Book Name:Ghafil Darzi

وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں   ہدیۂ نعت پیش کرنے کا سلسلہ رہا  ۔ اس کے بعد مبلغِ دعوتِ اسلامی نے (جوباب المدینہ کراچی سے تشریف لائے تھے ) بیان شروع کیا ۔ ان کا بیان سن کر میں   بہت متأثر ہوا  ۔ انہوں   نے دعوتِ اسلامی کی چند مَدَنی بہاریں   بھی سنائیں   ۔ امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی ذاتِ مبارَکہ سے ظاہر ہونے والی بَرَکات و کرامات کا بھی تذکرہ کیا ۔ اجتماعِ ذکرونعت میں   شریک ہونے کے بعد میں   گھر چلاآیا ۔

            کچھ عرصے بعد میری ایک اسلامی بھائی سے ملاقات ہوئی  ۔ انہوں   نے مجھے امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے کچھ رسائل دئیے ، شربت بھی پلایااور مَدَنی قافلے میں   سفر کی دعوت پیش کی ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ  ان کی ترغیب پر میں   نے عاشِقانِ رسول کی صحبت میں   مَدَنی قافلے میں   سفر کی سعادت حاصل کی ۔  امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  سے مرید ہوکر عطاری بھی بن گیااور اب تربیتی کورس کرنے کے بعد اِمامت کورس کرنے کیلئے بھی اپنا نام لکھوادیاہے ۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو  

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

{8}مُرشِدِ کامِل  کی نَظَر

            کوٹ عطاری(کوٹری) باب الاسلام سندھ کے 17سالہ نوجوان کا حلفیہ بیان کچھ یوں   ہے کہ میں   فیشن کا انتہائی شوقین تھا  ۔ دوستوں   کے ساتھ گھومنا پھرنا اور فلمی گیت گنگنانا میری عادت میں   شامل تھا ۔  ایک بار کوٹ عطاری فیضانِ مدینہ میں  دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں   بھرے اجتماع میں   شرکت کی سعادت ملی ۔ وہاں  مجھے ایک اسلامی بھائی نے امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کارسالہ ’’ 28 کلماتِ کفر‘‘تحفے میں   دیا ۔ میں  نے گھر جاکر اس رسالے کو پڑھنا شروع کیا ۔ میں   رسالہ پڑھتا گیا اورتوبہ کرتا گیا  ۔ اس رسالے کو پڑھ کرمیں   بہت متأثر ہوا اور ایمان کی حفاظت کا ذہن بھی ملا ۔ میں   امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے ذریعے قادریہ رضویہ عطاریہ سلسلے میں   داخل ہوگیا  ۔

            پھر ایک دن کسی اسلامی بھائی نے امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے رسائل ’’ احترامِ مسلم ‘‘اور’’ باحیا نوجوان‘‘ تحفے میں   دئیے ۔  میں   نے جب بالخصوص رسالہ’’باحیا نوجوان‘‘ پڑھا تو کانپ اٹھا ۔ اس میں   امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے نگاہوں   کی حفاظت اور حیا سے متعلق مَدَنی پھول اور ترغیبی نِکات بڑی حکمتوں   کے ساتھ پیش فرمائے تھے ۔ اس رسالے کو پڑھ کر نگاہ کی حفاظت کی ایسی سوچ ملی کہ آج کم و بیش 3سال کا عرصہ ہوچکا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ  نگاہیں   جھکائے رکھنے کی کچھ ایسی عادت پڑگئی ہے کہ اب مشکل پیش نہیں   آتی بلکہ سُکون رہتا ہے ۔  ایک بار عجیب چٹکلہ ہوا کہ میں  ’’ مجلسِ مکتوبات و تعویذاتِ عطاریہ‘‘ کے بستے پر تعویذاتِ عطاریہ لینے کی غرض سے پہنچا تو میری نظریں   جھکانے کے انداز سے وہ غلط فہمی کے باعث مجھے نابینا سمجھ بیٹھے  ۔ میں  نے ان کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے بتایا کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِعَزَّوَجَلَّ میں   دیکھ سکتا ہوں   ۔ مگر میں   اپنے پیرو مرشِدشَیخِ طریقت ، امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی توجہ کی بَرَکت سے نگاہیں   جھکا کر رکھنے والی سنت پر عمل پیرا ہوں  ۔

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اُن کے علاقے کے ایک اسلامی بھائی کا کہنا ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ان پر مرشِد کی ایسی توجہ ہے کہ لگتا ہے ان کی گردن کسی نے پکڑ کر جھکا رکھی ہو ۔  لوگ ان کے اس طرح ہردم نظر جھکائے رکھنے پر حیران ہیں   ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اِستقامت عطا فرمائے ۔ آپ بھی رسالہ ’’باحیا نوجوان ‘‘پڑھئے اور اس کی برکات کا کھلی آنکھوں   سے نظارہ کیجئے ۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو  

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

{9}بُرے خاتمے کے اسباب

            صوبہ یو-پی-کانپور(ہند) کے مقیم 22سالہ اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میں   کم عمری ہی سے بُرے ماحول کی نُحوست کے باعث بُری عادتوں   کا شکار ہوچکا تھا ۔ جواکھیلنا، چوری کرنامیری عادت اور فلمیں   دیکھنا، گانے باجے سننا میرا شوق تھا ، ماں   باپ کاانتہائی نافرمان تھا ، ( معا ذ اللہ عزوجل)ان کو کسی خاطر میں   نہیں   لاتا تھا ۔

            ایک روزکسی کام سے قریبی شہر جانا ہوا تو ایک اسلامی بھائی نے امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کارسالہ’ برے خاتمے کے اسباب‘‘ تحفے میں   دیا ۔  رات سونے سے پہلے پڑھنا شروع کیا تو دل میں   انجامِ گناہ کا خوف اور بُری موت کا ڈر محسوس ہوا ۔  اسی بارے میں   سوچتے سوچتے نہ جانے کب میں   سوگیا ۔ میں   جو پوری زندگی سوتے جاگتے میں   بُرے خیالات کے باعث گندے خواب دیکھا کرتا تھا ، مگر آج جب میری آنکھ لگی تو میری سوئی ہوئی قسمت  انگڑ ائی لے کرجاگ اُٹھی ۔ میں   نے اپنے آپ کو مدینے شریف میں   پایا، میں   نے سبز سبز گنبد کی زیارت کی جس نے مجھ پر رقت طاری کردی ۔  جب آنکھ کھلی اس وقت بھی میری آنکھوں   سے آنسو بہہ رہے تھے اور



Total Pages: 11

Go To