Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

ہوں یاکافر (۲) وعدہ پوراکرناخواہ مسلمان سے کیا ہو یا کافر سے اور  (۳) امانت کی ادائیگی خواہ مسلمان کی ہو یا کافر کی۔ ‘‘

 (شعب الایمان، باب فی الایفاء بالعقود،الحدیث: ۴۳۶۳،ج۴،ص۸۲)

{96}…تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے،اللہ  عَزَّ وَجَلَّفرماتاہے :  ’’ قیامت کے دن میں تین شخصوں سے جھگڑوں گا اور جس سے میں جھگڑوں گا یقینااس پر غالب آ جاؤں گا:   (۱) وہ شخص جسے میرے لئے کچھ دیا گیا پھراس نے اس میں بددیانتی کی (۲) جس نے کسی آزادشخص کو بیچا پھر اس کی قیمت کھا گیااور  (۳) جس نے کسی کو اجرت پر رکھا پھر اس سے پورا کام لے لیا مگر اس کا پورا حق ادا نہ کیا۔ ‘‘  

  (سنن ابن ماجہ ،ابواب الرھون، باب اجرالاجرائ،الحدیث: ۲۴۴۲،ص۲۶۲۳،حقہ بدلہ ’’ اجرہ ‘‘ )

تنبیہات

تنبیہ1:

                شیطان انسان کاکھلادشمن ہے اور چونکہ انسان کی سب سے اعلیٰ چیز اس کا دل ہے لہٰذا شیطان صرف انسان کی ظاہری خرابی پر قناعت نہیں کرتا کیونکہ انسان کی ذات میں فساد ڈالنا تو اس کا مقصد ہی نہیں بلکہ اس اعلیٰ چیز کو خراب کر دینا اس کا مقصد ہے اس لئے ہر مکلف انسان پر اپنے دل کو شیطان کے فسادات سے بچانا فرضِ عین ہے، اور چونکہ ان فسادات تک ان کے مداخل  (یعنی داخل ہونے کے راستوں )  کی معرفت سے ہی پہنچا جا سکتا ہے نیز فرض تک پہنچنا جس چیز پر موقوف ہو وہ بھی ضروری ہی ہوتی ہے، لہٰذا اس کے مداخل کی معرفت حاصل کرنا ضروری ہے اور وہ مداخل بندے کی صفات ہیں ۔

حرص:

                یوں تویہ صفات بہت سی ہیں مگر ان میں حسد اور حرص سرِفہرست ہیں ، بعض اوقات بندہ کسی چیزکی حرص میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اس چیزکی حرص اسے اندھا ،بہرہ کر دیتی ہے، چنانچہ،

{97}…مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ تیری کسی چیزسے محبت تجھے اندھا اوربہرہ کر دیتی ہے۔ ‘‘                  (سنن ابی داؤد،کتاب الادب، باب فی الھوی،الحدیث: ۵۱۳۰،ص۱۵۹۸)

                اِن صفات کی پہچان صرف نورِبصیرت ہی سے ہو سکتی ہے، لہٰذا جب اس نورہی کو حرص اور حسد ڈھانپ لیں تو انسان اندھا ہو جاتا ہے تو ایسے وقت میں شیطان انسان پر قابو پا لیتا ہے۔

{98}…منقول ہے حضرت سیدنانوح عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  نے شیطان کواپنے ساتھ کَشتی میں سوار پایا تو اس سے پوچھا :   ’’ تو کیوں داخل ہوا؟ ‘‘  تو اس نے جواب دیا:   ’’ اس لئے کہ آپ  (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ )  کے دوستوں کے دلوں میں وسوسے ڈالوں تا کہ ان کے دل میرے ساتھ ہو جائیں اور جسم آپ  (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ ) کے ساتھ رہ جائیں ۔ ‘‘  تو آپ  (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ )  نے ارشاد فرمایا:   ’’ اے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے دشمن!  سفینے سے اُتر جا کیونکہ تو مردود ہے۔ ‘‘  تو شیطان نے کہا ’’ میں لوگوں کو پانچ چیزوں سے ہلاکت میں ڈالتا ہوں ، تین چیزیں تو آپ (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ )  کو ابھی بتا سکتا ہوں صرف دو نہیں بتاؤں گا۔ ‘‘ تواللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیدنا نوح  (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ )  کی طرف وحی فرمائی :  ’’ شیطان سے کہو کہ وہ دوچیزیں آپ  (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ )  کوبتا دے اور تین چیزوں کی مجھے کوئی حاجت نہیں ۔ ‘‘  آپ (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ )  نے اس سے پوچھا:  ’’ وہ دو چیزیں کون سی ہیں ؟ ‘‘  تو شیطان نے جواب دیا  ’’ وہ دو چیزیں ایسی ہیں نہ تو مجھے جھٹلاتی ہیں اور نہ ہی میرے خلاف جاتی ہیں ، ان کے ذریعے میں لوگوں کوہلاکت میں ڈالتا ہوں ، وہ حرص اور حسدہیں ، حسدہی کی وجہ سے مجھ پر لعنت ہوئی اور میں مردود شیطان بن گیا اور حرص کی وجہ سے میں نے ( حضرت سیدنا)  آدم (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ ) سے اپنی حاجت پوری کی کیونکہ ( حضرت سیدنا) آدم  (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ )  کے لئے ایک درخت کے علاوہ ساری جنت مباح کر دی گئی تھی مگر وہ اس پرصبرنہ کرسکے۔ ‘‘   (تفسیر حقی، سورۂ ھود، تحت الآیۃ: ۴۰،ج۵،ص۴۱۷)

غضب اور شہوت:

                ان صفات میں سے ایک بڑی صفت غضب اور شہوت بھی ہے، غضب سے عقل کمزور پڑ جاتی ہے اور شیطان غصیلے آدمی سے اس طرح کھیلتا ہے جیسے بچہ گیندسے کھیلتاہے۔

{99}…منقول ہے کہ ایک مرتبہ شیطان نے حضرت سیدناموسیٰ علی نبیناوعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  کو اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  کی بارگاہ میں سفارشی بنایا کہ وہ اس کی توبہ قبول فرما لے،حضرت سیدنا موسیٰ علی نبیناوعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں سفارش کی تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:  ’’ اے موسیٰ  (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ ) !  اگر یہ آدم (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ )  کی قبر کو سجدہ کر لے تو میں اس کی توبہ قبول کر لوں گا۔ ‘‘  حضرت سیدنا موسیٰ علی نبیناوعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  نے شیطان کویہ بات بتائی تو اس پر مردود شیطان نے غصہ کی حالت میں کہا:   ’’ جب میں نے ان کی زندگی میں انہیں سجدہ نہیں کیا تو ان کے وصال کے بعد انہیں سجدہ کیسے کر سکتا ہوں ؟ بہرحال آپ (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ ) کی سفارش کا مجھ پر حق ہے، تین وقتوں میں مجھے یادرکھئے گا ،میں آپ (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ )  کو ان کے معاملہ میں ہلاکت میں نہ ڈالوں گا:   (۱) جب آپ (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ ) غضب ناک ہوں تو مجھے یاد رکھیں کیونکہ میں آپ  (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ )  کے جسم میں خون کی طرح رواں ہوں  (۲) جب آپ (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ )  کسی لشکر کا سامنا کریں تو مجھے یاد رکھیں کیونکہ ایسے وقت میں آدمی کواس کے بیوی بچے اور گھر والے یاد دلاتا ہوں تا کہ وہ وہاں سے بھاگ جائے اور  (۳) جب آپ (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ )  کسی اجنبی عورت کے پاس بیٹھیں تو مجھے یاد رکھیں کیونکہ ایسے وقت میں مَیں اس کی طرف آپ کا اور آپ کی طرف اس کا قاصد ہوتا ہوں ۔ ‘‘  (فیض القدیر،حرف الھمزہ،الحدیث:  ۲۹۱۸،ج۳،ص۱۶۶،ملخصاً)

{100}…ایک نبی علیٰ نبینا وعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  نے شیطان سے پوچھا:  ’’ تُو آدمی پرکس چیز سے غالب آتا ہے؟ ‘‘  تو اس نے بتایا میں غصہ اور شہوت کے وقت انسان کو پکڑتا ہوں ۔ ‘‘

                شیطان سے پوچھا گیا  ’’ انسان کی کون سی عادت تیری سب سے بڑی معاون ہے؟ ‘‘  تو اس نے کہا ’’ غصہ۔بندہ جب غصہ میں آتا ہے تومیں اس کواس طرح گھماتاہوں جس طرح بچے گیند کو گھماتے ہیں ۔ ‘‘

دل کادنیوی زندگی اور اس کے متعلقات سے محبت کرنا:

                یہ بھی ایک بُری صفت ہے، ایسے وقت میں شیطان خودبچے دیتا ہے اور انسان کے لئے آلات لہواور اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ، اس کی نشانیوں ، اس کے رسول اور ان کی سنت سے دور کرنے کے اسباب کھول دیتا ہے اور موت تک اس کے سامنے آلاتِ لہو کو آراستہ کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اسی غفلت اور باطل چیزوں میں اپنی زندگی کے اوقات گزار رہاہوتا ہے کہ اسے موت آ جاتی ہے، بعض اوقات اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کا خاتمہ برا فرما دیتا ہے۔ اَلْعِیَاذُ بِاللّٰہِ تَعَالٰی۔

کھانے پینے کوپسندکرنا:

                شکم سیری اگرچہ حلال اور پاکیزہ اشیاء ہی سے ہو لیکن شہوات کوقوت دیتی ہے جو کہ شیطان کا ہتھیار ہیں ، اسی لئے حضرت سیدنا یحییٰ علیٰ نبیناوعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  نے شیطان کو اس حالت میں دیکھا کہ اس کے پاس ہر چیز کو پھانسنے کے لئے کچھ پھندے ہیں تو آپ علیٰ نبیناوعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ  نے اس سے ان پھندوں کے بارے میں پوچھا تو شیطان نے جواب دیا :  ’’ یہ وہ شہوات ہیں جن کے ذریعے میں آدمی پر قابو پاتا ہوں ۔ ‘‘  



Total Pages: 320

Go To