Book Name:Ghafil Darzi

میرے قلب میں   انقلاب بَرپا ہو چکا تھا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ  یہ بیان دیتے وقت میں   دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوچکا ہوں  ، میری ساری بُری عادتیں   چھوٹ چکی ہیں   اور میں   نے چہرے پر سنت کے مطابق داڑھی شریف سجانے کے ساتھ ساتھ دیگر سنتوں   پربھی عمل شروع کردیا ہے  ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ سارا دن سر پر عمامہ شریف سجا رہتا ہے ۔  عاشقانِ رسول کے ہمراہ مَدَنی قافلوں   میں پابندی سے سفر کرنے کا معمول بنا لیا ہے ۔  2000؁ء میں   جب  امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کانپور میں   تشریف لائے تو میں   امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے ذریعے سلسلہ عالیہ قادِریہ رَضَویہ میں   داخل ہو کر ’’عطاری‘‘ بھی بن گیا ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

            آپ بھی پہلی فرصت میں   ’’بُرے خاتمے کے اسباب ‘‘ پڑھئے اور ان اسباب سے بچنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے ۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو  

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

{10}کربلا کا خونی منظر

            حیدرآباد(باب الاسلام سندھ پاکستان) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ غالِباً2004؁ ء کی بات ہے فیضان مدینہ میں   ایک ذمہ دار مبلغ نے (جو دعوت اسلامی کے مَدَنی ماحول سے کم و بیش 15سال سے وابستہ ہیں   )حیرت انگیز انکشاف کیا ۔ انہوں   نے بتایاکہ میرا خاندان بدمذہب فرقیسے تعلق رکھتا تھا ۔  بچپن ہی سے ہمیں  یہ ذہن دیاگیا کہ سُنی علمائِ کرام اور کسی دین دار شخص کے قریب بھی مت جاناورنہ (معاذا للہ عزوجل) وہ تمہیں   گمراہ کردیں   گے ۔  حتی کے ہم کسی عاشِقِ رسول  سُنّی کو مذہبی حلئے میں   دیکھتے تو(معاذا للہ عزوجل) ان پر آوازیں   کستے اور ان کامذاق اڑاتے ۔ میں  فلموں   کا انتہائی شوقین تھا ۔  چھٹی کے دن دوستوں   کے ہمراہ سینما گھرجا کر فلم دیکھنے کا عرصہ دراز سے معمول تھا ۔  زندگی اسی طرح غفلت میں   بسر ہو رہی تھی کہ میرے نصیب کچھ یوں   جاگے …

             1994؁ء کی بات ہے ، غالباً شَعبانُ المُعَظَّم کا مہینہ تھا، میں  اس وقت  کالج میں   پڑھتا تھا ۔ ہمارے رشتے کے ماموں   جوبدعقیدگی سے توبہ کرکے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کو اپنا چکے تھے اور امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے ذریعے سلسلہ عالیہ قادِریہ رَضَویہ میں   داخل ہو کر ’’عطاری‘‘ بھی بن چکے تھے ۔  سارادن سبز عمامہ شریف کا تاج سجائے رکھتے تھے  ۔ ایک دن بروز جمعۃ المبارک صبح کے وقت گھر پر تشریف لائے اور رخصت ہوتے وقت مجھے شہیدانِ کربلا رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے متعلق امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا رسالہ تحفہ میں   دیا ۔ میں   نے یہ سوچ کر لے لیا کہ ان کے جانے کے بعد کہیں   رکھ چھوڑوں   گا ۔  مگر جب سرورق پر رسالے کا نام دیکھا تو اپنائیت سی محسوس ہوئی  ۔ چنانچہ میں   نے رسالہ پڑھنا شروع لر دیا ۔  اَہلِ بیتِ کرام علیہم الرضوان سے والہانہ عقیدت کا اظہاراتنے مہذب اور باادب انداز میں   پہلی بار پڑھ رہا تھا ۔  انداز ِتحریر اتنا پُرسوزو پُر تاثیر تھا کہ مجھ پر رقّت طاری ہوگئی اور میں   کربلا والوں   پر ہونے والے مظالم کو یاد کرکے رونے لگا ۔ واقعۂ کربلا کے ضمن میں    امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے جن اصلاحی مَدَنی پھولوں   سے نوازاتھا انہوں   نے تومیرے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ شہدائے کربلا سے متعلق بیانات تو بارہا سنے اور پڑھے تھے مگر ’’درسِ واقعہ کربلا‘‘ آج پہلی بار سمجھ میں   آیا تھا ۔ پھررسالہ کے آخر میں   دئیے گئے ’’خونخوارچھپکلی‘‘ والے واقعہ کو پڑھ کر تومیں   کانپ ہی اٹھا ۔  میری عجیب کیفیت ہورہی تھی ۔ میں   نے بہن کو قریب بلایا اور اسے پڑھ کر سنانے لگا ۔  رسالہ سن کروہ رونے لگی یہاں   تک کہ اسکی ہچکیاں   بندھ گئیں    ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ میں   نے اور بہن نے اسی وقت توبہ کی اور نماز پڑھنے کی نیّت کرلی ۔  شام کوجب میرے دوست حسبِ معمول سینما جانے کیلئے بلانے آئے ۔  تو میں   نے معذرت کرلی میرے دوست حیران تھے مگر میں   نے ان سے زیادہ گفتگو نہیں   کی ۔  

            اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ چند دنوں   کے بعد یہی رسالہ والدِ محترم اور والدہ محترمہ کو بھی سنایاتو وہ بھی بے حد متاثر ہوئے اورباہمی مشورے سے آئندہ گھر میں   T.Vنہ چلانے کا عہد کرلیا ۔  جب جمعرات کا دن آیا تو میں   نے گھر والوں   سے کہا کہ میں   دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں   بھرے اجتماع میں   جانا چاہتا ہوں  ۔ یہ سن کر والدہ محترمہ نے جو کہ  امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کارسالہ پڑھ کر متاثر توہوئی تھیں  مگر اجتماع میں   جانے کی اجازت دینے سے یہ کہتے ہوئے انکارکردیا کہ صرف نمازپڑھو یہی کافی ہے ، کسی اجتماع وغیرہ میں   جانے کی کوئی ضَرورت نہیں   ہے ۔  میں   نے ضد کی تووالد صاحب نے والدہ سے فرمایا  : ’’ ارے جانے دو، ان کے ماموں   بھی کہتے رہتے ہیں  ، وہ بھی خوش ہوجائیں   گے ۔ ‘‘ میں   نے موقع غنیمت جانتے ہوئے والدمحترم کو بھی اپنے ساتھ اجتماع میں   چلنے کی دعوت پیش کر دی کہ ابو آپ بھی چلیں  ۔ بہن بھی میرا ساتھ دینے لگی، ابو کچھ تردُّدکے بعد بالآخر چلنے کیلئے تیار ہوگئے ۔

             اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ پہلے ہی ہفتہ وار سنتوں   بھرے اجتماع میں   شرکت کی بَرَکت سے میری زندگی میں   مدنی انقلاب برپا ہوگیا  ۔ مجھے آج تک یاد ہے کہ اجتماع میں  مبلغِ



Total Pages: 11

Go To