Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں آمد ورفت رکھنے والے کی طرح ہے اور جس کا عمل اسے سست کر دے اس کا نسب اسے تیز نہیں کرسکتا۔ ‘‘                   (المعجم الکبیر،الحدیث: ۸۴۴،ج۲۲،ص۳۳۷،عالم بدلہ ’’ عبد ‘‘ )

{7}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب آدمی کا انتقال ہو جاتا ہے تو 3اعمال کے علاوہ اس کے تمام اعمال منقطع ہو جاتے ہیں :   (۱) صدقہ جاریہ  (۲) ایسا علم جس سے نفع اٹھایاجائے اور  (۳) نیک بچہ جو اس کے لئے دعا کرے۔ ‘‘                (صحیح مسلم،کتاب الوصیۃ ، باب مایلحق الانسانالخ،الحدیث: ۴۲۲۳،ص۹۶۳)

تنبیہ:

                ان دونوں کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنے کی وجہ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکی وہ صراحت ہے جو ان کے کلام سے ظاہر ہے بلکہ شیخ ابومحمد جوینی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں :  ’’ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر جھوٹ باندھنا کفر ہے۔ ‘‘  جبکہ بعض متاخرین علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے ایک گروہ کا خیال ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ یا اس کے رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر جھوٹ باندھنا ایسا کفر ہے، جو انسان کو ملتِ اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے اور بلاشبہ حرام کو حلا ل یا حلال کو حرام قرار دینے میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّیااس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر جھوٹ باندھنا کفرِ محض ہے، جبکہ ہمارا کلام تو حرام کو حلال یا حلال کو حرام ٹھہرانے کے علاوہ معاملہ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اوراس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر جھوٹ باندھنے کے بارے میں ہے۔

                حضرت سیدنا جلال بلقینی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں کہ بہت سی احادیثِ مبارکہ میں یہ وعید آئی ہے :  ’’ جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکا نا جہنم میں بنا لے۔ ‘‘  اور علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیارشاد فرماتے ہیں :  ’’ یہ حدیثِ مبارکہ حدِتواتر تک پہنچ چکی ہے۔ ‘‘

                سیدنا بزاررَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں :  ’’ محدثینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس حدیثِ مبارکہ کو تقریباً 40 صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  سے روایت کیا ہے۔ ‘‘  علامہ ابن صلاح رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں :  ’’ یہ حدیثِ مبارکہ حدِ تواتر تک پہنچ چکی ہے، 80کے لگ بھگ صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  کی ایک جماعت نے اسے روایت کیا ہے۔ ‘‘  

                حافظ عسقلانی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اس حدیثِ پاک کی اسناد کو ایک ضخیم جلد میں جمع کیااور ارشاد فرمایا :  ’’ 70سے زائد صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  اس حدیث کے راوی ہیں ۔ ‘‘  اور پھر ان کے راویوں میں عشرہ مبشرہ میں سے حضرت سیدنا عبدالرحمن بن  عوف رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے علاوہ 9صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  کے اسماء ذکر فرمائے، طبرانی اورابن مندہ نے اس کے راویوں کو 87 تک پہنچایا جن میں عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیں ۔

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر50:                                             برا طریقہ رائج کرنا

{1}…حضرت سیدنا جریررَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے روایت ہے کہ ہم دن کے ابتدائی حصہ میں دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضرِخدمت تھے کہ ایک برہنہ قوم حاضرہوئی، انہوں نے صرف اُون کی دھاری دار چادریں  (یعنی ان چادروں کو سر کی جگہ سے کاٹ کر بطورِ لباس اوڑھا ہو ا تھا)  یا پھر عبائیں پہن رکھی تھیں ، وہ سب کے سب بنی مضر سے تھے اور انہوں نے گلے میں تلواریں لٹکا رکھی تھیں ، ان کی فاقہ زدہ حالت دیکھ کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا چہرۂ اقدس متغیر ہو گیا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے دولت کدہ میں تشریف لے گئے، پھر جب باہرتشریف لائے تو حضرت سیدنا بلال رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کو اذان دینے کا حکم  فرمایا، انہوں نے اذان دی اور اقامت پڑھی، پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نماز پڑھائی اور خطبہ ارشادفرماتے ہوئے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:

