Book Name:Ghafil Darzi

پمفلٹ پڑھ کر کسی کا دل چوٹ کھا گیااور وہ نَمازی اور سنّتوں   کا عادی بن گیا تواِن شآء اللّٰہ عَزَّوّجَلَّ آپ کابھی دونوں   جہاں   میں  بیڑا پار ہوگا ۔

ہر مہینے     جو کوئی بارہ رسالے   بانٹ دے

ان شاء اللہ    دو جہاں   میں    اُس کا بیڑا پار ہے

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اِ یمان کی حفاظت

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُﷲِ عَزَّوَجَلَّہم مسلمان ہیں  اور  ایک مسلمان کے لئے اس کی سب سے قیمتی متاع اس کا ایمان ہے ۔ اس کی حفاظت کی فکر ہمیں   دنیاوی اشیاء سے کہیں   زیادہ ہونی چاہیے ۔   امامِ اہلسنّت، عظیم البرکت، مجددِ دین وملت  اعلیٰ حضرت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن  کا ارشاد ہے : عُلَمائے کرام فرماتے ہیں  جس کو (زندگی میں   )سلْب ایمان کاخوف نہیں   ہوتا، نَزْع کے وقت اُس کا ایمان سلْب ہوجانے کا شدید خطرہ ہے  ۔ (الملفوظ حصہ ۴ ص۳۹۰ حامد اینڈ کمپنی مرکز الاولیاء لاہور)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نیک اعمال پر استقامت کے علاوہ ایمان کی حفاظت کا ایک ذریعہکسی ’’مرشدِکامل ‘‘ سے بیعت ہوجانا بھی ہے  ۔

بَیْعَت کا ثُبوت :   اللہعَزَّوَجَلَّ  قرآن پاک میں   ارشاد فرماتا ہے ۔    

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْۚ- (پ۱۵ ، بنی اسرائیل  : ۷۱)

ترجمۂ کنزالایمان :  جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں   گے ۔

                تفسیرنورُ العِرفان میں  حکیم الامت مفتی احمد یا ر خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی اس آیتِ مبارَکہ کے تحت لکھتے ہیں  ’’ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں   کسی صالح کو اپنا امام بنالیناچاہیئے شریعت میں    ’’تقلید‘‘ کرکے ، اور طریقت میں   ’’بَیْعَت‘‘کرکے ، تاکہ حَشْر اچھوں   کے ساتھ ہو ۔  اگر صالح امام نہ ہوگا تو اس کا امام شیطان ہوگا ۔  اس آیت میں   تقلید، بَیْعَت اور مُریدی سب کا ثبوت ہے ۔ ‘‘

            پیارے اسلامی بھائیو!یاد رکھئے کہ کسی کو اپنا پیر بنانے کے لئے چار شرائط کا لحاظ انتہائی ضروری ہے ۔ چنانچہ امامِ اہلِسنّت ، مجددِ دین وملت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فتاویٰ رضویہ جلد21صفحہ 603پر پیر کی شرائط کچھ یوں   تحریر فرماتے ہیں   :

                (۱)صحیح العقیدہ سنّی ہو ۔ (۲تنا علم رکھتا ہو کہ اپنی ضروریات کے مسائل کتابوں   سے نکال سکے  ۔ (۳)فاسقِ معلن نہ ہو(ایک بار گناہِ کبیرہ کرنے والا یا گناہ صغیرہ پر اصرار کرنے والا یعنی تین یا اس سے زیادہ بار کرنے والا یا صغیرہ کو صغیرہ سمجھ کر ایک بار کرنے والا فاسق ہوتا ہے اور اگر علی الاعلان کرے تو فاسق ِ معلن ہے  ۔ )(۴)اس کا سلسلۂ بیعت نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تک متّصل (یعنی ملاہوا) ہو ۔

