Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

{10}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ایک بندے کوجہنم میں ڈالنے کا حکم دیا جب وہ جہنم کے کنارے پرپہنچا تواللہ  عَزَّ وَجَلَّکی طرف متوجہ ہوکرعرض کرنے لگا:   ’’ یا رب عَزَّ وَجَلَّ !  تیری قسم!  میں تو تیرے ساتھ اچھا گمان رکھتا تھا۔ ‘‘ تواللہ  عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا :  ’’ اسے لوٹا دو کیونکہ میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق ہی معاملہ کرتا ہوں ۔ ‘‘  (شعب الایمان، باب فی عیادۃ المریض، فصل فی آداب العیادۃ،الحدیث: ۹۲۳۶،ج۶،ص۵۴۶)

{11}…رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّسے اچھا گمان رکھنا سب سے افضل عبادت ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اپنے بندے سے ارشاد فرمائے گا کہ میں تیرے ساتھ تیرے گمان کے مطابق معاملہ کروں گا۔ ‘‘

 (جامع الاحادیث، الحدیث: ۴۹۵۶،ج۲،ص۲۱۷)

تنبیہ:

                اس گناہ کو اس کے بارے میں وارد سخت وعید کی بناء پر کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اوروہ وعید آپ جان چکے ہیں بلکہ بیشتراحادیثِ مبارکہ میں اس بات کی تصریح گزر چکی ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے مایوس ہونا کبیرہ گناہ ہے یہاں تک کہ  حضرت سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  کی روایت میں اسے اکبر الکبائر بھی کہا گیا ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر41:                                    اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے بُرا گمان رکھنا

کبیرہ نمبر42:                رحمتِ اِلٰہی عَزَّ وَجَلَّ  سے ناامید ہونا

اللہ  عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتاہے

وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ (۵۶)   (پ۱۴، الحجر: ۵۶)

 

ترجمۂ کنزالایمان: اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہومگروہی جوگمراہ ہوئے۔

{1}… حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّسے برا گمان رکھنا سب سے بڑا گناہ ہے۔ ‘‘                          (فردوس الاخبارللدیلمی، با ب الالف ، الحدیث:  ۱۴۷۲،ج۱،ص۲۱۱)

تنبیہ:

                ان دونوں گناہوں کواللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے مایوس ہونے سے علیحدہ کبیرہ گناہ شمارکرنا دراصل علامہ جلال بلقینی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکی اتبا ع میں ہے، گویا انہوں نے ان تینوں کے درمیان کے تلازم کو نظر انداز کر دیا، اسی لئے سیدنا ابو ذرعہرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہنے یاْس یعنی مایوسی کا معنی قنوط یعنی ناامیدی بتایا، اور ظاہربھی یہی ہے کہ قنوط، یاْسسے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے اس فرمان عالیشان:

وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَــٴُـوْسٌ قَنُوْطٌ (۴۹)   (پ۲۵، حٰمٓ السجدۃ: ۴۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اورکوئی بُرائی پہنچے توناامید آس ٹوٹا۔

میں اسے  یاْس کے بعد ذکر فرمایا ہے، اوریہ بھی ظاہرہے کہ بدگمانی ان دونوں سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ بدگمانی مایوسی اور ناامیدی  کے ساتھ ساتھ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ایسی صفت کی زیادتی کو کہتے ہیں جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے جود وکرم کے لائق نہ ہو اور تفسیر ابن منذرمیں حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللّٰہُ َتعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے :  ’’ سب سے بڑا گناہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیرسے بے خوف اوراُس کی رحمت سے مایوس اورنااُمید ہونا ہے۔ ‘‘   (کنزالعمال،کتاب الاذکار،قسم الافعال، سورۃ النسائ، الحدیث: ۴۳۲۲،ج۲،ص۸۶۷)

                 تفسیر ابن جریر میں حضرت سیدنا ابو سعید رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے بھی اسی طرح کا ایک قول مروی ہے۔

وسوسہ: یہ بات ہمارے ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیکے اس قول کے منافی ہے جس میں انہوں نے ارشاد فرمایا ہے :  ’’ مریض کے لئے اللہ  عَزَّ وَجَلَّسے اچھا گمان رکھنا مستحب ہے۔ ‘‘  اورایک قول یہ ہے کہ ’’ خوف کو اُمید پر غالب رکھنا بہتر ہے۔ ‘‘  جبکہ سیدنا امام غزالی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے ہیں :  ’’ اگر بندہ نااُمیدی کی بیماری سے امن میں ہو تو امید رکھنا بہتر ہے اور اگر خفیہ تدبیر سے بے خوف ہو تو خوف رکھنا بہترہے۔ ‘‘

جواب: یہاں دو مقامات پر کلام ہے،

 (۱) …ایک شخص کو رحمت اور عذاب دونوں کی امید ہے یہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ارشاد فرمایا :   ’’ اگر مریض ہے تو امید کی جانب کو غلبہ دینا مستحب ہے اور اگر تندرست ہے تو اس میں اختلاف ہے۔ ‘‘  جیسا کہ آپ جان چکے ہیں ۔

 (۲) …ایک شخص مسلمان ہونے کے باوجود رحمت کی انواع سے مایوس ہے یہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں یہاں گفتگو ہو رہی ہے، یہی مایوسی بالاتفاق کبیرہ گناہ ہے۔کیونکہ یہ ان نصوصِ قطعیہ کی تکذیب کو لازم ہے جن کی طرف ہم اشارہ کر چکے ہیں ۔ پھر اس مایوسی سے کبھی اس سے بھی سخت حالت مل جاتی ہے اور وہ یہ کہ رحمت نہ ہو نے کا یقین کر لینا اور (فَھُوَیَؤسٌ قَنُوْطٌ)  کا سیاق اسی پردلالت کرتا ہے اورکبھی یہ مایوسی رحمت نہ ہونے کے یقین کے ساتھ ساتھ کافروں کی طرح سخت عذاب کے یقین کے ساتھ مل جاتی ہے اور یہاں بدگمانی سے یہی اعتقاد مراد ہے اس میں خوب غور کرنا چاہئے کیونکہ یہ نہایت اہم ہے۔

 

 

 

٭٭٭٭٭٭

 



Total Pages: 320

Go To