Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ  (پ۹، الانفال: ۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان :  اور جان لو کہ اللہ  کاحکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجاتاہے۔

                یعنی اس کے اور اس کی عقل کے درمیان یہاں تک کہ وہ یہ نہیں جان پاتا کہ وہ کیاکررہاہے۔ یہ حضرت سیدنامجاہد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکا قول ہے اور اس کی تائید اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کایہ فرمانِ عالیشان بھی کرتا ہے :  

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ  (پ۲۶، ق: ۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان :  بے شک اس میں نصیحت ہے اس کے لئے جو دل رکھتاہو۔

                یہاں قلب سے مراد عقل ہے اور سیدناامام طبرانی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہکا مختار مذہب یہ ہے اس حائل ہونے سے مراد بندوں کو یہ خبر دینا ہے کہ وہ ان کے دلوں کاان سے زیادہ مالک ہے اور وہ جب چاہتاہے ان کے اور ان کے دلوں کے درمیان حائل ہو جاتا ہے یہاں تک کہ کوئی بھی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی مشیّت کے بغیرکچھ نہیں جان پاتا۔ ‘‘

{5}…جب دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمیہ دعا مانگتے:  ’’ یَامُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ!  ثَبِّتْ قَلْبِیَ عَلٰی دِیْنِکَ۔ ‘‘   (یعنی اے دلوں کے پھیرنے والے!  میرے دل کواپنے دین پر ثابت قدم رکھ)  تو اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  نے عرض کی  ’’ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکثرت سے یہ دعا مانگتے ہیں کیا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو بھی کوئی خوف ہے؟ ‘‘  تو رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ میں بے خوف کیسے رہ سکتا ہوں ، حالانکہ قلوب رحمن عَزَّ وَجَلَّ  کی (قدرت کی)  انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں ، وہ جب اپنے کسی بندے کے دل کو پھیرنا چاہتا ہے پھیر دیتاہے۔ ‘‘

                بے شک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے پختہ علم والوں کی اس دعاپران کی تعریف فرمائی:

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةًۚ-اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ (۸)

 (پ۳، اٰل عمران: ۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اے رب ہمارے دل ٹیرھے نہ کربعد اس کے کہ تونے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطاکربے شک تو ہے بڑادینے والا۔

                یاد رکھئے !  اس آیتِ مبارکہ میں معتزلہ کے عقائد کے رد اور اہل سنت کے اعتقاد کی حقیقت پرظاہر دلالت اور واضح حجت ہے کہ ہدایت دینا اور گمراہ کرنا اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی مخلوق اور اس کے ارادے سے ہیں ، اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ دل خیرو شر اور ایمان وکفر کی طرف مائل ہونے کی صلاحیت رکھتاہے، لیکن اس کا ان میں سے کسی کی طرف کسی داعی کے بغیرمائل ہونا محال ہے بلکہ اس کے مائل ہونے کے لئے کسی ایسے داعی اور ارادے کا ہونا ضروری ہے جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّہی عدم سے وجود میں لاتا ہے۔ کفرکے دواعی کے لئے قرآن پاک میں مدد چھوڑ دینا، بھٹکانا، منہ پھیرنا، مہر لگنا، زنگ آلود ہونا، دل کاسخت ہونا، کان بھر جانا وغیرہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، جبکہ ایمان کے دواعی کے لئے قرآن مجید میں توفیق، ارشاد، ہدایت، تسدید، ثابت قدمی اور عصمت وغیرہ کے الفاظ واردہوئے ہیں ۔

{6}…خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مؤمن کادل رحمن عَزَّ وَجَلَّ  کی  (قدرت کی)  انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے جب وہ اسے قائم رکھنا چاہتا ہے تو قائم رکھتاہے اور جب بھٹکانا چاہتا ہے تو راہِ حق سے بھٹکا دیتا ہے۔ ‘‘     (کنزالعمال، کتاب الایمان، قسم الاقوال، فصل الثالث، الحدیث: ۱۱۶۴،ج۱،ص۱۲۸،بدون ’’ قلب المؤمن ‘‘ )

                 گذشتہ بیان کی گئی اس اوردیگر احادیث مبارکہ میں دو انگلیوں سے مراد یہی مذکورہ دواعی ہیں ، لہٰذا اس میں خوب غور کرنا چاہئے۔

{7}…اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیرکا خوف دلانے کے لئے سیدعالم،نورمجسّم،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکایہ فرمان عالیشان بھی ہے :  ’’ تم میں سے کوئی جنتیوں والے عمل کرتاہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک گز کافاصلہ رہ جاتا  ہے پھر تقدیر کا لکھا اس پر غالب آ جاتا ہے تو وہ جہنمیوں کے کام کرتے ہوئے جہنم میں داخل ہو جاتا ہے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم، کتاب القدر،باب کیفیۃ الخلق الآدمیالخ،الحدیث: ۶۷۲۳،ص۱۱۳۸)

{8}… شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ بندہ جہنمیوں کے کام کرتاہے حالانکہ وہ جنتی ہوتاہے اور کوئی شخص جنتیوں کے عمل کرتاہے حالانکہ وہ جہنمیوں میں سے ہوتاہے، کیونکہ اعمال کادارومدار خاتمہ پر ہی ہوتا ہے۔ ‘‘  (صحیح البخاری،کتاب الرقاق،باب الاعمال بالخواتیم، الحدیث: ۶۴۹۳،ص۵۴۵،تقدما تأخرا)

کیاہم اپنی تقدیر ہی پربھروسہ کرلیں ؟

{9}…صرف تقدیر ہی پربھروسہ کرلینادرست نہیں کیونکہ صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے جب مذکورہ بات سنی تو عرض کی:  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  پھر عمل کس لئے کریں ، کیاہم اپنی تقدیر ہی پر بھروسہ نہ کرلیں ؟ ‘‘  تو مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امینعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ نہیں !  بلکہ عمل کرو، کیونکہ جسے جس کام کے لئے پیداکیا گیا ہے اس کے لئے وہ کام آسان کر دیا جاتا ہے۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ آیاتِ مبارکہ تلاوت فرمائیں :

فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ (۵) وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰىۙ (۶) فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰىؕ (۷) وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ (۸) وَ كَذَّبَ بِالْحُسْنٰىۙ (۹) فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰىؕ (۱۰)   (پ۳۰، اللیل: ۵تا۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان:  تووہ جس نے دیااو رپرہیز گاری کی اور سب سے اچھی کو سچ ماناتو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیاکردیں گے اور وہ جس نے بخل کیااور بے پرواہ بنااور سب سے اچھی کو جھٹلایاتو بہت جلد ہم اسے دشواری مہیاکردیں گے۔

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے بنی اسرائیل کے عالمبلعم بن باعوراء کا جو واقعہ بیان فرمایا ہے ،اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ وہ کس طرح اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہوا اور جنت کی اَبدی نعمتوں کے مقابلے میں دنیا کے فانی مال پر قناعت کر کے اپنی خواہشات کی پیروی میں لگ گیا۔

                منقولہے کہ ’’ جب اس نے حضرت سیدناموسیٰ علی نبیناوعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  کے خلاف دعاکاپختہ ارادہ کرلیاتو اس کی  زبان سینے تک لٹک گئی ،وہ کتے کی طرح ہانپنے لگا اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اس سے ایمان، علم اور معرفت چھین لی۔

ولی کے گستاخ کا عبرتناک انجام:

                اسی طرح  بَرْصِیْص نامی عابد اپنی سخت ترین عبادات ومجاہدات کے باوجود کفر پر مرا، اور ابن سقّاجو کہ بغداد کا مشہور فاضل اورذکّی شخص تھا، اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے ایک ولی کی گستاخی کا مرتکب ہوا، ان کی ولایت کا انکار کیا تو انہوں نے اسے بددعا دی،  یہ قسطنطنیہ منتقل ہوا، وہاں ایک عورت کو دیکھ کر اس پر عاشق ہو گیا، پھر اس کی وجہ سے نصرانی ہو گیا، اس کے بعد کسی موذی مرض میں مبتلا ہوا تو اسے سڑک پر پھینک دیا گیا، تووہ بھیک مانگنے لگا، وہاں سے اس کا کوئی جاننے والاگزرا، اس نے اس سے واقعہ دریافت کیا تو اس نے اپنی آزمائش کا حال سنا دیااور بتایا:  ’’ میں نصرانی ہو گیا ہوں اور اب قرآن پاک کا کوئی ایک حرف یاد کرنے



Total Pages: 320

Go To