Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{26}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ عالم کی موت ایسی مصیبت ہے جس کا ازالہ نہیں ہو سکتا اور یہ ایسا خلا ہے جسے پر نہیں کیا جا سکتا گویا وہ ایک ستا رہ تھا جو ماند پڑ گیااورایک قبیلے کی موت عالمِ دین کی موت سے زیادہ ہلکی ہے۔ ‘‘   (شعب الایمان، باب فی طلب العلم،الحدیث:  ۱۶۹۹،ج۲،ص۲۶۴،تقدما تأخرا)

{27}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، باذنِ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس شخص کو خوشحال رکھے جس نے میرا کلام سنا پھر اسے یاد کر لیا اور جیسا سنا تھا ویسا ہی آگے پہنچا یا کیونکہ بسا اوقات علم کے حامل کچھ ا فراداپنے سے زیادہ فقیہ لوگوں تک علم پہنچاتے ہیں اور بسا اوقات علم کے حامل کچھ افرادفقیہ نہیں ہوتے۔ ‘‘

 (سنن ابن ماجہ ، ابواب السنۃ ، باب من بلغ علماء ،الحدیث:  ۲۳۶،ص۲۴۹۱،تقدما تأخرا)

{28}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ تین چیزیں ایسی ہیں جن میں کسی مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا:   (۱) اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے لئے اخلاص کے ساتھ عمل کرنا،  (۲) حکمران کی خیر خواہی اور  (۳) جماعت کا لازم پکڑنا، کیونکہ ان کی دُعا رائیگاں نہیں جاتی۔ ‘‘  (المستدرک،کتاب العلم،الحدیث: ۳۰۲،ج۱،ص۲۷۴، بتغیرٍ قلیلٍ)  

{29}…جبکہ ایک اور روایت میں ہے :  ’’ ان کی دعا ان کے بعد والوں کی حفا ظت کرتی ہے۔ ‘‘

 (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۵۴۱،ج۲،ص۱۲۶)

{30}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس کی نیت دنیا (کی طلب)  ہو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کے کام منتشر کر دیتا ہے اور اس کی تنگدستی اس کے سامنے کر دیتا ہے حالانکہ اسے دنیا سے وہی کچھ ملے گا جو اس کے لئے لکھا جا چکا ہے، اور جس کی نیت آخرت  (کی طلب) ہو اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس کے کام یکجا فرما دیتا ہے اور اس کے دل کو غنا سے بھر دیتا ہے اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے۔ ‘‘     (سنن ابن ماجہ ، ابواب الزھد ، باب الھم بالدنیا ،الحدیث:  ۴۱۰۵،ص۲۷۲۶)

{31}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے کسی بھلائی کی طرف رہنمائی کی اسے اس پر عمل کرنے والے جتنا ثواب ملے گا۔ ‘‘  (جامع الترمذی ، ابواب العلم،باب ماجاء فی ان الدال علی الخیرالخ،الحدیث: ۲۶۷۱،ص۱۹۲۱)

{32}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بھلائی کی رہنمائی کرنے والا اس بھلائی پر عمل کرنے والے کی طرح ہے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ مصیبت زدہ کی مدد کو پسند فرماتا ہے۔ ‘‘

 (مسند ابی یعلی، مسند انس بن مالک، الحدیث:  ۴۲۸۰،ج۳،ص۴۵۲)

{33}…حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے ہدایت کی طرف بلایا اسے اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں جتنا ثواب ملے گا اوران کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی۔ ‘‘

 (صحیح مسلم،کتاب العلم، باب من سن سنۃ حسنۃالخ،الحدیث:  ۶۸۰۴،ص۱۱۴۴)

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر48 / 49:  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اوراس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر جان بوجھ کر جھوٹ باندھنا

اللہ  عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے :

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌؕ-  (پ۲۴، الزمر: ۶۰)

ترجمۂ کنز الایمان : اورقیامت کے دن تم دیکھوگے انہیں جنہوں نے اللہ  پرجھوٹ باندھا کہ ان کے منہ کالے ہیں ۔

                حضرت سیدنا حسن بصری رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں :  ’’ ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر ہم چاہیں گے تو یہ کام کریں گے اور اگر چاہیں گے تو نہیں کریں گے۔ ‘‘

{1}…حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوبعَزَّ وَجَلَّ  و  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ ‘‘

 (صحیح البخاری، کتاب العلم، باب اثم من کذب الیالخ،الحدیث: ۱۱۰،ص۱۲)

                اس حدیثِ مبارکہ کی بہت سی صحیح اسنادہیں جو حدِ تواتر تک پہنچتی ہیں کیونکہ اس کا معنی قطعی طور پرثابت ہے اس لئے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف کوئی بات منسوب کرنے والے نے اگر جھوٹ نہ بولا تب تو واضح ہے کہ وہ سچا ہے، ورنہ بے شک اس نے دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر جھوٹ باندھا اور اس وعید کا مستحق ٹھہرا۔

{2}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے میری طرف منسوب کر کے کوئی بات بیان کی حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ جھوٹوں میں سے ایک ہے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، مقدمۃ الکتاب ،للامام مسلم، باب وجوب الروایۃالخ،ص۶۷۴)

{3}…خاتَمُ  الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مجھ پر جھوٹ باندھنا کسی اور پر جھوٹ باندھنے جیسا نہیں ، لہٰذا جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ ‘‘   (المرجع السابق، باب تغلیظ الکذبالخ،الحدیث:  ۵،ص۶۷۴)

{4}…ایک مرتبہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے دعا فرمائی  ’’ اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ

Total Pages: 320

Go To