Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

(البحرالزخار لمسند البزار، مسند معاذ بن جبل، الحدیث:  ۲۶۴۹،ج۷،ص۹۳)

{12}…رسولِ اکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ لوگوں کو علم سکھانے اور اپنے آپ کو بھول جانے والے کی مثال اس چراغ کی سی ہے جو لوگوں کو تو روشنی دیتاہے جبکہ اپنے آپ کو جلاتا ہے۔ ‘‘   (العجم الکبیر، الحدیث: ۱۶۸۱، ج۲،ص۱۶۶)

{13}…حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ ہر علم اپنے جاننے والے پر وبال ہے سوائے اس کے جو اس پر عمل کرے۔ ‘‘     (مجمع الزاوئد،کتاب العلم،باب من علم فلیعمل،الحدیث: ۷۴۹،ج۱،ص۴۰۳)

{14}…اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب  عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب اس عالم کو ہو گا جس کے علم نے اسے نفع نہ دیا ہو گا۔ ‘‘   (شعب الایمان،باب فی نشر العلم، الحدیث:  ۱۷۷۸،ج۲،ص۲۸۵)

{15}…حضرت سیدنا عمار بن یاسر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے اسلامی احکام سکھانے کے لئے قیس قبیلے کے ایک محلے میں بھیجا، میں جب وہاں پہنچا تو پتہ چلا کہ وہ لوگ جنگلی اونٹوں کی طرح نظریں بلند رکھنے والے تھے، ان کی فکروں اور سوچوں کا محور صرف بکریاں اور اونٹ تھے، تو میں دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ عالیشان میں لوٹ آیا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استفسار فرمایا :  ’’ اے عمار!  تم نے کیا کیا؟ ‘‘  تومیں نے اس قوم کی حالت اور غفلت بھی بیان کر دی، توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ اے عمار!  کیا میں تمہیں ان سے بھی زیادہ تعجب انگیز لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ قوم جو ایسی تمام باتیں جانتی تھی جن سے یہ لوگ ناواقف ہیں لیکن پھر بھی وہ ان کی طرح غافل ہو گئی۔ ‘‘     (مجمع الزاوئد،کتاب العلم، باب لم ینتفع بعلمہ،الحدیث:  ۸۷۳،ج۱،ص۴۴۱)

{16}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مجھے اپنی اُمت  کے کسی مؤمن یا مشرک کے بارے میں اندیشہ نہیں ، مؤمن کی حفاظت تو اس کا ایمان کرے گا جبکہ مشرک کا کفر ہی اسے ذلیل ورسوا کر ے گا مگر مجھے تم پر زبان کے تیزطراز (  یعنی گھما پھرا کر باتیں کرکے دھوکا دینے والے)  منافق کاخوف ہے جو باتیں ایسی کرے گا جنہیں تم پسند کرو گے اورعمل ایسے کرے گا جنہیں تم ناپسند کرو گے۔ ‘‘                                                 (المعجم الاوسط،الحدیث: ۷۰۶۵،ج۵،ص۲۰۰)

{17}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مجھے اپنے بعد تم پر ہر اس منافق کا خوف ہے جو ( گُھما پھرا کر) گفتگوکرنے کا ماہر ہو ۔ ‘‘                                                  (المعجم الکبیر،الحدیث: ۵۹۳،ج۱۸،ص۲۳۷)

{18}…سیِّدُ المبلّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مجھے گمان ہے کہ آدمی اپنے کسی معلوم گناہ کی وجہ سے اسی طرح علم بھول جاتاہے جیسے اسے یاد کرتا ہے۔ ‘‘

 (الترغیب والترہیب، کتاب العلم، باب الترہیب من ان یعلم ولا بعملالخ،الحدیث:  ۲۲۷،ج۱،ص۹۵)

{19}…منصوربن زاذان رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے خبرملی ہے :  ’’ جہنم میں کچھ ایسے لوگ داخل کئے جائیں گے جن کی بدبو سے دیگر جہنمیوں کوایذاء پہنچے گی تو اس جہنمی سے پوچھا جائے گا تیرا ستیا ناس ہو تو کون سا عمل کرتا تھا؟کیا ہم پر پہلے کم بلائیں تھیں کہ تو نے مزید اپنی بدبو میں بھی پھنسا دیا؟ ‘‘  تو وہ کہے گا :  ’’ میں عالم تھا مگر میں نے اپنے علم سے نفع حاصل نہیں کیا۔ ‘‘

