Book Name:Ghafil Darzi

پہلے ہی دلی طور پر اسلام کا گِرویدہ ہو چکا تھا ۔  اس کے عاجِزانہ انداز نے دل پر مزید اثر ڈالا ، مجھ سے انکار نہ بن پڑا، الحمدُ للّٰہ عَزَّوّجَلَّ میں   نے سچّے دل سے اسلام قَبول کر لیا ۔  اَلحمدُ لِلّٰہعَزَّوّجَلَّ یہ بیان دیتے وَقت مسلمان ہوئے مجھے چار ماہ ہو چکے ہیں  ، میں   پابندی سے نَماز پڑھ رہا ہوں   ، داڑھی سجانے کی نیَّت کر لی ہے ، دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہو کر مَدَنی قافِلوں   میں   سفر کی سعادت بھی پارہا ہوں   ۔

کافروں   کو چلیں                   مشرکوں   کو چلیں                دعوتِ دین دیں   قافِلے میں   چلو

دین پھیلایئے                       سب چلے آیئے                      مل کے سارے چلیں         قافلے میں   چلو

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو  

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

{13} میں   دعوتِ اسلامی میں   کیسے آیا ؟

        مَنڈَن گڑھ ضلع رتنا گَری مَہاراشٹر (ہند) کے ایک اسلامی بھائی نے بتایا کہ 2002ء کی بات ہے میں   بُرے دوستوں   کی صُحبت کے باعِث غنڈہ گَینگ میں   شامِل ہوگیا  ۔ لوگوں   کو مارنا پیٹنا اور گالیاں   بکنا میرا معمول تھا، جان بوجھ کر جھگڑے مول لیتا، جو نیا فیشن آتا سب سے پہلے میں   اپناتا ، دن میں   کئی بار کپڑے تبدیل کرتا سِوائے جینز( jeans)کے دوسری پینٹ نہ پہنتا، آوارہ دوستوں   کے ساتھ گھوم پھر کر رات گئے گھر لوٹتا اور دن چڑھے تک سوتا رہتا  ۔ والِد صاحِب کا انتِقال ہوچکا تھا، بیوہ ماں   سمجھاتی تو مَعاذَ اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) زَبان درازی کرتاتھا ۔  ایک مرتبہ دعوتِ اسلامی کے کسی باعمامہ اسلامی بھائی نے ملاقات پر ایک رِسالہ ’’جناّت کا بادشاہ‘‘( مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) تحفے میں   دیا، پڑھا تواچّھا لگا ۔  رَمضانُ المبارَک میں   ایک دن کسی مسجِد میں   جانے کی سعادت ملی تو اتِّفاق سے ایک سبز سبز عمامے اور سفید لباس میں   ملبوس سنجیدہ نوجوان پر نظر پڑی معلوم ہوا یہ یہاں   مُعْتَکِف ہیں  ۔ اُنہوں   نے درسِ فیضانِ سنت دیا تو میں   بیٹھ گیا ۔ بعدِ درس اُنہوں   نے مجھ پر اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی بَرَکتیں   بتائیں   ۔

            ان اسلامی بھائی کا لباس اس قَدَرسادہ تھا کہ بعض جگہ پیوندتک لگے ہوئے تھے ، جب اُن کیلئے گھر سے کھانا آیا تو وہ بھی باِلکل سادہ تھا! میں   ان کی سادَگی سے بَہُت زیادہ مُتَأَثِّرہُوا مجھے ان سے مَحَبَّت ہوگئی، میں   ان سے ملاقات کیلئے آنے جانے لگا ۔ اِتِّفاق سے عیدُ الفِطرکے بعد ان اسلامی بھائی کا نِکاح تھا ۔  یہ بے  چارے غریب و تنگدست تھے مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ انہوں   نے اس بات کا مجھے ذرا بھی اِحساس نہیں   ہونے دیا اور نہ ہی کسی قسم کی مالی امداد کیلئے سُوال کیا ۔  میں   اور زِیادہ مُتَأَثِّر ہوا کہ مَا شَآ ء اللّٰہعَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول کتنا پیارا ہے اور اس کے وابَستگان کس قَدَرسادہ اور خوددار ہیں  ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کی مَحَبَّت میرے دل میں   گھر کرتی چلی گئی حتّٰی کہ میں  نے عاشِقانِ رسول کے ہمراہ 8دن کے مَدَنی قافِلے میں   سفر کیا ۔ میرے دل کی دنیا زَیرو زَبَر ہو گئی، قَلْب میں   مَدَنی انقِلاب برپا ہو گیا اور میں   نے گناھوں   سے سچّی توبہ کر کے اپنی ذات کو دعوتِ اسلامی کے حوالے کر دیا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّمجھ پر وہ مَدَنی رنگ چڑھا کہ آج کل میں  عَلاقائی مُشاوَرَت کے خادِم( نگران) کی حیثیَّت سے اپنے عَلاقے میں   دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں   کی دھومیں   مچا رہا ہوں    ۔ (فیضانِ سنّت، باب آدابِ طعام، ج۱، ص۲۲۴)

سادگی چاہئے        عاجز ی  چاہئے                        آپ کو گر چلیں           قافِلے میں   چلو

خوب خود داریاں        اورخوش اَخلاقیاں                                  آیئے سیکھ لیں             قافِلوں   میں   چلو

عاشِقانِ رسول    لائے سنّت کے پھول                  آؤ لینے چلیں               قافِلے میں   چلو

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو  

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

دعائے عطاؔر  : ۔ یااللہعَزّوَجَلَّ میری اور پابندی کے ساتھ فیضان سُنَّت سے روزانہ کم ازکم 2درْس، ایک گھر میں   اور دوسرا مسجد چوک یا اسکول وغیرہ میں   دینے اور سننے والے کی مغفِر ت فرما اور ہمیں   حُسنِ اَخلاق کا پیکر بنا  ۔ (   اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم)

مجھے درسِ فیضانِ سنّت کی توفیق

ملے دن میں   دو مرتبہ یا الہٰی(عزوجل)

لنگرِ رسائل کی دُ ھو میں   مَچائیں   

        اپنے عزیزوں   کے اِیصالِ ثواب کیلئے ، عُرسوں   اور اجتِماعات ، شادی غمی کی تقریبات ، جنازہ و بارات اور جُلوسِ میلادمیں   سنّتوں   بھرے رسائل اور رنگ برنگے مَدَنی پھولوں   کے جُدا جُدا پمفلٹ مکتبۃ المدینہ سے ھدِیّۃً حاصِل کر کے خوب خوب تقسیم کیجئے ، شادی کارڈز میں   بھی ایک ایک رسالہ نِتھی کر دیجئے ۔ اگر آپ کا دیا ہوا رسالہ یا



Total Pages: 11

Go To