Book Name:Ghafil Darzi

            میں   نے اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کا تعارف پیش کیا اور انہیں   مَدَنی ماحول کی چند بہاریں   سنائیں   ۔ گفتگو کے دوران جب میں   نے پوچھا :  ’’آپ کسی سے مرید ہیں  ؟ ‘‘تو وہ طیش میں   آ کر کہنے لگے  : ’’بھائی !ہم بے پیرے ہیں   ، بے پیرے !اور بے پیرے ہی صحیح ہیں   کیونکہ میری نظر میں   اس وقت کوئی ایسا مردِ کامل نہیں   جس کا مرید بناجائے ۔ ‘‘ گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھتا رہا ۔ میں   نے انفرادی کوشش جاری رکھتے ہوئے شیخِ طریقت، امیرِاَہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا تحریر کردہ رسالہ’’غفلت‘‘ پڑھنے کیلئے پیش کردیا ۔ (یہ رسالہ مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے ھدیۃًطلب کیا جاسکتا ہے ) ۔ وہ  آفیسرکچھ دیر رسالہ ہاتھ میں   لئے سرِورق دیکھتے رہے ۔  پھرانہوں   نے بڑی توجہ سے اسے پڑھنا شروع کردیا اور حیرت انگیز طور پرمکمل رسالہ پڑھ لیا ۔ ایک ولیِ کامل کی پُراثر تحریر کی بَرَکت ان کے چہرے سے ظاہر ہورہی تھی ۔  ان کی آنکھوں   سے آنسو نکل آئے  ۔ بھرائی ہوئی آواز میں  کہنے لگے : ’’یہ کس کی تحریر ہے ؟ خدا کی قسم میں   نے زندگی میں   پہلی مرتبہ ایسی پر اثر اور سحر انگیز تحریر پڑھی ہے ۔  اس نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔  یقیناً یہ اللہ کے مقبول بندے ہیں  ۔ ‘‘جب میں   نے انہیں   بتایا کہ یہ تحریر زمانے کے ولی ، سلسلہ قادِریہ رَضَویہ کے عظیم بزرگ، شیخ طریقت ، امیرِ اَہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادِری رَضَوی دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی ہے تووہ امیراہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے ملاقات کیلئے بے قرار نظر آنے لگے ۔ ’’ مجھے انکا پتا لکھوادیں  ، میں   ان کی بارگاہ میں   حاضر ہو کر ان کے ہاتھ پَر بیعت کروں   گا‘‘انہوں   نے منت بھرے لہجے میں   کہا ۔  میں   نے عرض کی کہ آپ اپنانام اور پتا لکھوا دیں  ، اِنْ شآء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو امیرِ اَہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا مرید کروا دیاجائیگا ۔

            اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وہ امیرِ اَہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا پُر اثررسالہ پڑھ کر اس قدر متاثر ہوچکے تھے کہ انہوں   نے ہاتھوں   ہاتھ مرید ہونے کیلئے اپنا نام پیش کردیا

 اور دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں   بھرے اجتماع میں   شرکت کی نیت بھی کی ۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

{4}نا ئٹ کوچ کی رُوداد

            حیدرآباد(باب الاسلام سندھ پاکستان) کے اسلامی بھائی کا بیان کچھ یوں   ہے کہ غالِباً2004؁ ء کی بات ہے میں  رات کم و بیش9 : 00 بجے حیدر آباد اسٹیشن سے مرکز الاولیاء لاہور جانے کیلئے ’’نائٹ کوچ‘‘ میں   سُوار ہوا ۔  ٹرین چلنے کے کچھ ہی دیر بعد ایک نوجوان وہاں   آیا جو مسافروں   کوشب بسری کے لئے تکیے اور چادریں  کرائے پر دے رہا تھا  ۔ میں   نے اس پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے امیرِ اَہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ    کا رِسالہ’اَ مْرَد پسندی کی تباہ کاریاں  ‘‘ تحفے میں   پیش کردیا ۔

    کم و بیش ایک ماہ بعد دوبارہ بذریعہ ’’نائٹ کوچ‘‘ مرکز الاولیاء(لاہور)جانا ہوا ۔  روہڑی اسٹیشن پروہی نوجوان مجھے دوبارہ دکھائی دیا ۔  اس نے آگے بڑھ کر پرتپاک انداز میں   ملاقات کی اور باصرارٹرین میں   بنی ہوئی کینٹین میں   لے گیا ۔ وہاں   اس نے مجھے چائے پیش کی اور کہنے لگا : ’’آپ نے مجھے جو رسالہ دیا تھا، خدا کی قسم! اسے پڑھ کر مجھے رونا آگیااور اب بھی جب یہ رسالہ پڑھتا ہوں   تو میرے آنسوبہنے لگتے ہیں  ۔ ٹرین میں   نگاہوں   کی حفاظت بہت مشکل ہے ۔ مگر  رسالہ پڑھنے کے بعد ، میں   کوشش کرتا ہوں   کہ میری نظر کسی غیر محرم  پرنہ پڑنے پائے ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ  نماز بھی پابندی سے پڑھنا شروع کردی ہے ۔ ‘‘

            میری ترغیب پراس نے اپنا نام امیرِ اَہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  سے مرید ہونے کیلئے دے دیا  ۔ پھراُس نے بتایا کہ میرا تعلق کشمیر سے ہے اور میری دوستی ایک جہادی تنظیم کے بدعقیدہ لوگوں   سے بھی رہی ہے ۔ جس کی وجہ سے میرے نانا اور ماموں   جو کہ صحیح العقیدہ ہیں  ، مجھ سے سخت ناراض تھے یہاں   تک کہ انہوں   نے مجھ سے بات چیت کرنا بھی چھوڑ دی تھی  ۔ اس کے باوجودمیں   نے اُن بدعقیدہ لوگوں   کی صحبت نہیں   چھوڑی تھی  ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اب میں   یہ رسالہ پڑھنے کے بعد مضبوط ارادہ کرچکا ہوں   کہ ان بد عقیدہ لوگوں   کی صحبت میں   کبھی نہیں   بیٹھوں   گا ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! 

            اسی رسالے سے متعلق ایک اور اسلامی بھائی نے بتایا کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ  میں   نے جب پہلی باریہ رسالہ پڑھا تو اسقدرمتأثر ہواکہ اب تک میں   اسے کم و بیش72 مرتبہپڑھ چکا ہوں  اور مزید پڑھنے کا سلسلہ جار ی ہے ۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو  

 



Total Pages: 11

Go To