Book Name:Ghafil Darzi

دعوتِ اسلامی نے جنت کے موضوع پر بیان کیا تھا ۔ میں   نے والدصاحب کے دل میں   بھی دعوتِ اسلامی کی محبت محسوس کی ۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ گھر میں    امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے رسائل پڑھے جانے کے ساتھ ساتھ ’’سنتوں   بھرے بیانات‘‘ کی کیسٹیں   بھی سنی جانے لگیں   ۔

            رسائلِ عطاریہ  پڑھنے اور  امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے سنتوں   بھرے بیانات کی کیسٹیں   سنتے رہنے کی برکت سے نہ صرف ہماراپورا گھر بلکہ خاندان چند دیگر گھرانے بھی بدمذہبیت سے توبہ کرکے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگئے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارے خاندان میں   برقع پہننے کا قطعاً رواج نہ تھابلکہ بدقسمتی سے برقع پہننا بہت زیادہ معیو ب سمجھا جاتا تھا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ  امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے رسالے کی وہ بہاریں   نصیب ہوئیں   کہ میری بہنیں   مَدَنی برقع پہننے لگیں   اوردعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوکر ذمہ دار اسلامی بہنوں   کے ساتھ سنتوں   بھرے اجتماع میں   شرکت کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر مَدَنی کاموں   میں   بھی شامل رہتی ہیں   ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلّمیں   خود بھی دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں   رچ بس چکا ہوں  ۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو  

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

{11} فِلموں   کا جُنونی

            ضِلع بَہَاوَلپور(پنجاب، پاکستان) کے ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ اسکول میں   بُرے ماحول کے سبب فلموں   کا جُنون کی حد تک شوقین ہوگیا تھا، صرف

فلمیں   دیکھنے دوسرے شہروں   مَثَلاً لاہور، اوکاڑہ وغیرہ حتیّٰ کہ کراچی تک پَہنچ جاتا ۔  فلموں   کے SEX APEALمناظِر کی نُحُوست کے باعِث مَعاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بے پردہ لڑکیوں   کا کالج تک پیچھا کرنا اور روزانہ داڑھی مُنڈانا میری عادت تھی ۔  نُحُوست بالائے نُحُوست یہ کہ مجھ پر تِھئیٹَر، سرکس اور موت کے کُنویں   میں   کام کرنے کا بھوت سُوار ہوگیا ۔  گھر والے اِنتِہائی پریشان تھے ۔

            ایک دن والِد صاحِب نے دعوتِ اسلامی کے ذمہ داران سے بات کرکے عَلاقے کے عاشِقانِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہمراہ مَدَنی قافِلے میں   سفر پر بھیج دیا ۔  آخِری دن امیرِ قافِلہ نے مجھیامیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا منفردرِسالہ ’’کالے بچّھو‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)  پڑھنے کو دیا، میں   نے پڑھا تو کانپ اُٹھا ۔  فوراً گناہوں   سے توبہ کی اور چہرے پر ایک مُٹّھی داڑھی سجانے کی نیّت کرلی ۔  واپَسی پر دعوتِ اسلامی کے ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں   بھرے اجتماع میں   شرکت کی اور مکتبۃُ المدینہ کی جانِب سے جاری ہونے والے امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے بیان کی کیسٹ جس کا نام ’’ڈھل جائے گی یہ جوانی‘‘ تھا، خریدی  ۔

             جب گھر آکر بیان سُنا تو اُس نے میرے دل کی دُنیا ہی بدل کر رکھ دی! اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ میں   پابندی سے نَمازیں   پڑھنے لگا اور دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام شروع کردیا ۔   اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اِس وقت(یہ بیان دیتے وقت) میں   اپنے شہر میں   مَدَنی قافِلہ ذمّہ دار کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام کر رہا ہوں   ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

آپ بھی رسالہ’’کالے بچھو ‘‘کا مطالعہ کیجئے اور اپنے چہرے کو دشمنانِ مصطفی کی نحوست سے پاک کیجئے  ۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو  

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

{12}ایک غیر مسلم کا قَبولِ اسلام

           تحصیل ٹانڈا ضلع آمبیڈ کرنگر( یو پی ھند) کے ایک اسلامی بھائی کا کچھ اس طرح بیان ہے ، میں   کُفر کی تاریک وادیوں   میں   بھٹک رہا تھا ، ایک دن کسی نے امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کا ایک رسالہ اِحتِرمِ مُسلم تحفے میں  دیا میں   نے پڑھا تو حیرت زدہ رَہ گیا کہ جن مسلمانوں   کو میں   نے ہمیشہ نفرت کی نگاہ سے دیکھا ہے ان کا مذہب ’’ اسلام‘‘ آپَس میں   اِس قَدَر اَمْن و آشتی کاپیام دیتا ہے ! رسالے کی تحریر تاثیر کا تیر بن کر میرے جگر میں   پیوست ہو گئی اور میرے دل میں   اسلام کی مَحَبَّت کا چشمہ موجیں   مارنے لگا ۔  ایک دن میں  بس میں  سفر کر رہا تھا کہ چند داڑھی اور عمامہ والے اِسلامی بھائیوں   کا قافِلہ بھی بس میں   سُوار ہوا ، میں   دیکھتے ہی سمجھ گیا کہ یہ مسلمان ہیں   ،  میرے دل میں   اسلام کی مَحَبَّتتو پیدا ہوہی چکی تھی لہٰذا میں   اِحتِرام کی نظر سے ان کودیکھنے لگا ، اِتنے میں   ان میں  سے ایک اسلامی بھائی نے نبیِّ پاکصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وا ٰلہٖ وسلَّم  کی شان میں  نعت شریف پڑھنی شروع کر دی، مجھے اُس کا انداز بے حد بھلا لگا، میری دلچسپی دیکھ کر ان میں   سے ایک نے مجھ سے گُفتُگُو شُروع کر دی وہ تاڑ گیا کہ میں   مسلمان نہیں   ہوں  ، اُس نے مسکراتے ہوئے بڑے دلنشین انداز میں   مجھ سے کہا ، میں   آپ کو اسلام قَبول کرنے کی درخواست کرتا ہوں  ، رسالہ اِحتِرام مُسلم پڑھ کر میں  چونکہ



Total Pages: 11

Go To