Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{1}…حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس سے علم کی کوئی بات پوچھی گئی اور اس نے اسے چھپایا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّقیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائے گا۔ ‘‘   (سنن ابن ماجہ،ابواب الطھارۃ، باب من سئل من علم فکتمہ ،الحدیث: ۲۶۴،ص۲۴۹۳)

{2}… سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو شخص کسی علم کو زبانی یاد کرے اور پھر اسے لوگوں سے چھپائے تو وہ قیامت کے دن آگ کی لگام پہن کرآئے گا۔ ‘‘

 (سنن ابن ماجہ،ابواب الطھارۃ ، باب من سئل من علم فکتمہ ،الحدیث: ۲۶۱،ص۲۴۹۳)

{3}…نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس سے علم کی بات پوچھی گئی اور اس نے اسے چھپا لیا تووہ قیامت کے دن آگ کی لگام پہن کر آئے گا اور جس نے قرآن پاک میں اپنے علم کے بغیر کلام کیا وہ بھی قیامت کے دن آگ کی لگام پہن کر آئے گا۔ ‘‘   (مسند ابی یعلی، مسند ابن عباس، الحدیث:  ۲۵۷۸،ج۲،ص۵۰۰)

{4}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جس نے علم چھپایا اللہ  عَزَّ وَجَلَّاسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائے گا۔ ‘‘   (المستدرک،کتاب العلم، باب من سئل عن علم الخ،الحدیث: ۳۵۲،ج۱،ص۲۹۷)

                صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  کی ایک جماعت مثلا ًحضرت سیدنا جابر، حضرت سیدنا انس، حضرت سیدنا ابن عمر، حضرت سیدنا ابن مسعود، حضرت سیدنا عَمْرُو بْنُ عَنْبَسَہ اور حضرت سیدنا علی بن طلق وغیرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ م سے یہ حدیثِ مبارکہ مروی ہے جبکہ حضرت سیدنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کی روایت میں یہ اضافہ ہے :  ’’ جس سے علم کی ایسی بات پوچھی گئی جس کے ذریعے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ لوگوں کو دینی معاملہ میں نفع پہنچاتا ہے۔ ‘‘  (سنن ابن ماجہ، ابواب السنۃ ، باب من سئل من علم فکتمہ ،الحدیث: ۲۶۵،ص۲۴۹۳)

{5}…حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب اس اُمت کے لوگ اگلوں پر لعنت کرنے لگیں اس وقت جو ایک حدیث چھپائے تو گویا اس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا نازل کردہ حکم چھپایا۔ ‘‘

 (سنن ابن ماجہ، ابواب الطھارۃ، باب من سئل من علم فکتمہ ،الحدیث: ۲۶۳،ص۲۴۹۳)

{6}…اللّٰہکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب  عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ علم حاصل کرنے کے بعد اسے بیان نہ کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جوخزانہ جمع کرتاہے پھراس میں سے کچھ بھی خرچ نہیں کرتا۔ ‘‘

 (المعجم الاوسط،الحدیث ۶۸۹،ج۱،ص۲۰۴)

{7}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ علم کے معاملہ میں ایک دوسرے کی خیرخواہی چاہوکیونکہ تم میں سے کسی کا اپنے علم میں خیانت کرنا اپنے مال میں خیانت کرنے سے زیادہ سخت ہے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تم سے اس کے بارے میں ضرورپوچھ گُچھ فرمائے گا۔ ‘‘   (المعجم الکبیر،الحدیث۱۱۷۰۱،ج۱۱،ص۲۱۵)

{8}…ایک دن دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خطبہ ارشا د فرمایا اور مسلمانوں کے کچھ گروہوں کی تعریف فرمائی، پھر ارشاد فرمایا :  ’’ ان لوگوں کا کیا حال ہے جو اپنے پڑوسیوں کو نہیں سمجھاتے نہ سکھاتے ، نہ نیکی کی دعوت دیتے اور نہ ہی برائی سے منع کرتے ہیں ، اور ان لوگوں کا کیا حال ہے جو اپنے پڑوسیوں سے نہیں سیکھتے، نہ ان سے سمجھتے اور نہ ہی نصیحت طلب کرتے ہیں ، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!  چاہئے کہ ایک قوم اپنے پڑوسیوں کو ضرور دین سکھائے ، سمجھائے، نصیحت کرے اور نیکی کی دعوت دے، اسی طرح دوسری قوم کو چاہئے کہ اپنے پڑوسیوں سے دین سیکھے، سمجھے اور نصیحت حاصل کرے ورنہ جلد ہی انہیں اس کا انجام بھگتنا پڑے گا۔ ‘‘

پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممنبر شریف سے نیچے تشریف لے آئے، تو صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے  (ایک دوسرے سے)  استفسار فرمایا کہ  ’’ آپ کے خیال میں رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان لوگوں سے کون سے لوگ مرادلئے ہیں ؟ ‘‘  تو دوسروں نے انہیں بتایا :  ’’ ان سے مراد اَشعری قبیلہ والے ہیں کیونکہ وہ فقہاء کی قوم ہے اور ان کے پڑوسی جفاکار اعرابی ہیں ۔ ‘‘

                 جب یہ بات اشعریوں تک پہنچی تو وہ خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضرہوئے اور عرض کی:   ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک قوم کی بھلائی اور ایک کی برائی کا ذکر فرمایا، ہم ان میں سے کس میں ہیں ؟ ‘‘  توآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ چاہئے کہ ایک قوم اپنے پڑوسیوں کو ضرور دین سکھائے، انہیں سمجھائے، نصیحت کرے، نیکی کی دعوت دے اور برائی سے منع کرے، اسی طرح دوسری قوم کو چاہئے کہ اپنے پڑوسیوں سے دین سیکھے، سمجھے اور ان سے نصیحت طلب کرے ورنہ جلد دنیا میں ہی اس کا انجام بھگتے گی۔ ‘‘  انہوں نے دوبارہ عرض کی  ’’ یا رسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  کیا ہم دوسرے لوگوں کو نصیحت کریں ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہی بات دہرائی، انہوں نے پھر یہی عرض کی  ’’ کیا ہم دوسروں کونصیحت کریں ۔ ‘‘  تو شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ ہاں ایسا ہی ہے۔ ‘‘  انہوں نے پھر عرض کی  ’’ ہمیں ایک سال کی مہلت دیجئے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں ایک سال کی مہلت عطا فرما دی تا کہ یہ لوگوں کو دین سکھائیں اور نصیحت کریں ، پھرآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:  

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَؕ-ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ (۷۸)  

 (پ۶، المآئدۃ: ۷۸)

ترجمۂ کنز الایمان : لعنت کئے گئے وہ جنہوں نے کفرکیا بنی اسرائیل میں داؤد اورعیسٰی بن مریم کی زبان پریہ بدلہ ان کی نافرمانی اورسرکشی کا۔  (مجمع الزوائد،کتاب العلم ،باب فی تعلیم من لایعلم ،الحدیث۷۴۸،ج۱،ص۴۰۲،انغظ بدلہ ’’ انفطن ‘‘  )

تنبیہ:

                بہت سے متا ٔخرین علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے اس کے کبیرہ گناہ ہونے کی صراحت کی ہے اس لئے اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا شاید کہ ان کے پیش نظر بھی میری بیان کردہ سخت وعید پرمبنی روایات ہی ہیں حالانکہ یہ وعید مطلق نہیں کیونکہ علم چھپانا کبھی واجب ہوتا ہے، کبھی اس کا اظہار واجب ہوتاہے اور کبھی مستحب، مثلاً طالبِ علم کی عقل جس بات کی متحمل نہ ہو اور کسی عالم کو اس بات کا خوف ہو کہ اگر اسے یہ بات بتائی گئی تو یہ فتنہ میں مبتلا ہو جائے گا تو ایسی صورت میں علم چھپانا واجب ہے اور بصورت  دیگر یعنی اس کے علاوہ دوسرے افراد ہوں تو اب اگر وہ بات فرضِ عین ہو یا اس کے حکم کا تعلق ان سے ہو تو اس کو ظاہرکرنا واجب ہے وگرنہ اس کا اظہار مستحب ہے جب تک کہ اس کا حصول کسی ناجائز ذریعہ سے نہ ہو۔

                حاصل کلام یہ ہے کہ علم سکھانا چونکہ علم کا وسیلہ ہے پس واجب کے معاملہ میں علم کا اظہار واجب، فرضِ عین کے معاملہ میں فرضِ عین، فرضِ کفایہ کا علم سکھا نا فرضِ کفایہ، مستحب کا علم سکھانا مستحب ہے جیسے عروض وغیرہ کا علم اور اسی طرح حرام چیز کا علم سکھانا بھی حرام ہے جیسے جادو اور شعبدہ بازی وغیرہ۔

                بعض مفسرینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیارشاد فرماتے ہیں :  ’’ کافر کو قرآن پاک سکھانا جائز نہیں اور نہ ہی کوئی دینی علم سکھانا جائزہے یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو جائے، اسی طرح اہلِ حق سے مناظرہ کرنے



Total Pages: 320

Go To