Book Name:Ghafil Darzi

بھرے رسائل بانٹنے کے بَہُت فوائد ہیں   ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

رَسا ئلِ عطّا ریہ کی بَہَاریں 

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اَلْحَمْدُللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ!اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں   کی اصلاح کی کوشش کے لئے دیگر ذرائع کے ساتھ ساتھ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں   کُتُب ورَسائل کے ذریعے بھی اسلامی بھائیوں   تک نیکی کی دعوت پہنچائی جاتی ہے ۔ امیرِ اَہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی تالیف کردہ کُتُب ورَسائل کا طرزِ تحریر عام فَہْم ، شیریں   اوراندازِ تفہیم ایسا ہمدردانہ ہوتا ہے کہ پڑھنے والا متاثر ہوئے بِغیر نہیں   رہ سکتا  ۔ یہی وجہ ہے کہ عوام وخَواص دونوں   آپ  دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی تحریروں   کے شیدائی ہیں  اور آپ  دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کُتُب ورَسائل کو نہ صرف خود پڑھتے ہیں   بلکہ دیگر مسلمانوں   کو پڑھنے کی ترغیب دلانے کے ساتھ ساتھ کثیر تعداد میں   خرید کر مفت تقسیم بھی کرتے ہیں  ۔ تادمِ تحریر درجنوں   موضوعات پر آپ دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی منفرد اُسلوب کی حامل متعدد کتب و رسائل اور تحریری بیانات منظر عام پر آچکے ہیں   ۔ اَلْحَمْدُللّٰہِ عَزَّوَجَلّ! امیرِ اَہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ان کُتُب ورَسائل کی بَرَکت سے کثیر مسلمانوں  کو  توبہ نصیب ہوئی اور ان کی زندگیوں   میں   مَدَنی انقلاب برپا ہوگیا ۔  رَسائلِ امیرِ اَہلسنّت  دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی مزید مَدَنی بہاریں  ملاحظہ ہوں  :  

{2}  غافل درزی

         ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خُلاصہ ہے :  میں   جن دنوں   پنجاب میں    درزی کا کام کرتاتھا، میرا کردارمعاذَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ انتہائی خراب تھا ، نَماز کی بالکل توفیق نہ تھی ، لڑائی بھڑائی تقریباً روزہ مرّہ کا معمول تھا، جھوٹ، غیبت، وعدہ خلافی ، غصّہ ، گالَم گلوچ، چوری ، بدنگاہی، فلمیں   ڈرامے دیکھنا ، گانے باجے سننا، راہ چلتی لڑکیوں   کو چھیڑ خانی کرنا، ماں   باپ کو ستانا، الغرض وہ کون سی بُرائی تھی جو مجھ میں   نہ تھی ۔ میری بداعمالیوں   سے تنگ آ کر میرے گھر والوں   نے مجھے بابُ المدینہ کراچی بھیج دیا ۔

            میں   نے بابُ المدینہ( کراچی) کے ایک کارخانے میں   ملازمت اختِیار کر لی، وہاں   لڑکیاں   بھی کام کرتی تھیں   ، اس لئے میری عادتیں  مزید بگڑ گئیں  ۔ میں   اس قَدَر بُرا بندہ تھا کہ کبھی کبھی تو خود اپنے آپ سے گِھن آتی تھی ۔ ایک روز مجھے پتا چلا کہ میرے ماموں   زادبھائی دعوتِ اسلامی کے ادارہ ، جامعۃ المدینہ (گلستانِ جوہرکراچی ) میں   درسِ نظامی کررہے ہیں  ۔ میں   ان سے ملنے پہنچا تو وہ انتہائی پُر تپاک طریقے سے مجھ سے ملے ، انہوں   نے انفرادی کوشِش کرتے ہوئے مجھے دعوتِ اسلامی کے سنّتوں   بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی جو میں   نے قبول کرلی  ۔ جب میں   اجتِماع میں   حاضِر ہوا تووہاں   مجھے کسی نے امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَ کا تُہُمُ العالیہ کے 2 رسائل ’’بڈھا پجاری‘‘ اور ’’کفن چور کے انکشافات‘‘ تحفے میں   دئیے  ۔

             میں   نے قیام گاہ پر آکر جب وہ پڑھے تو پہلی بار احساس ہوا کہ میں   اپنی زندگی برباد کر رہا ہوں   ۔ میں   نے اُسی وقت گناہوں   سے توبہ کی اور پنج وقتہ با جماعت نماز پڑھنے کی نیّت کرلی اور ہرجُمعرات پابندی کے ساتھ تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ میں  ہونے والے سنّتوں   بھرے اجتماع میں   شرکت کرنے لگا ۔ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں   داخل ہو کرامیرِ اَہلسنّت دامت بَرَ کا تُہُمُ العالیہ کامُرید بھی بن گیا ۔                

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلّ ایک ولی کامل سے مرید تو کیا ہوا  میری زندگی میں   مَدَنی انقلاب برپا ہوگیا ۔  ماموں   زاد بھائی کی انفرادی کوشش کی بَرَکت سے   مَدَنی قافلے میں   سفر کی بھی سعادت حاصل ہوئی ۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ عاشقانِ رسول کی صحبت کی بَرَکت سے میں   دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوگیا اورتادمِ بیان جامعۃ المدینہ میں   درسِ نظامی( یعنی عالم کورس) کے درجۂ ثانیہ کا طالبِ علم ہوں   ۔ اللہ تبارکَ وتعالیٰ میری مَدَنی تحریک دعوتِ اسلامی کو ہمیشہ نظرِ بد سے محفوظ رکھے کہ اِس کی بَرَکت سے مجھ جیسا گندی نالی کا کیڑا عزّت و آبرو کے ساتھ علمِ دین حاصِل کرنے میں   مشغول ہو گیا ۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو  

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

{3}خوش نصیب رِیْنجَرز آفیسر

            حیدرآباد(باب الاسلام سندھ پاکستان) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ غالِباً2002؁ ء کی بات ہے میں   نمازِ ظہر کے بعد باب المدینہ (کراچی) جانے کیلئے کوچ میں   سُوار ہوا ۔ دورانِ سفر برابر والی سیٹ پربیٹھے ہوئے اسلامی بھائی سے گفتگو ہوئی تو پتا چلاوہD.S.R ( یعنی رینجرز کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ) ہیں   ۔

 



Total Pages: 11

Go To