Book Name:Ghafil Darzi

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

{5}فرداً فرداً معافی مانگنے کا سلسلہ

            باب الاسلام سندھ کے ایک اسلامی بھائی کا حلفیہ بیان کچھ اس طرح سے ہے کہ رسالہ ’’غیبت کی تباہ کاریاں  ‘‘ کسی نے پڑھ کر سنایا تو مجھ پر حُقوق العباد

کے حوالے سے خوف کا اسقدر غَلَبہ ہواکہ میری زبان گُنگ ہوگئی، آنکھوں   سے بے ساختہ آنسو بہنے لگے اورزبان کی بے احتیاطی کا شدت سے احساس ہونے لگا  ۔ امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی تحریر میں   کچھ ایسی تاثیر تھی کہ میں   نے ذہن پرخوب زور دے کر اپنے متعلقین اورجس کسی سے کسی قسم کا بھی واسطہ رہا ہے ، اپنی یاداشت کے مطابق ان کی فہرست بنائی اور فرداً فرداً معافی مانگنے کی کوشش بھی  شروع کردی  ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

            ’’غیبت کی تباہ کاریاں  ‘‘ دراصل امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا وہ رقّت انگیز مکتوب ہے جو آپ نے تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ، دیگر مجالس اور ذمہ دار اسلامی بھائیوں   کے نام بیرونِ ملک سے لکھا تھا ۔ غیبت کے موضوع پر ایسی جامع اور منفرد تحریر شاید آپ کی نظر سے پہلے نہ گزری ہو ۔ اس رسالے کو خود بھی پڑھئے اور دوسرے اسلامی بھائیوں   کو بھی پڑھنے کی ترغیب دیجئے  ۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو  

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

{6} زرعی یونیورسٹی کے پروفیسر کے تا ثرات

            راولا کوٹ (آزاد کشمیر)کے مبلغِ دعوت اسلامی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میں  نے زرعی یونیورسٹی (راولا کوٹ )کے ایک پروفیسر پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا  ’’غیبت کی تباہ کاریاں  ‘‘  نامی رسالہ تحفے میں   پیش کیا ۔  کچھ عرصہ بعد دوبارہ ملاقات ہوئی تو ان کے تاثرات کچھ یوں   تھے  : ’’ میں   رات کے وقت جب اس رسالہ کا مطالعہ کررہا تھا ، میری آنکھوں   سے آنسو رواں   تھے ، کیونکہ غیبت سے متعلق جو حقائق اس رسالہ سے مجھ پر منکشف ہوئے وہ اس سے پہلے میں   نے کسی کتاب میں   نہیں   پَڑھے اورنہ کسی نے آج تک بتایا ۔  میں   امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی اس علمی کاوش پر بے اختیار عش عش کر اٹھا ۔  فی زمانہ غیبت کے موضوع پر اس سے بہتر تحریر میری نظر میں   نہیں   ہے ۔ پروفیسرصاحب چونکہ ایک مسجد کے خطیب بھی ہیں   لہٰذا!انہوں   نے جمعہ کے دن یہی رسالہ یعنی ’’غیبت کی تباہ کاریاں  ‘‘   پڑھ کر سنایا ۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو  

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

{7فَا تِحہ کا طریقہ

            باب الاسلام سندھ کے ایک اسلامی بھائی کے مکتوب کا خلا صہ ہے کہ بُری صحبت میں   اٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے میں   گناہوں   کی دلدل میں   پھنس چکا تھا ۔ شاید ہی کوئی گناہ ہو جو میں   نے نہ کیا ہو!آہ! زندگی یوں   ہی غفلت کی نذر ہورہی تھی ۔  کبھی کبھی باب المدینہ (کراچی )میں   جانا ہوتا تو مسجد میں   نماز پڑھنے چلا جاتا ۔ وہاں   نماز کے بعد فیضانِ سنّت کادرس ہوتاتھا ۔  سفیدمَدَنی لباس میں   ملبوس، سبز عمامہ شریف سر پر سجائے ہوئے اسلامی بھائی جب درس کی ابتداء میں   فرماتے : ’’ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! قریب قریب تشریف لائیے ۔ ‘‘تو میں   بے اختیاراُن کے قریب ہوکردرس سننے بیٹھ جاتااورآخر میں   مصافحہ کرکے چل پڑتا ۔

            ایک دن ہمارے کوئی عزیز ایک رسالہ ’’فاتحہ کا طریقہ‘‘ میرے لئے لائے  ۔ میں   نے وہ رسالہ پڑھا تواس پر عمل کرنے کا جذبہ پیدا ہوا ۔ اسی طرح مجھے امیراہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے دیگر رسائلپڑھنے کا بھی موقع ملا ۔ جو رسالہ بھی پڑھتا تھا ، مزید عمل کا جذبہ پیدا ہوتا ۔

            ایک بارمیں   کسی کام سے اپنے گاؤں   کے قریبی شہر کھپرو گیا ۔  وہاں   مجھے معلوم ہوا کہ دعوتِ اسلامی کی جانب سے ’’ گیارھویں   شریف ‘‘ کے سلسلے میں   اِجتماعِ ذکرو نعت کا اہتمام ہے ۔ جس میں   مبلغِ دعوتِ اسلامی بیا ن بھی فرمائیں   گے  ۔ میں   گھر واپس آنے کے بجائے شہرہی میں   رُک گیا ۔  میر پورخاص روڈ شہید چوک پر ’’گیارھویں   شریف ‘‘ کاسنتوں   بھرا اجتماع شروع ہوا  ۔ بڑا ایمان افروز منظر تھا ۔ سنتوں   بھرے اجتماعِ ذکرو نعت کا آغاز تلاوتِ قراٰن پاک سے ہوا پھر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ



Total Pages: 11

Go To