Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

کرے جو اسے اَذیت دینے والی ہو۔ ‘‘

 (احیاء علوم الدین،کتاب آداب الآ لفۃالخ،حقوق المسلم،ج۲،ص۲۴۳)

{108}…نبی ٔکریم،ر ء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے  مسلمان بھائی کو ڈرائے۔ ‘‘     (سنن ابی داؤد،کتاب الادب، باب من یأخذ الشیء من مزاح،الحدیث:  ۵۰۰۴،ص۱۵۸۹)

{109}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ شرکائے مجلس اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے امین ہوتے ہیں توان میں سے کسی کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی کی وہ بات ظاہر کرے جس کا ظاہر کرنا اسے ناپسند ہو۔ ‘‘

                     (الزہد لابن المبارک،باب ماجاء فی الشح،الحدیث۶۹۱،ص۲۴۰،اخیہ بدلہ ’’ صاحبہ ‘‘ )

                کسی صاحبِ علم نے حسنِ اخلاق کی تمام علامات کو اپنے اس قول میں یوں جمع کر دیا ہے :  ’’  حسنِ اخلاق کا پیکر وہ ہے جوحد سے زیادہ حیا والا ہو، بہت کم کسی کو اذیت دے، نیکیوں کا جامع ہو، سچ بولے، گفتگوکم اور عمل زیادہ کرے اور وقت بھی کم ضائع کرے نیز بہت کم لغزش کاشکار ہو، وہ نیک، پروقار، صابر، راضی بقضائے الٰہی عَزَّ وَجَلَّ  ، شکر گزار، بردبار، نرم دل، پاکدامن اور شفیق ہو نہ کہ عیب جُو، گالیاں دینے والا، غیبت کرنے والا، جلدباز، کینہ پرور، بخیل اور حاسد ہو بلکہ ہشاش بشاش رہتا ہو اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی خاطر محبت اور بغض رکھے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی ہی خاطر کسی سے راضی یا ناراض ہو تو وہی شخص حسنِ اخلاق کا پیکر کہلانے کا حق رکھتا ہے ۔ ‘‘

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہمیں ان اعلیٰ اخلاق کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم پر ہمیشہ اپنے فضل وکرم کی بارش نازل فرمائے، ہمیں اپنے قرب کی دولت سے سرفراز فرمائے اور اپنے اولیاء کرام، محبین عِظام اور غلاموں کی صف میں شامل فرما لے۔ آمین!

٭٭٭٭٭٭

کبیرہ نمبر39:            

اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف رہنا

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّکی رحمت پر بھروسہ بھی ہو اور اس کے ساتھ ساتھ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہو کربندہ گناہوں میں بھی مستغرق ہو تو یہ گناہِ کبیرہ ہے۔اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے :

{۱}

فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ (۹۹)   (پ۹، الاعراف : ۹۹)

ترجمۂ کنزالایمان : تو اللہ  کی خفی تدبیر سے نڈرنہیں ہوتے مگر تباہی والے۔

{۲}

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ (۲۳)   (پ۲۴، حٰمٓ السجدۃ: ۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اوریہ ہے تمہارا وہ گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا اور اس نے تمہیں ہلاک کردیا تو اب رہ گئے ہارے ہوؤں میں ۔

{1}…اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ جب تم کسی بندے کو دیکھو کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے اس کی خواہش کے مطابق عطا فرماتاہے حالانکہ وہ اپنے گناہ پر قائم ہے تو یہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا اُسے درجہ بدرجہ عذاب میں مبتلا کر نا ہے پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍؕ-حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ (۴۴)   (پ۷، الانعام: ۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان : پھر جب انہو ں نے بھلادیا جو نصیحتیں ان کو کی گئیں تھیں ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ جب خوش ہوئے اس پر جو انہیں ملاتو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیااب وہ آس ٹو ٹے رہ گئے۔ (المعجم الاوسط، الحدیث: ۹۲۷۲،ج۶،ص۴۲۲)

                یعنی وہ نجات اور ہر بھلائی سے مایوس ہیں اور ان پر نعمتوں کی بارش ہونے اور دوسروں کی ان سے محرومی سے دھوکا کھانے کی وجہ سے ان کے لئے حسرت، غم اور رسوائی ہے۔اسی لئے حضرت سیدنا حسن بصری رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا:   ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّجس پر وسعت فرمائے اوروہ یہ نہ سمجھ سکے کہ یہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر ہے، تو وہ بالکل بے عقل ہے۔ ‘‘  

                اورایک ناشکری قوم کے بارے میں فرمایا:  ’’ رب کعبہ کی قسم!  اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے ان کے ساتھ خفیہ تدبیر فرمائی ان کی مرادیں پوری فرمائیں پھر ان پر پکڑ فرمائی۔ ‘‘

{2}…ایک اور روایت میں ہے :  ’’ جب اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے ابلیس لعین کے ساتھ خفیہ تدبیر فرمائی تو حضرت سیدنا جبرائیل اور حضرت سیدنا میکائیل  (علیہما الصلوٰۃ و السلام) رونے لگے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے ان سے استفسار فرمایا (حالانکہ وہ بخوبی جانتا تھا)  تم دونوں کو کس چیز نے رلایا ہے؟ ‘‘  تو انہوں نے عرض کی ، ’’ یارب عَزَّ وَجَلَّ !  ہم تیری خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں ۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا :  ’’ ایسے ہی رہو میری خفیہ تدبیر سے بے خوف مت ہونا۔ ‘‘      (تفسیرروح المعانی، سورۃ النمل ، تحت الآیۃ: ۱۰،ج۱۹،ص۲۱۷)

 {3}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکثرت سے یہ دعا مانگا کرتے تھے:  یَامُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ!  ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ۔ یعنی اے دلوں کے پھیرنے والے!  میرے دل کواپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ ‘‘

 (جامع الترمذی، ابواب الدعوات، باب دعائ ’’ یا مقلب القلوب ‘‘  الحدیث: ۳۵۲۲،ص۲۰۱۴)

{4}…ایک اور روایت میں ہے کہ صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  کیا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخوف رکھتے ہیں ؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ دل رحمن عَزَّ وَجَلَّ  کی  (قدرت کی) دو انگلیوں کے درمیان ہے، وہ جیسے چاہتا ہے اسے پھیر دیتا ہے۔ ‘‘   (کنزالعمال، کتاب الایمان، قسم الاقوال، فصل الثالث، الحدیث: ۱۲۱۲ / ۱۲۱۳،ج۱،ص۱۳۳)

                یعنی قلوب اللہ  عَزَّ وَجَلَّکے خیر وشر کے ارادوں کے دو مظہروں کے درمیان ہیں ، وہ انہیں اس تیز ہَوا سے بھی جلد پھیر دیتا ہے جو قبول ومردود اور پسند و ناپسند وغیرہ اوصاف میں پھرتی رہتی ہے، اورقرآن پاک میں ہے:  



Total Pages: 320

Go To