Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

(صحیح البخاری،کتاب الوصایا، باب ہل یدخل النسائالخ،الحدیث: ۲۷۵۳،ص۲۲۱)

                لہٰذاتم پربھی اپنے ظاہروباطن کی اصلاح لازم ہے اور دوسروں کا صرف اتنا ہی خیال کرو جتنا شریعتِ مطہرہ نے تمہیں پابندبنایا ہے جیسے شرائط پائی جانے کی صورت میں نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا وغیرہ۔

عوام الناس کو ان کی سمجھ سے بالاتر باتیں بتانا:

                عوام الناس اور علوم میں مہارت نہ رکھنے والوں کواللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی ذات وصفات اور ایسے اُمورمیں تفکر کرنے پر ابھارنا  جن تک ان کی عقلوں کی رسائی نہ ہو، ان کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے کیونکہ اس طرح وہ دین کے بنیادی اصولوں میں شک کرنے لگیں گے اور بعض اوقات اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے بارے میں ایسی باتیں خیال کرنے لگیں گے جن سے وہ کافریابدعتی ہو جائیں گے اور اپنی حماقت کے غلبہ اور قلتِ عقل کی بنا پر اس پرخوش ہوں گے، لوگوں میں سب سے احمق شخص وہی ہوتا ہے جواپنے اس اعتقاد پر زیادہ قوی ہو اور ان میں سب سے عقل مندوہ ہے جو اپنی ذات ، اپنے آپ اور اپنے گمان کو زیادہ ناقص سمجھے اور باعمل علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰیاور ہدایت یافتہ ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ  تَعَالیٰ سے سوال کرنے میں زیادہ حریص ہو۔

مسلمانوں پربدگمانی :

                مسلمانوں پربدگمانی کے بارے میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا ارشادِگرامی ہے کہ،

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-  (پ۲۶،الحجرات: ۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والوبہت گمانوں سے بچو۔

                جو شخص صرف اپنے گمان کی وجہ سے کسی پر برائی کا حکم لگا دیتا ہے تو اصل میں شیطان اسے اس کو حقیر جاننے، اس کے حقوق ادا نہ کرنے، اس کی عزت بجا لانے میں سستی کرنے اور اس کی عزت کے معاملے میں زبان دراز کرنے پر ابھارتا ہے، حالانکہ یہ سب باتیں ہلاکت کا باعث ہیں اور مہلکات میں شمار ہوتی ہیں ۔

{104}…جب دوصحابیوں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنی زوجۂ مطہرہ اُم المؤمنین حضرت سیدتناصفیہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا سے  (اندھیرے میں ) گفتگو فرماتے ہوئے دیکھا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ یہ تم دونوں کی ماں ہے۔ ‘‘  وہ دونوں اس وضاحت سے حیران ہو گئے،آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ شیطان آدمی کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا ہے، مجھے اندیشہ تھا کہ کہیں وہ تم دونوں کے دلوں میں کوئی بات نہ ڈال دے۔ ‘‘

 (صحیح مسلم،کتاب السلام، باب بیان انہ یستحب لمن الخ،الحدیث: ۵۶۷۹،ص۱۰۶۵)

                دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان دونوں پر کمال شفقت فرمائی اور انہیں شیطان مردود کے ہتھکنڈوں سے بچا لیا، نیز اپنی اُمت کوتہمت سے بچنے کا طریقہ ارشاد فرما دیا تا کہ کوئی پرہیزگار عالم اپنے آپ پر فخر کرتے ہوئے یہ گمان نہ کرے کہ ’’ اس سے اچھاہی گمان رکھا جاتا ہو گا۔ ‘‘  حالانکہ یہ ایک بہت بڑی لغزِش بھی ہے، چونکہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ متقی، پرہیز گار اور عالم ہے لہٰذا یقینا اس سے بغض رکھنے اور اسے ناقص کہنے والے لوگ بھی ہوں گے، اس لئے شریروں اور دشمنوں کی تہمت سے بچنا بھی ضروری ہے، کیونکہ ایسے لوگ ہر ایک سے شر ہی کی توقع رکھتے ہیں ۔ہر وہ شخص جو لوگوں سے بدگمانی رکھے اور ان کے عیوب کی پردہ دری کرنے کی خواہش رکھتا ہو تو جان لو کہ وہ ایسا اپنے باطن کی خباثت کی وجہ سے کرتا ہے کیونکہ مؤمن ہمیشہ اپنے باطن کی سلامتی کیوجہ سے عذر خواہی کرتا رہتا ہے جبکہ منافق اپنے باطن کیوجہ سے عیوب کی تلاش میں رہتا ہے۔

