Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

اِنَّهٗ لَا یَایْــٴَـسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ (۸۷)   (پ۱۳، یوسف: ۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: بے شک اللہ  کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگرکافرلوگ۔

 {۲}

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-  (پ۵، النساء: ۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: بے شک اللہ  اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفرکیا جائے اورکفرسے نیچے جوکچھ ہے جسے چاہے معا ف فرمادیتاہے۔

{۳}

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (۵۳)   (پ۲۴، الزمر: ۵۳)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤاے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پرزیادتی کی اللہ  کی رحمت سے ناامید نہ ہوبے شک اللہ  سب گناہ بخش دیتاہے۔

{۴}

وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍؕ-  (پ۹، الاعراف: ۱۵۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اورمیری رحمت ہرچیز کوگھیرے ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں رحمتِ خدا وندی عَزَّ وَجَلَّ  کا بیان

{1}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی سورحمتیں ہیں ان میں سے ہر رحمت زمین وآسمان کے درمیان کی ہرچیز کو ڈھانپ سکتی ہے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے ان میں سے ایک رحمت نازل فرما کر جن وانس اورجانوروں میں تقسیم فرما دیا، اسی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر مہربانی اور رحم کرتے ہیں ، اسی وجہ سے پرندے اوروحشی جانور اپنی اولاد پر مہربانی کرتے ہیں اورباقی 99 رحمتوں کے ذریعے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ  تعالیٰ وانھاتغلب غضبہ، الحدیث:  ۶۹۷۴،۶۹۷۷ص۱۱۵۵)

{2}…حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے مروی ہے میں نے مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :  ’’ اے فرزندِ آدم!  تو جب تک مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا میں تجھ سے سرزد ہونے والے گناہوں کو مٹاتا رہوں گا اورمجھے کوئی پرواہ نہیں ، اے ابنِ آدم!  اگرتیرے گناہ آسمان کی بلندیوں کو پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرے تومیں تجھے بخش دوں ، اے ابنِ آدم!  اگر تو میرے پاس زمین کے برابر بھی گناہ لے کر آئے اور مجھ سے اس حال میں ملے کہ تو نے کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرایا ہو تو میں تجھے زمین کے برابر مغفرت عطا فرماؤں گا۔ ‘‘

 (جامع الترمذی، ابواب الدعوات،باب الحدیث القدسی، یاابن آدم، الحدیث: ۳۵۴۰،ص۲۰۱۶)

{3}…حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیتعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک نوجوان کے پاس تشریف لے گئے جس پر نزع کا عالم طاری تھا، شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے دریافت فرمایا کیسا محسوس کر رہے ہو؟ ‘‘  اس نے عرض کی  ’’ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے امید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں پر خوفزدہ ہوں ۔ ‘‘  تو صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ ایسے وقت میں جب بندے کے دل میں یہ دو چیزیں جمع ہو جائیں تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّاس کی اُمید پوری فرمادیتا ہے اوراس کے خوف سے اسے امن عطا فرماتا ہے۔ ‘‘

 (جامع الترمذی، ابواب الجنائز، باب الرجاء باللہ  والخوفالخ، الحدیث: ۹۸۳،ص۱۷۴۵)

{4}…نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتاؤں کہ قیامت کے دن اللہ  عَزَّ وَجَلَّسب سے پہلے مؤمنین سے کیا فرمائے گا اورمؤمنین اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی بارگا ہ میں کیا عرض کریں گے؟ ‘‘  ہم نے عرض کی  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّو صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہمیں ضروربتایئے۔ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّمؤمنین سے استفسار فرمائے گا :  ’’ کیا تم مجھ سے ملاقات کرنا پسند کرتے تھے؟ ‘‘  وہ عرض کریں گے جی ہاں !  اے ہمارے رب عَزَّ وَجَلَّ !  ‘‘  تو وہ دوبارہ ان سے دریافت کرے گا ،کیوں ؟ ‘‘  مؤمنین عرض کریں گے  ’’ ہم تجھ سے عفواور مغفرت کی اُمید رکھتے تھے۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّارشاد فرمائے  گا:  ’’ تو پھر تمہاری بخشش میرے ذمۂ کرم پر ہے ۔ ‘‘  (المسندللامام احمدبن حنبل،مسند الانصار،الحدیث: ۲۲۱۳۳،ج۸،ص۲۴۹)

اللہ  تعالیٰ بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق سلوک کرتا ہے :

{5}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :  ’’ میں اپنے بندے کے اس گمان کے مطابق ہوتا ہوں جو وہ مجھ سے رکھتا ہے اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ۔ ‘‘

 (صحیح البخاری،کتاب التوحید، باب قول اللہ  تعالیٰ ویحذرکم اللہ الخ،الحدیث: ۷۴۰۵،ص۶۱۶)

{6}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ حسن ظن ایک اچھی عبادت ہے۔ ‘‘

 (سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی حسن الظن، الحدیث: ۴۹۹۳،ص۱۵۸۸)

{7}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، باذنِ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّسے اچھا گمان رکھنا اچھی عبادت میں سے ہے۔ ‘‘  (المسندللامام احمد بن حنبل،مسندابی ہریرۃ،الحدیث: ۷۹۶۱،ج۳،ص۱۵۵)

{8}…حضرت سیدنا جابر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصالِ ظاہری سے تین دن پہلے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا :  ’’ تم میں سے ہر ایک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے اچھا گمان رکھتے ہوئے ہی مرے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب الجنۃ ونعیمھاالخ،باب الامربحسن الظن باللہ  الخ،الحدیث: ۷۲۳۱