          پیارے اسلامی بھائیو!آج کے پرفِتن دور میں   پیری مُریدی کا سلسلہ وسیع تر ضَرورہے ، مگر جامع شرائط پیر اگر نایاب نہیں   تو کم یاب ضرور ہیں  ۔ لیکنیہ اَللّٰہ عَزَّوجَلَّ   کاخاص کرم ہے ! کہ وہ ہر دور میں   اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت کی اصلاح کیلئے اپنے اولیاء کرام رَحِمَھُمُ اللّٰہ کوپیدافرماتا ہے ۔  جو اپنی مومنانہ حکمت و فراست کے ذریعے لوگوں   میں    اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں   کی اصلاح کی کوشش کا مقدس جذبہ بیدارکرنے کی سعی فرماتے ہیں   ۔ جس کی ایک مثال قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کا مَدَنی ماحول ہمارے سامنے ہے ۔  جس کے امیر، بانیِ دعوت اسلامی، امیرِ اَہلسنّت ابوبلال حضرت علامہ مولانامحمد الیاس عطار قادری رَضوی دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  ہیں  ، آپ کی سعی پیہم نے لاکھوں   مسلمانوں   بالخصوص نوجوانوں   کی زندگیوں  میں  مَدَنی انقلاب برپا کردیا ۔

                آپ دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   ، قطب ِمدینہ خلیفۂ اعلیٰ حضرت حضرت سیدنا ضیاء الدین مدنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مرید اور مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خلیفہ ہیں   ۔ (آپ کو شارح بخاری، فقیہ اعظم ہند مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے سلاسلِ اربعہ قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ اور سہروردیہ کی خلافت و کتب و احادیث وغیرہ کی اجازت بھی عطا فرمائی، جانشین سیدی قطبِ مدینہ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب اشرفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی اپنی خلافت اور حاصل شدہ اسانید و اجازات سے نوازا ہے ۔  دنیائے اسلام کے اور بھی کئی اکابر علماء و مشائخ سے آپ کو خلافت حاصل ہے ۔ )

           امیرِ اَہلسنّت  دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں  مُرید کرتے ہیں  اورقادری سلسلے کی عظمت کے توکیاکہنے کہ اس کے عظیم پیشوا حضور سیدنا غوث الاعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ قیامت تک کے لئے (بفضل ِ خدا عزوجل)اپنے مریدوں   کے توبہ پر مرنے کے ضامن ہیں    ۔ (بہجۃ الاسرار، ص۱۹۱، مطبوعۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

مَدَ نی مشورہ  :           جوکسی کا مُرید نہ ہو اُسکی خدمت میں   مَدَنی مشورہ ہے ! کہ اس زمانے کے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کے عظیم بزرگ شیخ طریقت امیرِ اَہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کے وجودِ مسعود کو غنیمت جانتے ہوئے بلا تاخیر ان کا مُرید ہوجائے ۔  یقیناً مُرید ہونے میں   نقصان کا کوئی پہلو ہی نہیں  ، دونوں   جہاں   میں   اِنْ شَآء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فائدہ ہی فائدہ ہے ۔

شیطا نی رکاو ٹ  : مگریہ بات ذہن میں  رہے !کہ چونکہ امیرِ اَہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے ذریعےحضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مُرید بننے میں  ایمان کے تحفظ ، مرنے سے پہلے توبہ کی توفیق، جہنم سے آزادی اور جنت میں  داخلے جیسے عظیم منافع متوقع ہیں   ۔ لہٰذا شیطان آپ کو مُرید بننے سے روکنے کی بھرپور کوشش کرے گا ۔  آپ کے دل میں  خیال آئے گا، میں   ذراماں  باپ سے پوچھ لوں  ، دوستوں  کا بھی مشورہ لے لوں  ، ذرا نماز کا پابندبن جاؤں  ، ابھی جلدی کیا ہے ، ذرامُرید بننے کے قابل تو ہوجاؤں   ، پھر مُرید بھی بن جاؤں  گا ۔ میرے پیارے اسلامی بھائی!کہیں  قابل بننے کے انتظار میں  موت نہ آسنبھالے ، لہٰذا مُرید بننے میں  تاخیر نہیں  کرنی چاہئے ۔

شَجَرہِ عطاریہ  :            اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ امیرِ اَہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے ایک بہت ہی پیاراشجرہ شریف ‘‘بھی مرتب فرمایا ہے ۔ جس میں  گناہوں  سے بچنے کیلئے ، کام اٹک جائے تو اس وقت، اور روزی میں  بَرَکت کیلئے کیا کیا پڑھنا چاہئے ، نیزجا دوٹونے سے حفاظت کیلئے کیا کرنا چاہئے ، اسی طرح کے اور بھی ’’اَوراد‘‘لکھے ہیں   ۔ اس شجرے کو صرف وہ ہی پڑھ سکتے ہیں  ، جو امیرِ اَہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ک