یٰۤاَیُّهَا  النَّاسُ   اتَّقُوْا  رَبَّكُمُ  الَّذِیْ  خَلَقَكُمْ  مِّنْ  نَّفْسٍ  وَّاحِدَةٍ  وَّ  خَلَقَ  مِنْهَا  زَوْجَهَا  وَ  بَثَّ  مِنْهُمَا  رِجَالًا  كَثِیْرًا  وَّ  نِسَآءًۚ-وَ  اتَّقُوا  اللّٰهَ  الَّذِیْ  تَسَآءَلُوْنَ  بِهٖ  وَ  الْاَرْحَامَؕ-اِنَّ  اللّٰهَ  كَانَ  عَلَیْكُمْ  رَقِیْبًا (۱)   (پ۴، النسآء: ۱)

ترجمۂ کنز الایمان :  اے لوگواپنے رب سے ڈروجس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مردو عورت پھیلا دیئے اور اللہ  سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھوبے شک اللہ  ہروقت تمہیں دیکھ رہا ہے۔

 اورسورہ حشرکی یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ-  (پ۲۸، الحشر: ۱۸)

ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو! اللہ  سے ڈرواورہرجان دیکھے کہ کل کے لئے کیا آگے بھیجا۔

                پھر ارشاد فرمایا :  ’’ کوئی دینار، درہم، لباس اور گندم اور کھجوروں کے صاع میں سے صدقہ دے۔ ‘‘  یہاں تک کہ فرمایا:   ’’ اگرچہ ایک کھجور ہی صدقہ کرے۔ ‘‘  تو ایک انصاری ایک تھیلا لے کر حاضر ہوا، اس کا ہاتھ اسے اٹھا نہیں پا رہا تھا بلکہ وہ اسے  اٹھانے سے عاجز تھا، پھر لوگ لگاتار آنے لگے یہاں تک کہ میں نے لباس اور کپڑے کے دو ڈھیر دیکھے اور دیکھا کہ سرکارِ والا تَبار،بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا چہرۂ مبارک ایسے چمک اٹھا جیسے تیل لگا دیا گیا ہو ( یعنی جیسے چاندی پر سونے کا پانی چڑھا دیا گیا ہو یہ دونوں خوشی اورسرورکی شدت کی طرف اشارہ ہیں )  پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس نے اسلام میں اچھا طریقہ رائج کیا، اس کے لئے اسے رائج کرنے اور اپنے بعد اس پر عمل کرنے والوں کا ثواب ہے، اور ان عمل کرنے والوں کے ثواب میں سے بھی کچھ کم نہ ہوگا، جس نے اسلام میں برا طریقہ رائج کیا اس پر اس طریقہ کو رائج کرنے اور اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی۔ ‘‘   (صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ،باب الحث علی الصدقۃالخ،الحدیث:  ۲۳۵۱،ص۸۳۸)

{2}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس نے اچھا طریقہ جاری کیا، پھر وہ رائج ہو گیا تو اس کے لئے اس کا اپنا اجر اور اس طریقے کی پیروی کرنے والوں کا اجربھی ہے، نیز ان کے اجر میں بھی کوئی کمی نہ ہو گی، اور جس نے برا طریقہ جاری کیا پھر وہ رائج ہو گیا تو اس پر اپنا گناہ توہے ہی (ساتھ ہی ساتھ )  اس طریقے کی پیروی کرنے والوں کا گناہ بھی ملے گا، نیز ان پیروی کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہ ہو گی۔ ‘‘

 (مجمع الزوائد، کتاب العلم، باب فیمن سن خیراًالخ،الحدیث:  ۷۷۰،ج۱،ص۴۰۹)

{3}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے اچھا طریقہ جاری کیا اس کی زندگی اور موت کے بعدجب تک اس طریقے پر عمل کیا جاتا رہے گا اسے اس کا ثواب ملتا رہے گا، اور جس نے برا طریقہ جاری کیا جب تک اسے چھوڑ نہ دیا جائے اسے اس کا گناہ ملتا رہے گا، اور جو جہاد کرتے ہوئے مرے گا قیامت کے دن اٹھنے تک اسے مجاہد کا ثواب ملتا رہے گا۔ ‘‘                                 (المعجم الکبیر،الحدیث:  ۱۸۴،ج۲۲،۷۴)

 



Total Pages: 320

Go To