Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

حضرت سیدنایحییٰ علیٰ نبیناوعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  نے دوبارہ اس سے دریافت فرمایاکیا ان میں میرے لئے بھی کچھ ہے؟ ‘‘ تو شیطان نے جواب دیا بعض اوقات آپ علی نبیناوعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  خوب سیر ہو کر کھانا کھا لیتے ہیں ، تومیں نماز اور ذکر کو آپ (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  ) پر بھاری کر دیتا ہوں ۔ ‘‘  پھرآ پ علیٰ نبیناوعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  نے مزید دریافت فرمایا کیا کوئی اور چیز بھی ہے؟ ‘‘ تو شیطان نے جواب دیا نہیں ۔ ‘‘  تو آپ علیٰ نبیناوعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  نے ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!  میں کبھی شِکم سیرہو کر کھانا نہیں کھاؤں گا۔ ‘‘  تو شیطان بولا:  ’’ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!  میں بھی کسی مسلمان کونصیحت نہیں کروں گا ۔ ‘‘

 (حلیۃ الاولیاء،وہیب بن ورد،الحدیث: ۱۱۷۰۴،ج۸،ص۱۵۷،بتغیرٍ قلیلٍ)

طمع:          جب کسی چیز کی طمع دل پر غالب آجائے تو شیطان اسے خوب آراستہ کرتا رہتا ہے،یہاں تک کہ وہ اس لالچی کے لئے معبود بن جاتی ہے اور پھر بندہ اسی کی محبت کی رسی میں بندھا غورو فکر کرتا رہتا ہے کہ کسی طرح اسے راضی کر سکے اگرچہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کو ناراض کر بیٹھے، جیسے حرام کا اقرار کرنے کے باوجود اس کے لئے فریب کاری سے کام لینا۔

جلدبازی کرنااور ثابت قدمی چھوڑدینا:

                اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے کہ،

وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا (۱۱)   (پ۱۵، بنی اسرآء یل: ۱۱)

 ترجمۂ کنزالایمان: اور آدمی بڑاجلدبازہے۔

{101}…حضورنبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جلدبازی شیطان کی طرف سے اور غوروفکراللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ہے۔ ‘‘  (کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال، الحدیث:  ۵۶۷۲،ج۳،ص۴۴،تقدما تأخرا)

                جلد بازی ہوتی تو شیطان کی طرف سے ہے مگر وہ خود جلدباز نہیں ہوتا بلکہ انسان کو اس طرح آہستہ آہستہ برائی میں مبتلا کرتا ہے کہ اسے خبر بھی نہیں ہوتی، لیکن جو شخص کوئی عملی قدم اٹھانے سے پہلے خوب غورو فکر کر لیتا ہے تو اسے اس کام میں بصیرت حاصل ہو جاتی ہے، لہٰذا جب تک کسی کام میں بصیرت حاصل نہ ہو تو فوراً واجب ہونے والے عمل کے علاوہ کسی بھی عمل میں جلد بازی نہیں کرنی چاہئے جبکہ یہ ( عَلَی الْفَوْر واجب ہونے والا )  عمل ایسا ہو کہ اس میں غوروفکرکی کوئی گنجائش ہی نہ ہو۔

مال میں زیادتی کی خواہش:

                جو مال حاجت اور ضرورت سے زائد ہو تو وہ شیطان کا ٹھکانا ہوتا ہے کیونکہ جس کے پاس اس قسم کا زائد مال نہیں ہوتا اس کا دل بے جا تفکرات سے خالی ہوتا ہے، لہٰذا اگر ایسے شخص کو کسی راستے میں 100دینار پڑے ہوئے مل جائیں تو اس کے دل میں ایسی 10خواہشیں سر اٹھانے لگتی ہیں کہ جن میں سے ہر خواہش 100دینار کی محتاج ہوتی ہے، لہٰذا وہ مزید 900دینار کا محتاج ہو جاتا ہے، حالانکہ وہ 100دینار ملنے سے پہلے ہر خواہش سے بے پرواہ تھا، پھر جب اس نے 100دینار پالئے تو یہ خیال کیا کہ وہ محتاج نہیں ہے حالانکہ اس کا گھر، خادمہ اور سازوسامان خریدنے کے لئے 900دینار کا محتاج ہونا ظاہر ہو چکا، اور صرف یہی نہیں بلکہ ان اشیاء کی خریداری کے بعد ان کے لوازمات پورے کرنے کے لئے مزید رقم کا محتاج ہونا بھی ثابت ہو گیا، تو اس طرح وہ ایک ایسی گھاٹی میں گر جائے گاجس کی اِنتہاء جہنم کی اتھاہ گہرائیوں کے سوا کچھ نہیں ۔

                جب ابلیس کے چیلے صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  پر کامیابی پانے سے مایوس ہو گئے اور انہوں نے ابلیس سے شکایت کی تو اس نے ان سے کہا:  ’’ صبر کرو! ہوسکتاہے ان پر دنیا کے دروازے کھل جائیں اور پھر تم ان سے اپنی حاجتیں پوری کر سکو۔ ‘‘

بخل اور تنگدستی کاخوف:

                یہ مذموم صفات صدقہ کرنے اور خیرکے کاموں میں خرچ کرنے سے روکتی اور، ذخیرہ اندوزی اور مال جمع کرنے کا حکم دیتی ہیں ، حالانکہ خزانہ جمع کرنے والے لوگوں کے لئے قرآنِ پاک میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے دردناک عذاب کاوعدہ ہے۔

                حضرت سیدناابوسفیان رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’ شیطان کے بہت سے ہتھیارہیں جیسے تنگدستی کاخوف، جب اسے قبول کر لیا جاتا ہے تو انسان باطل چیزوں میں پڑ کر نفسانی خواہشات کی باتیں کرتا ہے اور اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  سے برا گمان کرتا ہے۔ ‘‘

                بخل کی آفتوں میں سے ایک آفت مال جمع کرنے کے لئے بازاروں میں آمدورفت کو لازم سمجھنا بھی ہے حالانکہ یہی شیطان کے ٹھکانے ہیں ۔

{102}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جب شیطان زمین پر اترا تو اس نے عرض کی ، ’’ یارب عَزَّ وَجَلَّ !  میرا ایک گھر بنا دے۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا :  ’’ تیرا گھر حمام ہے۔ ‘‘  اس نے پھر عرض کی  ’’ میرے لئے ایک بیٹھک بنا دے۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا :  ’’ بازار تیری بیٹھک ہے۔ ‘‘  اس نے پھر عرض کی، ’’  میرا ایک منادی بنا دے۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا :  ’’ مزامیر  (یعنی ڈھول باجے ) تیرے منادی ہیں ۔ ‘‘  اس نے پھر عرض کی  ’’ میرے لئے کھانا مقرر کر دے۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا :  ’’ جس چیز پرمیرا نام نہ لیا جائے وہ تیرا کھانا ہے۔ ‘‘  اس نے پھر عرض کی  ’’ میرے لئے کوئی قرآن بنا دے۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا :  ’’ اَشعار تیرا قرآن ہیں ۔ ‘‘  اس نے پھر عرض کی  ’’ میری حدیث بنا دے۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا :  ’’ جھوٹ تیری حدیث ہے۔ ‘‘  اس نے پھر عرض کی  ’’ میرے لئے شکاری جال بنا دے۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا :  ’’ عورتیں تیراجال ہیں ۔ ‘‘    (تخریج احادیث الاحیائ، باب ۲۶۲۲،ج۶،ص۲۷۱)

تعَصُّب:

                مذاہب اور خواہشات پرتعصب کرنا، مخالف سے کینہ رکھنااور اسے حقارت کی نظرسے دیکھنا یہ ایسی چیزیں ہیں جو علماوصلحاء کو بھی ہلاکت میں ڈال دیتی ہیں ، عوام توپھر عوام ہیں کیونکہ لوگوں پر طعن وتشنیع میں مشغول ہونا اور ان کے طبعی نقائص کا ذکر کرنا ایسی چیزیں ہیں کہ شیطان جب بندے کو یہ خیال دلاتا ہے کہ یہی حقیقت ہے تو وہ مزید پیش رفت کرتا ہے اور اپنی کوشش میں اضافہ کر دیتا ہے اور پھر یہ گمان کرتے ہوئے خوش ہوتا ہے کہ وہ دین کے لئے کوشش کر رہا ہے حالانکہ وہ شیطان کی پیروی میں ہوتا ہے، دینی غیرت رکھنے والے صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  اور ان کے بعد والوں کی پیروی میں نہیں ہوتا، اگر وہ اپنی اصلاح کی جانب توجہ دیتا اور دینی حمیت وغیرت رکھنے والوں کی پیروی کرتا تو یہ اس کے لئے بہتر ہوتا، اورہر وہ شخص جو حاکمِ اسلام سے تعصب رکھے  اس کی مخالفت کرے اور اس کے قواعد وضوابط پر نہ چلے تو وہ حاکم اس سے جھگڑے گااور اُسے لعن طعن کرے گا۔

{103}…صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اپنی لختِ جگر حضرت سیدتنافاطمہ بتول رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا سے ارشاد فرمایا :  ’’ عمل کرو کیونکہ میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے مقابلے میں تمہیں کوئی فائدہ نہ دوں گا۔ ‘‘

 



Total Pages: 320

Go To