                 یہ چند ایک ایسے اوصاف تھے کہ جن کے ذریعے شیطان کسی کے دل تک رسائی حاصل کرتا ہے، ان کے تذکرے میں بقیہ تمام اوصاف کے بارے میں تنبیہ پائی جاتی ہے۔انسان میں کوئی بھی ایسی مذموم صفت نہیں جو کہ شیطان کا ہتھیار نہ ہو وہ اسی سے اس کو گمراہ کرتا ہے، لہٰذا اس کے ان مذموم ہتھکنڈوں سے نجات کے لئے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی بارگاہ میں پناہ طلب کریں ،امیدہے کہ وہ اپنی رحمت سے آپ کو ان مذموم اوصاف کی لعنت سے چھٹکارا عطا فرمادے گا۔

تنبیہ 2:

                گذشتہ ساری بحث سے آپ پر مکمل طور پر یہ بات واضح ہو گئی ہو گی کہ ان تمام اوصاف کا نقصان کتنا بڑا ہے، نیز ان میں سے اکثر وہ ہیں جن کو سیدنا امام غزالی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ  الْوَالِیْ نے کبیرہ گناہ شمار کیا ہے، حالانکہ وہ ان کو کبیرہ شمار کرنے میں منفرد نہیں بلکہ کئی دوسرے علماء وائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰینے بھی ان کو کبیرہ ہی شمار کیا ہے، لہٰذا اپنے دل اور باطن کو ان کبائر کی خباثت سے محفوظ رکھیں کیونکہ یہ نہ صرف آپ کے باطن بلکہ ظاہر کو بھی فساد میں مبتلا کردیں گے۔

تنبیہ 3:

                گذشتہ تمام کبیرہ گناہوں کا ارتکاب بدخلقی کا باعث بنتا ہے جبکہ ان سے کنارہ کَش ہونے سے انسان حسنِ اخلاق کا پیکر بن جاتا ہے، پھر یہی حسن اخلاق اس کو کمالِ حکمت سے عقلی قوت کے اعتدال اور شہوانی اور غضب کی قوت کی عذرخواہی تک لے جانے کے ساتھ ساتھ عقلی طور پر شریعت کے عطا کردہ اَحکامات کی بجاآوری تک لے جاتا ہے، اس اعتدال کا حصول یا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے خاص کرم اور فطری کمال سے ہوتا ہے یا پھر مجاہدہ اور ریاضت جیسے اسباب کو اپنانے سے ہوتا ہے، مثلا ً

 (۱) وہ اپنے نفس کو ہر اس کام پر مجبور کرے جس کے کرنے کا تقاضا حسنِ اخلاق کرے،

 (۲) ہر برائی کی مخالفت کرے کیونکہ وہ نہ تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی محبت کا باعث بن سکتی ہے اور نہ ہی اس وقت تک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے ذکر کی حلاوت حاصل ہو سکتی ہے جب تک کہ اس بری عادت سے چھٹکارا حاصل نہ کر لیا جائے،

 (۳) شہوانی خواہشات سے نفس کو خلوت اور عزلت نشینی سے بچایا جائے تا کہ سننے اور دیکھنے کی صلاحیتیں اپنی پسندیدہ اشیاء سے محفوظ رہ سکیں ،

 (۴) اس کے بعد اسی خلوت نشینی میں دائمی ذکر ودعا کو اپنا معمول بنا لیا جائے یہاں تک کہ انسان پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اور اس کے ذکر کی محبت غالب آجائے،

                جب انسان مذکورہ تمام اسباب مہیا کر لے تو بالآخر وہ اس اعتدال کی نعمت کو پانے میں کامیاب ہو جائے گا اگرچہ ابتدا میں اس پر یہ سب کچھ کرنا گِراں گزرے گا، بعض اوقات مجاہدات کوکرنے والا شخص یہ گمان کرنے لگتا ہے کہ شاید اس نے ان چھوٹے چھوٹے مجاہدات سے اپنے نفس کو مہذب اور حسنِ اخلاق کا پیکر بنا لیا ہے حالانکہ ابھی کہاں اس مرتبہ کا حصول ممکن ہو گیا، ابھی نہ تو اس میں کاملین کی صفات پائی



Total Pages: 320

Go To