Book Name:Badnaseeb Dulha

عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ خوشبودارنقْل فرماتے ہیں کہ’’جس نے مجھ پر سومرتبہ دُرُودِپاک پڑھا اللہ تَعَالٰی اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھ دیتا ہے کہ یہ نِفاق اور جہنَّم کی آگ سے آزاد ہے اور اُسے بروزِ قیامت شُہَداء کے ساتھ رکھے گا۔‘‘   (مجمع الزوائد،الحدیث ۱۷۲۹۸ ،ج۱۰، ص۲۵۳، دار الفکربیروت)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(1)  مسقط کی فیکٹری میں مَدَ نی انقلاب

        پاکستان کے ایک اسلامی بھائی کے حلفیہ بیان کا لُبِّ لُباب ہے: میں 1987 تا 1990 ایک سیاسی پارٹی سے وابَستہ رہا۔ آئے دن کے فسادات سے بیزار ہو کر گھر والوں نے مجھے بیرونِ پاکستان بھیجنے کی ٹھانی۔ چُنانچِہ 3.11.90 کو میں سلطنت عُمان کے دارالامارات مَسقَط کی ایک گارمنِٹ فیکٹری میں ملازِم ہو گیا۔ 1992 میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ایک اسلامی بھائی کام کے سلسلے میں ہماری فیکٹری میں بھرتی ہوئے۔ ان کی انفِرادی کوشِش سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نَمازی بنا۔ فیکٹری کا ماحول بَہُت ہی خراب تھا، صرف ہمارے شُعبے ہی کو لے لیجئے اُس میں آٹھ یا نو ٹیپ ریکارڈر تھے جن کے ذَرِیعے مختلف زَبانوں ، مَثَلاً اردو، پنجابی،پشتو، ہندی اور بنگالی وغیرہ میں اونچی آواز کے ساتھ گانے چلانے کا سلسلہ رَہتا۔ دعوتِ اسلامی والے عاشقِ رسول کی صُحبت کی بَرَکت سے  اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّمیں گانے باجوں سے مُتنَفِّر ہو گیا۔ باہَمی مشورہ سے ہم دونوں نے مکتبۃُ المدینہ سے جاری ہونے والی امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کے سنّتوں بھرے بیانات کی کیسٹیں  چلانی شروع کر دیں ۔ ابتِدائً بعض لوگوں نے ہماری مخالَفت بھی کی مگر ہم نے ہمّت نہیں ہاری۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّایک ولیِ کامل کے سنّتوں بھرے بیانات کی بَرَکات کا خود مجھ پر بھی ظُہُور ہونے لگا۔ بالخصوص ، قبر کی پہلی رات، نَیرنگیٔ دنیا، بد نصیب دولہا، قبر کی پکار اور تین قبریں نامی بیانات نے مجھے ہِلا کر رکھ دیا،( یہ تمام بیانات اپنے اپنے ملک کے مکتبۃُ المدینہکے بستے سے ھدِیۃً طلب کئے جا سکتے ہیں ) آخِرت کی تیاّری کیمَدَنی سوچ ملی اور میرا دل گناہوں سے نفرت کرنے لگا۔ اِس دَوران چند اور افراد بھی امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کیسنّتوں بھرے بیانات سے مُتأَثِّر ہو کر قریب آ گئے۔ 

          جنہوں نے ہمارے دلوں میں مَدَنی انقِلاب برپا کیا تھاوہ عاشِقِ رسول ملازَمت چھوڑ کر پاکستان لوٹ گئے۔ ہم نے پاکستان سے امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کے سنّتوں بھرے بیانات کی 90 کیسٹیں منگوا لیں ۔  پہلے ہماری فیکٹری میں صِرف 50یا 60نَمازی تھے امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے پُر تاثیر سنّتوں بھرے بیانات سُن سُن کر نَمازِیوں کی تعداد بڑھتے بڑھتے  اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ 200سے 250 ہو گئی۔ ہم نے مل کر 400 واٹ کا قیمتی اسپیکر خرید کراپنی منزِل کی دیوار پرنَصب کر لیااور دُھوم دھام سی کیسٹیں چلانے لگے۔ روزانہ صبح 7تا8 بجے تِلاوتِ کلامِ پاک کی کیسٹ ، 8تا9 نعت شریف اور 9 تا 10 سنتّوں بھرے بیان کی کیسٹ چلانے کا معمول بنا لیا۔ رفتہ رفتہ ہمارے پاس 500 کیسٹیں جمع ہو گئیں ۔ مجھ سمیت پانچ اسلامی بھائیوں نے اپنے آپ کو دعوتِ اسلامی کے مَدَنی رنگ میں رنگ لیا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کے سنّتوں بھرے بیانات کی کیسٹیں چَلانے کی بَرَکت سے مسجد درس کا آغاز ہو گیا۔ پھر رفتہ رفتہ ہماری فیکٹری میں ہفتہ وار سنّتوں بھرا اجتماع شروع ہو گیا ، اجتماع میں کم و بیش 250 اسلامی بھائی شرکت کرتے تھے، مدرَسۃُ المدینہ ( برائے بالِغان) بھی قائم ہو گیا۔ سنّتوں کی بہاریں آ نے لگیں ۔ مُتَعَدَّداسلامی بھائیوں نے اپنے چِہرے پر مَدَنی آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کیمَحَبَّتکی نشانی مبارک داڑھی سجالی۔ 20 سے 25 اسلامی بھائیوں کے سروں پر عمامے کے تاج جگمگانے لگے۔ ہماری فیکٹری کے مینیجر ابتِداء کیسٹیں چلانے وغیرہ سے منع کرتے رہے مگرایک ولیِ کا مل  کے بیانات کی کیسٹوں کی آواز ان کے کانوں میں بھی رس گھولتی رہی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ بِالآخِر وہ بھی مُتأَثِّر ہو ہی گئے نہ صِرف  مُتأَثِّر ہو ئے بلکہ نَماز ی بھی بن گئے اور ایک مُٹّھی داڑھی بھی سجا لی۔

