Book Name:Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal (Jild-1)

(کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال، الحدیث: ۷۱۲۶،ج۳،ص۱۶۰)

{80}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ میری اُمت کے بدتر لوگوں میں سے سب سے پہلے جہنم کی طرف ہانکے جانے والے لوگ وہ سردار ہوں گے جو کھاتے ہیں تو شکم سیر نہیں ہوتے اور جب جمع کرتے ہیں تو غنی نہیں ہوتے۔ ‘‘                (المرجع السابق، الحدیث: ۷۱۳۲،ص۱۶۱)

{81}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جو اپنے رزق پرراضی نہ ہو اور جو اپنی بیماری کی خبر عام کرنے لگے اور اس پر صبرنہ کرے اس کا کوئی عمل اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی طرف بلند نہ ہو گا اور وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پرناراض ہوگا۔ ‘‘         (حلیۃ الاولیاء، یوسف بن اسباط، الحدیث: ۱۲۱۶۲،ج۸،ص۲۶۸)

{82}…شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، باذنِ پروردگارعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ جس کا مال کم ہو، اہل و عیال زیادہ ہوں ، نماز اچھی ہو اور وہ مسلمانوں کی غیبت بھی نہ کرے تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو میرے ساتھ اس طرح ہو گا جس طرح یہ دو انگلیاں ہیں ۔ ‘‘  (مسندابی یعلی الموصلی،مسند ابی سعیدخدری،الحدیث: ۹۸۶،ج۱،ص۴۲۸)

{83}…حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَا  سے ارشاد فرمایا:   ’’ اے عائشہ!  اگرتم  (آخرت میں )  میرے ساتھ ملنا چاہتی ہو تو تمہارے لئے دنیا سے اتنا ہی کافی ہے جتنا ایک مسافر کا توشہ ہوتا ہے، اغنیاء کے ساتھ بیٹھنے سے بچتی رہو اور کپڑے کو اس وقت تک پرانانہ سمجھو جب تک  اس میں پیوندنہ لگا لو۔ ‘‘            (جامع الترمذی، ابواب اللباس،باب ماجاء فی ترقیع الثوب،الحدیث: ۱۷۸۰،ص۱۸۳۳)

{84}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے :  ’’  میرے نزدیک اپنے بندے کی سب سے پسندیدہ عبادت لوگوں سے خیرخواہی کرناہے۔ ‘‘

 (کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال، الحدیث: ۷۱۹۷،ج۳،ص۱۶۶)

{85}…نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ بے شک دین خیرخواہی کانام ہے، بے شک دین خیر خواہی ہے، بے شک دین خیرخواہی کو کہتے ہیں ۔ ‘‘  صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان  نے عرض کی  ’’ یارسول اللہ  عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  کس کے ساتھ خیرخواہی؟ ‘‘  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ، اس کی کتاب، اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم،ائمہ مسلمیناور عام مسلمانوں کی خیرخواہی۔ ([1])   ‘‘   (سنن ابی داؤد،کتاب الادب، باب فی النصیحۃ،الحدیث: ۴۹۴۴،ص۱۵۸۵)

{86}…رسولِ اکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جوقیامت کے دن پانچ چیزیں لے کرآئے گا اسے جنت سے نہ روکا جائے گا:  (۱) اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  (۲) اس کے دین (۳) اس کی کتاب (۴) اس کے رسول اور  (۵)  مسلمانوں کی جماعت کی خیرخواہی۔ ‘‘              (کنزالعمال،قسم الاقوال، کتاب الاخلاق ، الحدیث: ۷۱۹۹،ج۳،ص۱۶۶)

{87}…حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ مؤمن اس وقت تک  اپنے دین کے حصار میں رہتا ہے جب تک اپنے مسلمان بھائی کی خیر خواہی چاہتا ہے اور جب اس کی خیرخواہی سے الگ ہو جاتا ہے تو اس سے توفیق کی نعمت چھین لی جاتی ہے۔ ‘‘     (فردوس الاخبارللدیلمی،باب اللام الف،الحدیث: ۷۷۲۲،ج۲،ص۴۲۹)

{88}…اللّٰہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ  الْعُیوبعَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ جوخاندانی غیرت کے جھنڈے تلے عصبیت (یعنی اقربائ) کی مدد کرتے ہوئے مارا جائے اوروہ عصبیت کے لئے غضب غصّہ رکھتا ہوتو اس کا قتل جاہلیت کا قتل ہے۔ ‘‘  (صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب وجوب ملازمۃالخ،الحدیث: ۴۷۹۲،ص۱۰۱۰،یغضب بدلہ ’’ یدعو ‘‘ )

{89}…شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جوعصبیت  (یعنی اقرباء کی جماعت) کی طرف بلائے وہ ہم میں سے نہیں ، جو عصبیت کی وجہ سے لڑے وہ بھی ہم میں سے نہیں اور جو عصبیت پر مرے وہ بھی ہم میں سے نہیں ۔ ‘‘                    (سنن ابی داؤد،کتاب الادب، باب فی العصبیۃ،الحدیث: ۵۱۲۱،ص۱۵۹۸)

{90}…دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوالصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ لوگوں میں سب سے برا اور بدتر ٹھکانا اس شخص کا ہے جو دوسرے کی دنیاکی خاطر اپنی آخرت برباد کر دے۔ ‘‘ ایک اورروایت میں ہے :  ’’ سب سے زیادہ ندامت اسی شخص کوہوگی۔ ‘‘  اور ایک روایت میں ہے :  ’’ وہ قیامت کے دن مرتبہ کے لحاظ سے سب سے بدتر شخص ہو گا۔ ‘‘

 (کنزالعمال، کتاب الاخلاق ،قسم الاقوال، باب العصبیۃ،الحدیث: ۵۸،۵۷،۷۶۵۶،ج۳،ص۲۰۴، ’’ اشر ‘‘  بدلہ ’’  اشد ‘‘ )

 {91}…رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ جولوگوں کی ناراضگی سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی رضا چاہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے لوگوں کی مدد سے کفایت کرے گا اور جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضگی سے لوگوں کی رضا چاہے  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اسے لوگوں کے ہی سپرد کرے گا۔ ‘‘        (