Book Name:Badnaseeb Dulha

       بابُ المدینہ(کراچی ) کے مین کورنگی روڈ کے قریب مُقیم ایک اسلامی بھائی (عمر تقریباً۲۵ برس) کے بیان کا لُبّ لُباب ہے :میں ایک گیراج (GARAGE) پر کام کرتا تھا۔ اگر چِہ فی نَفسِہٖ گیراج یعنی گاڑیوں کی مَرمّت کاکام غَلَط نہیں ، مگر آج کل گناہوں بھرے حالات ہیں ۔جن کو واسِطہ پڑا ہو گا وہ جانتے ہوں گے کہ اکثر گیراج کا ماحول کس قَدَر گندا ہوتا ہے ، فی زمانہ گیراج میں کام کرنے والوں کیلئے حلال روزی کا حُصول جُوئے شِیر لانے کے مُترَادِف( مُ۔تَ۔را۔دِف) ہے ۔ گندے ماحول گندی روزی کی نَحوست کا عالَم تو دیکھئے کہ مجھ بد نصیب کو پنج وقتہ نَماز کُجا جُمُعہ بلکہ عیدَین کی نَمازوں کی بھی توفیق نہیں تھی، رات گئے تک T.V. پر مختلف فلمیں ڈرامے دیکھنے میں مشغول رہتا بلکہ ہر قسم کی چھوٹی بڑی بُرائیاں میرے اندر موجود تھیں ۔ میری اصلاح کے اسباب یوں ہوئے کہ مکتبۃ المدینہ سے جاری ہونے والے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے سنّتوں بھرے بیان’’ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی خُفیہ تدبیر‘‘ کی کیسٹ سُنی جس نے مجھے سرتا پا ہلا کر رکھ دیا۔اس کے بعد رَمَضانُ المُبارَک میں اِعتِکاف کی سعادت حاصِل ہوئی اور عاشقانِ رسول کے ساتھ تین دن کے مَدَنی قافِلے میں سفر کا شَرَف ملا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہو چکا ہوں ، پانچوں وقت نَمازوں کی پابندی ہے، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کاکروڑہا کروڑ احسان کہ مجھ جیسا گنہگار بے نَمازی انسان جو عید کے بہانے بھی مسجِدکا رُخ نہیں کرتا تھا یہ بیان دیتے وقت تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کی تنظیمی ترکیب کے مطابِق ایک مسجِد کی ذَیلی مُشاوَرَت کے نگران کی حیثیت سے بے نمازیوں کو نَمازی بنا نے کی جُستُجو میں رہتا ہے۔

بھائی گر چاہتے ہو نَمازیں پڑھوں ،مَدَنی ماحول میں کر لو تم اعتکاف

نیکیوں میں تمنّا ہے آگے بڑھوں ،مَدَنی ماحول میں کر لو تم اعتکاف

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو   

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(4)بد نصیب د ولہا 

         مرکز الاولیاء ( لاہور) بنگالی باغ کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے، کہ میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے طرح طرح کی  برائیوں میں مبتلا تھا ۔اکثر وقت برے دوستوں کے ساتھ تفریح گاہوں یا وڈیو سینٹر میں گزرتا تھا۔

          اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھ پر کرم کی بارش اس طرح برسی کہ داتا نگرمرکز الاولیاء ( لاہور) کے ایک اسلامی بھائی نے انفرادی کو شش کرتے ہوئے مجھے امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کا سنّتوں بھرا کیسٹ بیان بنام’’بدنصیب دولہا‘‘ سننے کیلئے دیا۔ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے فکرِ آخرت سے معموربیان کو سن کر میرے دل کی دُنیا ہی بدل گئی ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس بیان کی برکت سے میرے دل میں خوف خدا و عشق رسولعَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   پیدا ہوا۔میں نے گناہوں  سے توبہ کرکے آئندہ زندگی رِضائے الٰہیعَزَّوَجَلَّ  میں گزارنے کی نیّت کرلی۔داڑھی شریف سے میرا چہرہ سج گیااور سبز عمامہ شریف سے سر سبز ہوگیا۔فیشن زدہ بالوں کی جگہ مدنی زلفیں لہرانے لگیں ۔

          ہمارے گھر میں مَدَنی ماحول نہیں تھا لہٰذامیری اس تبدیلی پر میرے گھر والے خاص طور پر میرے والد صاحب میرے سخت خلاف ہوگئے۔لیکن اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی بَرَکت سے اُن سے اُلجھنے کے بجائے حکمتِ عملی کے ساتھ امیرِاَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے سنتوں بھرے بیانات سنوانے کی ترکیب بنائی۔ جس کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے۔ گھر کے تمام افراد بشمول والد صاحِب نمازی بن گئے ۔میرے دو بھائیوں نے بھی چہرے پَر سنّت کے مطابق داڑھی شریف سجانے کے ساتھ سبز سبز عمامے شریف کا تاج بھی پہن لیا۔       

           اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ اس وقت میں مرکز الا ولیائ( لاہور) کے ایک مدرسۃ المدینہ میں بحیثیت ِناظم خدمات انجام دے رہاہوں ،مدنی انعامات کی بھی ذمہ داری ہے۔ یہ تمام برکتیں مجھے اللہ ورسولعَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے کرم سے امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کا سنّتوں بھرا کیسٹ بیان بنام’’بدنصیب دُولہا‘‘ سننے کی بَرَکت سے حاصل ہوئیں ۔میں نے امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کا یہ سنّتوں بھرا کیسٹ بیان جس کو بھی سننے کیلئے دیا،  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس شخص کو نمازی بنتے دیکھا۔ میرا مشورہ ہے کہ  امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کا سنّتوں بھرا کیسٹ بیان بنام’’بدنصیب دولہا‘‘ یا کوئی بھی دوسرا بیان کم از کم ایک بار لازمی نہ صرف خود سنیں بلکہ دیگر اہلِ خانہ کو بھی ترغیب دلوا کر ضرور سنوائیں ۔( امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کے سنتوں بھرے بیانات کی کیسٹیں مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے طلب کی جاسکتی ہیں ۔)

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(5) کیسیٹ اجتماع میں د ید ارِ مصطفی صلی اللہ تَعَالٰی علیہ والہ وسلم

     دعوتِ اسلامی کے تین روزہ بینَ ا لْاَقوامی سنّتوں بھرے اجتِماع (صَحرائے مدینہ، مدینۃ الاولیا ء ملتان ) کے اختِتام پر عاشِقانِ رسول کے ڈھیر و ں  مَدَنی قافِلے سنّتوں کی تربیّت حاصِل کرنے کے لئے شہر بہ شہراور گائوں بہ گائوں روانہ ہوتے ہیں ، چُنانچِہ ایک عاشقِ رسول کے بیان کا اپنے انداز میں خُلاصہ پیشِ خدمت ہے:۱۴۲۳ ھ کے بینَ الاَقوامی تین روزہ سنّتوں بھرے اجتِماع سے عاشِقانِ رسول کا ایک مَدَنی قافِلہ 12 دن کیلئے ضِلع لَیّہ (پنجاب پاکستان ) پہنچا،جَدْ وَل کے مطابِق ایک دن جب کیسٹ اجتِماع  ہوا تو امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ    کا سنتّوں بھرابیان سُن کر ایک عاشقِ رسول پر رِقّت طاری ہوگئی اور وہ بِلک بِلک کررونے لگے یہاں تک کہ ہوش جاتا رہا ، جب اِفاقہ ہوا تو کافی ہَشّاش بَشّاش تھے ، اُنہوں نے بتایاکہ اَلْحمدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّمجھ گنہگار پر فیضانِ کرم ہوا اور مجھے مدینے کے تاجدار،دو عالَم کے مالک و مختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے دیدار کاشربت نصیب ہوگیا ۔دوسرے دن پھر کیسٹ اِجتِماع  ہوا اور  امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ    کے سنتّوں بھرے بیان کا کیسٹ سنا گیا۔اُن عاشقِ رسول کے ساتھ پھر وُہی کیفیَّت ہوئی ،اب کی بار خواب میں وہ زیارتِ رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اِسطرح فیضیاب ہوئے کہ مَدَنی قافِلے کے تما م مسافِر بھی حاضِرِ خدمت تھے۔

آنکھیں جو بند ہوں تو  مقدّر کھلیں حسنؔ

                          جلوے خود آئیں طالبِ دیدار کی طرف        (ذوقِ نعت)

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(6) APENDIXکاعلاج ہوگیا

        مَتھرا( ھند) کے ایک اسلامی بھائی کا کچھ یوں بیان ہے، میں ایک ماڈَرن نوجوان تھا ، فلمیں ڈِرامے دیکھنا میرا مشغلہ تھا ، مکتبۃ المدینہ سے جاری ہونے والے امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کے بیان کی کیسٹ ’’T.V. کی تباہ کاریاں ‘‘سننے کا شَرَف حاصِل ہوا جس نے میری کایا پلٹ دی، میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے مُنسلِک ہو گیا۔ مجھے APENDIXکی بیماری ہو گئی اور ڈاکٹر نے آپریشن کا مشورہ دیا۔ میں گھبرا گیا، ایسے میں دعوتِ اسلامی کے ایک مبلِّغ کی انفِرادی کوشِش کے نتیجے میں زندَگی میں پہلی بار عاشِقانِ رسول کے ساتھ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیّت کے تین دن کے مَدَنی قافِلے کا مسافِر بن گیا۔ اَلحمدُ لِلّٰہعَزَّوّجَلَّ  مَدَنی قافِلے کی بَرَکت



Total Pages: 7

Go To