Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

بہتر کون ہے؟ کیا ان لوگوں میں کوئی بھلائی ہے؟ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  وہ کون ہوں گے؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ وہ تم میں سے ہی ہوں گے اور وہی لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ ‘‘                                                                            (المعجم الکبیر،الحدیث: ۱۳۰۱۹،ج۱۲،ص۱۹۴)

{3}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو اپنے بارے میں کہے :   ’’ میں عالم ہوں تو وہ جاہل ہے۔ ‘‘                   (المعجم الاوسط،الحدیث: ۶۸۴۶،ج۵،ص۱۳۹)

تنبیہ:

                اس گناہ کو ان مذکورہ قیودات کی وجہ سے کبیرہ شمار کیاگیا ہے جو میں نے احادیثِ مبارکہ سے بیان کی ہیں ، اور علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے کلام کے قیاس کی رو سے بھی یہ بعید نہیں کیونکہ جب علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے تکبر کی وجہ سے ازار لٹکانے کو کبیرہ گناہ شمارکیا تو اس گناہ کا کبیرہ ہونا زیادہ اَوْلیٰ ہے کیونکہ یہ اس سے زیادہ قبیح اور فحش ہے، دیگر عبادات کو اس پر قیاس کرنا بھی دیگر قیودات کے ساتھ ظاہر ہے اور میں نے عنوان میں  ’’ ناحق اور بغیر ضرورت  ‘‘  کی قید کے ذریعے اس بات سے احتراز کیا ہے کہ اگر کوئی عالم ایسے شہرمیں جائے جہاں کے باسی اس کے علم اور اطاعت کو نہ جانتے ہوں تو اسے اس بات کا اختیار ہے کہ ان کے سامنے اس نیت سے اپنا علم وتقویٰ ظاہر کرے کہ وہ لوگ اسے قبول کر لیں اور اس سے نفع اٹھائیں ، اس کی مثال حضرت سیدنا  یوسف علی نبینا وعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ  کا یہ فرمان جسے قرآن پاک میں یوں بیان کیاگیاہے :

اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآىٕنِ الْاَرْضِۚ-اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ (۵۵)   (پ۱۳، یوسف: ۵۵)

ترجمۂ کنز الایمان : مجھے زمین کے خزانوں پرکردے بے شک میں حفا ظت والا علم والا ہوں ۔

                اسی طرح اگر کوئی جاہل یادشمنی رکھنے والا اس کے علم کا انکار کر دے تو اسے اس آیتِ مبارکہ سے استدلال کرتے ہوئے اپنے علم کے بارے میں بتانے کااختیار ہے تا کہ اس دشمنی رکھنے والے کی ناک خاک میں مل جائے اور لوگ اسے قبول کرتے ہوئے اس کے علوم سے نفع اٹھائیں ۔

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر47 :                       حقوق  ضائع کرنا اور انہیں ہلکا جاننا

{1}…حضرت سیدنا ابوامامہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے روایت ہے کہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ تین شخص ایسے ہیں جن کے حقوق کومنافق ہی ہلکا جانے گا:   (۱) جسے اسلام میں بڑھاپا آیا  (۲) عالمِ دین اور  (۳) انصاف پسند بادشاہ۔ ‘‘                        (المعجم الکبیر، الحدیث:  ۷۸۱۹،ج۸،ص۲۰۲)

{2}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے ہمارے بڑوں کی عزت نہ کی، ہمارے چھوٹوں پررحم نہ کیا اور ہمارے علماء  (کے حقوق)  نہ پہچانے وہ میری اُمت میں سے نہیں ۔ ‘‘

 (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند الانصار،الحدیث:  ۲۲۸۱۹،ج۸،ص۴۱۲)

{3}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کیا اور ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کی وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘‘   (جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ، باب ماجاء فی رحمۃ السیان،الحدیث: ۱۹۲۰،ص۱۸۴۵)

{4}…سرکارِمدینہ ،قرارِقلب وسینہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ علم سیکھو، علم کے لئے سکینہ  (یعنی اطمینان ) اور وقار سیکھو اور جس سے علم سیکھواس کے لئے تواضع اور عاجزی بھی کرو۔ ‘‘  (المعجم الاوسط،الحدیث: ۶۱۸۴،ج۴،ص۳۴۲)

{5}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے دعا مانگی  ’’ خدایا! میں وہ زمانہ نہ پاؤں یا  (اے میرے صحابہ)  تم وہ زمانہ نہ پاؤ کہ جس میں عالم کی پیروی اور حلیم  (یعنی بردبار) سے حیانہ کی جائے گی، اس زمانے کے لوگوں کے دل عجمیوں کے اور زبان عربوں کی ہو گی۔ ‘‘                               (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند الانصار،الحدیث:  ۲۲۹۴۲،ج۸،ص۴۴۳)

{6}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ برکت تمہارے اکابر کے ساتھ ہے۔ ‘‘                                 (المستدرک،کتاب الایمان،باب البرکۃ مع الاکابر،الحدیث: ۲۱۸،ج۱،ص۲۳۸)

{7}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، باذنِ پروردگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’  جوبڑے کی عزت نہ کرے، چھوٹے پر رحم نہ کرے، نیکی کا حکم نہ دے اوربرائی سے منع نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘‘

 (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند عبداللہ  بن عباس،الحدیث:  ۲۳۲۹،ج۱،ص۵۵۴)

{8}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس نے ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کیا اور ہمارے بڑوں کاحق نہ پہچانا وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘‘

 (جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ، باب ماجاء فی رحمۃ السیان،الحدیث: ۱۹۲۰،ص۱۸۴۵)

تنبیہ:

                مندرجہ بالا احادیث کے ظاہر کے اعتبار سے اسے گناہِ کبیرہ کہا گیا ہے اور یہ قیاس کے طور پر بعید بھی نہیں اگرچہ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس کا ذکر نہیں کیا کیونکہ جس طرح انہوں نے غیبت کے معاملہ میں علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیاور دیگر لوگوں میں تفریق کی ہے اسی طرح استخفاف یعنی حقوق کے ہلکا جاننے کے معاملہ میں بھی ان میں فرق ہے، عنقریب اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکو ایذا دینے کے بیان میں اس بارے میں صریح احادیث آئیں گی کیونکہ وہ حقیقتًاباعمل علما ء ہی ہیں ۔

 {9}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّجس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتاہے اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا فرماتاہے۔ ‘‘              (المعجم الکبیر،الحدیث:  ۸۷۵۶،ج۹،ص۱۵۱)

{10}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ

Total Pages: 320

Go To