Book Name:Ghafil Darzi

             صالحین کے واقعات میں  چونکہ دلوں   کی جِلا، روحوں   کی تازگی اور فکرو نظر کی پاکیزگی پِنْہاں   ہے ۔  لہٰذا امّت کی اصلاح و خیر خواہی کے مقدس جذبے کے تَحت شعبۂ اصلاحی کتب(الْمدینۃُ الْعِلْمِیّۃ)نے امیرِ اَہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی حیاتِ مبارکہ کے روشن ابواب ، مثلاًآپ کی عبادات، مجاہَدات، اخلاقیات و دینی خدمات کے واقعات کے ساتھ ساتھ آپ کی ذاتِ مبارَکہ سے ظاہر ہونے والی بَرَکات و کرامات اور آپ کی تصنیفات و مکتوبات ، بیانات و ملفوظات کے فُیوضات کو بھی شائع کرنے کا قَصْد کیا ہے ۔

      اس سلسلے میں  رِسالہ’’ رَسائلِ عطاریہ کی مَدَنی بہاریں   ‘‘(حِصہ دومپیشِ خدمت ہے ۔ (حصہ اوّل ’’خوش نصیب میاں   بیوی ‘‘کے نام سے شائع ہوچکا ہے  ۔ )اِنْ شَآء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کا بغور مطالَعَہ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں   کی اصلاح کی کوشش کی مَدَنی سوچ پانے کا سبب بنے گا ۔ ‘‘

شعبہ اصلاحی کتب  مجلسِ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّۃ {دعوتِ اسلامی}

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ

اَمّابَعْدُ فَاَ عُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

  دُرُود شریف کی فضیلت

           شَیخِ طریقت ، امیرِ اَہلسنّت  ، با نیٔ دعوتِ اسلامی، حضرت علّامہ مولانا ابو بلال  محمد ا لیاس عطارقادِری رَضَوی ضیائی دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  اپنے منفرد رسالے ’’کباب سموسے کے نقصانات‘‘ میں  نبی کریم ، رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلمکا فرمانِ خوشبودارنقْل فرماتے ہیں  کہ’’جس نے یہ کہا، جَزَی اللّٰہُ عَنَّا مُحَمَّدًامَّاہُوَ اَہْلُہٗ ستَّر فِرِشتے ایک ہزار دن تک اس کیلئے نیکیاں   لکھتے رہیں   گے ۔   (ملتقطاً من الحدیثین فی المعجم الأوسط  ج۱ص ۸۲ حدیث ۲۳۵  دارالفکر عمان والمعجم الکبیرج۱۱ص۱۶۵ حدیث۱۱۵۰۹ دا ر احیاء التراث العربی بیروت)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

{1} ہِنْد ی نوجوان کی توبہ   

           کلکتّہ ( ھند) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خُلاصہ ہے کہ میں   سنّتوں   بھری زندگی سے بَہُت دُور ایک فیشن ایبل نوجوان تھا ۔  ایک رات گھر کی طرف آ تے ہوئے اَثنائے راہ سبز سبز عماموں   کی بہاریں   نظر آ ئیں    ۔ قریب گیا تو پتا چلا کہ بمبئی سے دعوتِ اسلامی والے عاشِقانِ رسول کا مَدَنی قافِلہ آ یا ہوا ہے جس کے سبب یہاں   سنّتوں   بھرا اجتِماع ہو رہا ہے ۔  میرے دل میں   آیا کہ یہ لوگ طویل سفر کر کے ہمارے شہرکلکتّہآئے ہیں  ، ان کو سننا چاہئے لہٰذا میں   اجتِماع میں   شریک ہو گیا ۔  اِختِتام پر ان حضرات نے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کے رسالے بانٹنے شُروع کئے ، خوش قسمتی سے ایک رسالہ میرے ہاتھ میں   بھی آ گیا ، اُس پر لکھا تھا ، بھیانک اُونٹ ۔ میں   گھر آگیا کل پڑھوں   گا یہ ذہن بنا کر رسالہ رکھ دیا اور سونے کی تیّاری کرنے لگا ۔ سونے سے قَبل جوں  ہی رِسالہ بھیا نک اونٹ کا جب وَرَق پلٹا تو میری نظر اِس عبارت پر پڑی ، ’’شیطان لاکھ سُستی دلائے مگر یہ رسالہ ضَرور پڑھ لیجئے ان شآء اللّٰہ عَزَّوّجَلَّآپ کے اندر مَدَنی انقِلاب برپا ہو جائیگا ۔ ‘‘ امیرِ اَہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کے حکمتوں   بھرے اِس جملے نے میری زبردست رَہنمائی کی میں   نے سوچا ، واقِعی شیطان مجھے یہ رسالہ کہاں   پڑھنے دے گا، کل کس نے دیکھی ہے ! نیکی میں   دیر نہیں   کرنی چاہئے ، اِس کوابھی پڑھ لینا چاہئے ۔ یہ سوچ کر میں   نے پڑھنا شُروع کیا ۔  اُس پاک پروردگار  عَزَّوّجَلَّکی قسم جس کے دربارِ عالی میں  حاضِرہو کر بروزِ قِیامت حساب دینا پڑے گا!جب میں   نے رِسالہ بھیانک اُونٹ پڑھا تو اُس میں   کفّارِ نابَکار کی جانِب سے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر توڑے جانے والے مظالم کا پُر سوز بیان پڑھ کر میں   اشکبار ہو گیا، میری نیند اُچَٹ گئی ، کافی دیر تک میں   روتا رہا ۔  راتوں   رات میں   نے عزم کیا کہ صُبح ہاتھوں   ہاتھ مَدَنی قافِلے میں   سفر کروں   گا ۔  جب صُبح والِدین کی خدمت میں   عرض کی تو انہوں   نے بخوشی اجازت مرحمت فرما دی اور میں   تین دن کیلئے عاشِقانِ رسول کے ساتھ مَدَنی قافِلے کا مسافِر بن گیا، قافِلے والوں   نے مجھے بدل کر کیا سے کیا بنا دیا!  اَلحمدُللّٰہ عَزَّوّجَلَّمیں   نَمازی بن کر پلٹا ، سبز عمامہ شریف کے تاج سے سر سبز ہو گیا ، تن مَدَنی لباس سے آ راستہ ہو گیا ۔  میری ماں   نے جب مجھے تبدیل ہوتا دیکھا تو بے حد خوش ہوئیں   اور خوب دعاؤں   سے نوازا ، عزیز و رشتہ دار سب مجھ سے خوش ہو گئے ۔  اَلحمدُ للّٰہعَزَّوّجَلَّآج کل دعوتِ اسلامی کی ایک تَحصیل مُشاوَرت کے خادِم (نگران) کی حیثیت سے حسبِ توفیق سنّتوں   کی دھومیں   مَچانے کی سعادت پا رہا ہوں   ۔

عاشِقانِ رسول    لائے جنّت کے پھول                         آؤ لینے چلیں                               قافِلے میں   چلو

بھاگتے ہیں   کہاں            آبھی جائیں   یہا ں                      پائیں  گے جنّتیں                                 قافِلے میں   چلو

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو  

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے !  امیرِ اَہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کارسالہ پڑھ کر عاشقانِ رسول کے ہمراہ راہِ خداعزوجل میں   سفر کرنے اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستگی نے ایک بے نَمازی ماڈَرن نوجوان کو کہاں   سے کہاں   پہنچا دیا! یہ بھی معلوم ہوا کہمکتبۃُ المدینہ  کی جانِب سے شائِع ہونے والے  سنّتوں   



Total Pages: 11

Go To