک ٹھہرانا (۲) عہد توڑ دینااور  (۳) سنت چھوڑنا۔ ‘‘  ہم نے عرض کی :  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  شرک کو تو ہم نے جان لیا، عہد توڑنے اور سنت چھوڑنے سے کیا مراد ہے؟‘ ‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  عہد توڑنے سے مراد ہے کہ تم دائیں ہاتھ سے کسی کی بیعت کرو پھر اس کی مخالفت کر کے اپنی تلوار سے اسے قتل کر دو اور سنت چھوڑنے سے مراد جماعت سے نکلنا ہے۔ ‘‘

 (المستدرک،کتاب العلم، باب الصلوۃ المکتوبۃالخ،الحدیث: ۴۲۰،ج۱،ص۳۲۳)

                امام حاکم رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں :  ’’ یہ حدیثِ مبارکہ امام مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہے اگرچہ شیخین نے اس کو روایت نہیں کیا اور ابوداؤد اوراحمد کی یہ روایت بھی اس کی تائید کرتی ہے کہ،

{2}…نبی کریم ،رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے ایک بالشت بھر جماعت کو چھوڑا بے شک اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے اُتار دیا۔ ‘‘  (سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ ، باب فی الخوارج، الحدیث:  ۴۷۵۸،ص۱۵۷۳)

                حضرت جلال بلقینی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں :  ’’ اس سے مراد بدعت کے پیروکارہیں ، اللہ  عَزَّ وَجَلَّہمیں اس سے عافیت عطا فرمائے۔ ‘‘ آمین

{3}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے کوئی نیا کام ایجاد کیا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس پر لعنت فرمائے۔ ‘‘    (صحیح البخاری،کتاب فضائل مدینہ،باب حرم المدینۃ، الحدیث: ۱۸۶۷،ص۱۴۶،تقدماو تأخرا)

{4}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ چھ شخص ایسے ہیں جن پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّاور ہر مستجاب الدعوات نبی لعنت فرماتاہے:   (۱) اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی کتاب میں زیادتی



[1] ۔۔۔۔ابن قیم ابن تیمیہ کا شاگر د خاص تھا،ان دونوں کے بارے میں امام حافظ ابن حجر ہیتمی مکی شافعیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہاپنی کتاب فتاوی حدیثیہ میں فرماتے ہیں : ’’ابن تیمیہ اور اس کے شاگر دا بن قیم جوزیہ وغیرہ کی کتابوں میں جوکچھ خرافات ہیں ان سے خودکوبچا کررکھناکیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنالیااور اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے جان کر ان کوگمراہیت میں چھوڑ دیا اور ان کے کانوں اور دل پرمُہر لگادی اور(۔۔۔بقیہ حاشیہ) ان کی آنکھوں پر پر دہ ڈال دیاتو اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے سواکون ہے جوان کو ہدایت دے اور(افسوس)کیسے ان بے دینوں نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی حدود سے تجاوز کیا اوربدعتوں میں اضافہ کیا اور شریعت و حقیقت کی دیوار میں سوراخ کردیا۔ اوریہ سمجھ بیٹھے کہ ہم اپنے رب(عَزَّ وَجَلَّ ) کی طرف سے ہدایت پر ہیں جبکہ وہ ایسے نہیں ہیں بلکہ وہ توشدید گمراہی وگھٹیاعادات سے متصف ہیں اورانتہائی سخت سزاوخسارے کے مستحق ہیں اورانہوں نے جھوٹ و بہتان کی اِنتہاکردی ، اللہ  عَزَّ وَجَلَّان کے پیروکاروں کوذلیل ورسواکرے اور ان جیسوں کے وجودسے زمین کوپاک کرے ۔‘‘(آمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) (فتاوٰی الحدیثیہ ،ص ا

Total Pages: 320

Go To