          اسلامی بھائی کا مزید بیان ہے، اب میں واپَس پاکستان آ چکا ہوں اوریہ واقِعہ بیان کرتے وقت بابُ المدینہ( کراچی) کے ایک ڈویژن کی مُشاوَرت کے خادِم( نگران) اور پاکستان انتظامی کابینہ کے رُکن کی حیثیت سے سنّتوں کی خدمت کا ساعی ہوں ۔ چُونکہ مکتبۃُ المدینہسے جاری ہونے والے  امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کے سنّتوں بھرے بیانات کی کیسٹوں نے میری تقدیر میں مَدَنی انقِلاب برپا کیا ہے لہٰذا میری خواہِش ہے کہ ہر اسلامی بھائی اور اسلامی بہن روزانہ کم از کم ایک سنّتوں بھرے بیان کی یا مَدَنی مذاکرہ کی کیسٹ سننے کا معمول بنا لے، اِنْ شَآءَ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ وہ برکتیں ملیں گی کہ دونوں جہاں میں بیڑا پار ہو جائیگا ۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

امیرِ اَہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ    کے بیا نا ت  کی مَدَ نی بہاریں

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

          نیکی کی دعوت دینے کا ایک مؤثر ذریعہ بیان بھی ہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّو َجَلَّ! شیخِ طریقت امیرِ اَہلسنّت بانیِٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّار قادِری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی زبان میں اللہ تَعَالٰی نے بڑی تاثیر عطا فرمائی ہے ۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے  سنّتوں بھرے اِصلاحی بیانات کوسننے والوں کی مَحویّت کا عالم قابلِ دید ہوتا ہے ۔ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے سنتوں بھرے بین الاقوامی اور صوبائی سطح کے اجتماعات میں بیک وقت لاکھوں مسلمان آپ کے بیان سے فیض یاب ہوتے ہیں ، بذریعہ ٹیلی فون اور انٹرنیٹ ‘بیان سننے والوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ آپ کے بیانات بذریعہ کیسٹ گھروں ،دکانوں ، مساجد،جامعات وغیرہ میں بھی نہایت شوق سے سنے جاتے ہیں ۔بیانات کی ان کیسٹوں اور سی ڈیز(CDS) کو مکتبۃ المدینہ شائع کرتا ہے ۔

          آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا اندازِبیان بے حد سادہ اور عام فہم اورطریقۂ تفہیم ایسا ہمدردانہ ہوتا ہے کہ سننے والے کے دل میں تاثیر کا تیر بن کر پیوست ہوجاتا ہے ۔ لاکھوں مسلمان آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے بیانات کی برکت سے تائب ہوکر راہِ راست پر آچکے ہیں ۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے بیانات کی چندمزید  مدنی بہاریں ملاحظہ ہوں :     

(2)ناراضگی محبت میں کیسے  بد لی

        باب الاسلام (سندھ) کے شہر سکھر کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میرے والد کی اپنی حقیقی بہن سے سخت ناراضگی تھی ۔ عرصہ دراز سے دونوں میں بات چیت بالکل بند تھی اور ایک دوسرے کے گھر آنے جانے کا بھی کوئی سلسلہ نہ تھا ۔وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنا تو کیا ،نام سننا بھی گوارا نہ کرتے تھے ۔

           کئی بار رشتہ داروں نے صلح کروانے کی کوشش کی مگر وہ دونوں با لخصوص والد صاحب کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھے۔ ایک دن والد صاحب گھرپر تھے کہ کسی نے  امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کا بیان’’احترامِ مسلم‘‘ کا کیسٹ ٹیپ ریکارڈر پر لگادیا۔والد صاحب نے بھی توجہ سے اس بیان کو سنا ۔ ایک ولی کامل کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ والد صاحب کے دل میں تاثیر کا تیر بن کر پیوست ہو گئے۔ والد صاحب (جو پہلے کسی کی بات سننے کو تیار نہ تھے) بیان ختم ہوتے ہی کہنے لگے ۔ مجھے میری بہن کے پاس لے چلو۔بہن کے پاس پہنچ کرمعافی مانگنے میں پہل کی اور صلح کر لی۔یوں  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے سنّتوں بھرے بیان کی بَرَکت سے بھائی بہن کی صلح ہوگئی۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(3) میں عید کی نماز بھی نہیں پڑھتا تھا

 



Total Pages: 7

Go To