 (شعب الایمان،باب فی نشر العلم، الحدیث: ۱۸۹۹،ج۲،ص۳۰۹،ریحک بدلہ ’’ رائحتک ‘‘ )

تنبیہ:

                ان احادیثِ مبارکہ سے ظاہرشدیدوعیدوں کی بناء پر اس گناہ کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔

سوال: وعید کی شدت تو اسی وقت ہو گی جب کوئی شخص واجبات کو ترک کرے یا حرام کام کا ارتکاب کرے، علم پر مطلق عمل نہ کرنا مراد نہیں ، اگرچہ مستحبات کا ترک اور مکروہات پر عمل ہو۔ اس صورت میں اگر اُن کا یہ بیان مان لیا جائے کہ علم پر عمل نہ کرنا کبیرہ گناہ ہے تو پھر اسے ایک الگ کبیرہ گناہ شمار کرنا درست نہ ہو گا جیسا کہ فرض نماز کو ترک کرنا وغیرہ بھی ایک کبیرہ گناہ ہے اور  (ان شاء اللہ  عَزَّ وَجَلَّ) ایسے گناہوں کا بیان آگے آئے گا۔

جواب: اس کی توجیہ ممکن ہے اگرچہ میں نے کسی کواس بات کی وضاحت کرتے ہوئے نہیں پایا کہ علم ہونے کے باوجود گناہ کرنا جہالت میں گناہ کرنے سے زیادہ برا ہے جیسا کہ احادیثِ مبارکہ بھی اس کی تائید کرتی ہیں ۔نیزحرمِ مکہ میں گناہ کے بیان میں اس کی نظیرآئے گی کیونکہ مکہ مکرمہ کا شرف ومرتبہ اسی بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس میں کیا جانے والا گناہ زیادہ فحش ہو، اگرچہ وہ گناہ صغیرہ ہی کیوں نہ ہو۔ لہٰذا عالم جب صغیرہ گناہوں میں مبتلا ہو تو وہ بھی باقی افراد کے صغیرہ گناہوں سے زیادہ فحش شمار کیا جائے گا اور یہ بات بعید بھی نہیں کیونکہ اس کا یہ صغیرہ گناہ ایک واسطے سے کبیرہ ہی بن جاتا ہے وہ اس طرح کہ وہ ان علوم و معارف کوجانتا ہے جو اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ وہ مکروہات سے بھی رک جائے چہ جائیکہ محرمات کا ارتکاب کرے۔

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر46:               ضرورت نہ ہونے کے باوجود محض فخرکی بنا

                    پرعلم،  عبادات یا قرآن فہمی کا دعوی کرنا

{1}…حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  سے مروی ہے کہ شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اسلا م غالب ہو گا یہاں تک کہ تاجر لوگ سمندر میں کثرت سے سفر کریں گے اورراہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  میں گھوڑے کُلیلیں کریں گے (یعنی خوشی سے دائیں بائیں جانب اچھلتے کودتے پھریں گے)  پھر قرآن پڑھنے والی ایک قوم ظاہر ہو گی ، وہ کہیں گے ہم سے بڑا قاری کون ہے؟ ہم سے بڑا عالم کون ہے؟ ہم سے بڑا فقیہ کون ہے؟ ‘‘ پھرآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  کو مخاطب کر کے استفسار فرمایا :  ’’ کیا ان لوگوں میں کوئی بھلائی ہے؟ ‘‘  تو صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی  ’’ اللّٰہ اوراس کارسول عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی بہتر جانتے ہیں ۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ وہ لوگ تم میں سے ہی ہوں گے اور وہی جہنم کا ایندھن ہیں ۔ ‘‘       (المعجم الاوسط،الحدیث: ۶۲۴۲،ج۴،ص۳۶۰)

{2}…حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہمَا  سے مروی ہے، تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک رات مکہ مکرمہ میں کھڑے ہو کر تین مرتبہ ارشاد فرمایا :  ’’ اے اللّٰہعَزَّ وَجَلَّ !  کیا میں نے تیرا پیغام نہیں پہنچایا ؟ ‘‘  تو حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کھڑے ہوگئے چونکہ آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  بے حد درد مند تھے لہٰذا عرض کی  ’’ جی ہاں !  آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے