Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

پر بھی قدرت نہیں پاتا اور نہ ہی میرے دل میں اس کا خیال آتا ہے۔ ‘‘  اس شخص کا بیان ہے  ’’ پھر میں تھوڑے ہی عرصے کے بعد وہاں سے گزرا تو میں نے اسے نزع کے عالم میں پایا، اس کاچہرہ مشرق کی طرف تھا میں جب بھی اسے قبلہ کی طرف پھیرتا تو وہ پھرمشرق کی طرف پھر جاتا اور روح نکلنے تک ایسے ہی رہا۔ ‘‘

                مصر میں ایک مؤذن تھا، وہ بہت نیک سمجھا جاتا تھا، ایک مرتبہ اس نے منارے سے ایک نصرانی عورت کو دیکھا تو اس کے فتنے میں مبتلا ہو گیا، وہ اس کی طرف گیاتو اس نے زنا پر راضی ہونے سے انکار کر دیا، اس نے کہامیں نکاح کرنا چاہتا ہوں ، عورت نے جواب دیاتو مسلمان ہے اور میرا باپ تجھ سے میرے نکاح پر راضی نہ ہو گا۔ ‘‘  اس نے کہا:  ’’ میں نصرانی ہو جاتا ہوں ۔ ‘‘  عورت نے کہا:  ’’ پھر تو میرا باپ راضی ہو جائے گا۔ ‘‘  وہ نصرانی ہو گیا اور نصرانیوں نے اس کے ساتھ وعدہ کر لیا کہ وہ اس کا نکاح اس عورت سے کر دیں گے، اسی اثنا میں ایک دن وہ کسی کام سے چھت پر چڑھا تو اس کا قدم پھسلا اور وہ گر کر مر گیا نہ اپنا دین بچا سکا اور نہ ہی اس عورت کو پا سکا۔

                ہم اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیرسے اس کی پناہ چاہتے ہیں اور اسی سے اس کی پناہ چاہتے ہیں اور اس کی سزاکے بدلے اس                کاعفو اور ناراضگی کے بدلے اس کی رضاچاہتے ہیں ۔ آمین!

                اسی لئے علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے ارشاد فرمایاکہ جب ہدایت پھیر دی گئی ہو اور استقامت اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی مشیت پر موقوف ہو، انجام کارمخفی ہو، ارادہ نا معلوم ہو اور نہ ہی کوئی اس پرغالب آسکے تو اپنے ایمان، نماز اور دیگرنیکیوں پر خوشیاں مت مناؤ کیونکہ یہ محض تمہارے رب عَزَّ وَجَلَّ  کے فضل وکرم سے ہیں ، کہیں وہ تم سے انہیں چھین نہ لے اور تم ایسی جگہ ندامت کی اتھاہ گہرائی میں نہ جا گرو جہاں ندامت بھی نفع نہ دے ۔

 تنبیہ:

                اس گناہ کے بارے میں آنے والی شدید وعید کی بناپراسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیاہے، بلکہ حدیثِ مبارکہ میں اسے اکبر الکبائر (یعنی سب سے بڑا)  گناہ کہا گیا ہے۔

{10}… تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے دریافت کیا گیا کبیرہ گناہ کون سے ہیں ؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکا شریک ٹھہرانا، اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے مایوس ہونا اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیرسے بے خوف ہونا اور یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ ‘‘   (المعجم الکبیر،الحدیث: ۸۷۸۴،ج۹،ص۱۵۶)

                اس روایت کے بارے میں زیادہ شبہ تو یہ ہے کہ یہ موقوف ہے کیونکہ اسی گناہ کے اکبر الکبائر ہونے کی صراحت حضرت سیدناابن مسعود رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  سے بھی مروی ہے جیسا کہ امام عبد الرزاق اور امام طبرانیرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہمانے ان سے حدیث روایت کرتے ہوئے نقل کیاہے۔

 فائدہ:  ان آیات میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے لئے  ’’ مکر ‘‘  کا لفظ استعمال ہوا ہے، حالانکہ اس کا حقیقی معنی اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے لئے محال ہے، جبکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کایہ فرمان عالیشان تقابل کے باب سے ہے یعنی

 {۱}

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُؕ-وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ (۵۴)   (پ۳، اٰل عمران: ۵۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کافروں نے مکرکیااور اللہ  نے ان کے ہلاک کی خفیہ تدبیرفرمائی اور اللہ  سب سے بہترچھپی تدبیر والا ہے۔

 {۲}

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَاۚ-          (پ۲۵، الشورٰی: ۴۰)

 ترجمۂ کنزالایمان:  اور برائی کابدلہ اسی کی برابربرائی ہے۔

{۳}

تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَؕ-  (پ۷، المائدۃ: ۱۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان: تو جانتاہے جو میرے جی میں ہے اورمیں نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہے۔

                ایک قول یہ ہے کہ تقابل کا معنی یہ ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کو مَکْرسے موصوف کرنااسی وقت جائز ہے جب اس کے ساتھ دوسرا ایسا لفظ آئے جسے مَکْرسے موصوف کرنا درست ہو، مگر اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان عالیشان:

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِۚ-فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ ( ۹، الاعراف: ۹۹)

ترجمۂ کنزالایمان: کیااللہ  کی خفی تدبیرسے بے خبرہیں تو اللہ  کی خفی تدبیر سے نڈرنہیں ہوتے۔

میں مکرکالفظ کسی مقابل کے بغیر آیا ہے، کیونکہ بسا اوقات اللہ  عَزَّ وَجَلَّکو مَکْر کے ساتھ متصف کرنا درست بھی ہوتا ہے، کیونکہ مَکْرکا لغوی معنی پردہ ڈالنا یا چھپا دینا ہے جیسا کہ کہتے ہیں  ’’  مَکَرَاللَّیْلُ اَیْ سَتَرَ بِظُلْمَتِہٖ مَاھُوَ فِیْہٖ ‘‘  یعنی رات نے مکر کیا مطلب یہ کہ رات نے اپنے اندھیرے سے اسے چھپا دیا اور کبھی مکر کا لفظ حیلہ بازی، دھوکا دینے اور شرارت پر بھی بولا جاتا ہے، اسی وجہ سے بعض لغویوں نے اسے فساد ڈالنے کی کوشش سے تعبیر کیا ہے، جبکہ بعض نے حیلہ کے ذریعے غیر کو اپنے مقصد سے پھیر دینے سے تعبیر کیا اور یہ آخرالذکرمعنی کبھی قابلِ تعریف ہوتا ہے جیسے برائی سے ہٹا کر خیر کی طرف پھیر دینا اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کایہ فرمان وَاللّٰہُ خَیْرُالْمَاکِرِیْنَاسی معنی پر محمول ہے اور کبھی یہ تعبیر مذموم ہوتی ہے، جیسے کسی کو خیر سے ہٹا کر شر کی طرف پھیر دینا اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان میں اسی معنی کاذکرہے:

وَ لَا یَحِیْقُ الْمَكْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖؕ-  (پ۲۲، فاطر: ۴۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اوربُر اداؤ  (فریب ) اپنے چلنے والے ہی پرپڑتا ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

  کبیرہ نمبر40:                          

اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے مایوس ہونا

اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے ناامید ہونا بھی گناہ کبیرہ ہے۔چنانچہ،

{۱} اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتاہے:

 



Total Pages: 320

Go To