Book Name:Khanay ka Islami Tariqa

(45)  پانی ہو یا کوئی سا مَشروب ہمیشہ  بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْمپڑھ کر  چوس کرچھوٹے چھوٹے گُھونٹ پینا چاہئے مگر چُوسنے میں آواز پیدا نہ ہو، پانی ہو یا کوئی اور مشروب، بڑے بڑے گُھونٹ پینے سے جِگر کی بیماری پیدا ہوتی ہے ۔  آخِر میں اَلحمدُ لِلّٰہ کہئے ۔ افسوس! چُوس چُوس کر پینے والی سنّت پر اب شاید ہی کوئی عمل کرتا ہو، برائے کرم! اِس کیلئے مَشق فرما یئے اور اِس سنّت کو اپنایئے  ۔ سگِ مدینہ عفی عنہ کے تجربہ کے مطابِق گلاس کے بجائے مِٹی کے پیالے میں چُوس کر پانی پینا آسان ہے ۔

 (46) جب کچھ بھوک باقی رہ جائے کھانا تَرْک کر دیجئے ۔  

لذَّت صِرف زَبان کی جڑ تک ہے

(47)  ڈٹ کر کھانا سُنّت نہیں ۔ زیادہ کھانے کو جی چاہے تو اپنے آپ کو اِس طرح سمجھا یئے کہ صِرف زَبان کی نوک سے جڑ تک لذَّت رہتی ہے ، حلْق میں پہنچتے ہی لذَّت ختم ہو جاتی ہے تو لمحہ بھر کے ذائقے کی خاطِر سنّت کا ثواب چھوڑنا دانشمندی نہیں ۔ نیز زیادہ کھانے سے طبیعت بوجھل ہو جاتی ، عبادت میں سستی آتی ، مِعدہ خراب ہوتا، پیٹ نِکلتا اور موٹا پا آتا ہے ۔  قَبض ، گیس، بلڈپریشر، شوگر، فالج اور دل وغیرہ کی بیماریوں کا اِمکان بڑھتا ہے ۔

  (48) فراغت کے بعد پہلے بیچ کی پھر شہادت کی اُنگلی اور آخِر میں انگوٹھا تین تین بارچاٹئے ۔  ’’سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کھانے کے بعد مبارَک اُنگلیوں کو تین مرتبہ چاٹتے ۔    (الشمائل المحمدیۃ، للترمذی ص ۹۶حدیث۱۳۳ دار احیاء التراث العربی بیروت)

برتن چاٹ لیجئے

(49)  برتن بھی چاٹ لیجئے ۔  حدیثِ پاک میں ہے :’’کھانے کے بعد جو شخص برتن چاٹتا ہے تو وہ برتن اُس کیلئے دُعاء کرتا ہے اور کہتا ہے ، اللہ تعالیٰ تجھے جہنَّم کی آگ سے آزاد کرے جس طرح تُو نے مجھے شیطان سے آزاد کیا  ۔ ‘ ‘(کنزالعُمّال  ج۱۵ ص ۱۱۱ حدیث ۴۰۸۲۲ ) اور ایک رِوایَت میں ہے کہ برتن اُس کیلئے اِسْتِغْفَار کرتاہے ۔

                         ( سنن ابنِ ماجہ ج۴  ص۱۴ حدیث ۳۲۷۱، دار المعرفۃ بیروت)

(50) جس برتن میں کھایا اِس کو چاٹنے کے بعد دھو کر پی لیجئے اِن شاءاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملیگا ۔  (اِحیائُ العُلُوم ج۲ ص ۷ )

دھو کر پینے کا طریقہ

(51)چاٹنا اور دھونا اُسی وَقْت کہلائے گا جب کہ غذا کا کوئی جُز اور شوربے کا اثَر وغیرہ باقی نہ رہے ۔ لہٰذا تھوڑا سا پانی ڈالکر برتن کے اُوپری کَنارے سے لیکر نیچے تک ہر طرف اُنگلی وغیرہ سے اچّھی طرح دھو کر پینا چاہئے ۔ دو یا تین بار اسی طرح دھو کر پی لیں گے تو  اِن شاء اللّٰہعَزَّوَجَلَّ   برتن خوب صاف ہو جائیگا ۔

 (52)پینے کے بعد رِکابی یا تھال میں معمولی سا بچا ہوا پانی بھی اُنگلی سے جمع کرکے پی لینا چاہئے ، ایسا نہ ہو کہ مصالحہ کا کوئی ذرّہ ہی کہیں چِپکا رہ جائے اور اسی میں بَرَکت بھی چلی جائے ! کہ حدیثِ پا ک میں یہ بھی ہے ، ’’تم نہیں جانتے کہ کھانے کے کس حصّے میں بَرَکت ہے ۔ ‘‘                 (صحیح مسلم ص۱۱۲۳حدیث ۲۰۳۴ دار ابن حزم بیروت)

 (53)سالن کے شوربے سے آلُودہ کَٹورے ، چمچ نیز چائے ، لسّی، پھلوں کے رس (JUICES)شربت اور دیگر مشروبات کے آلودہ ، پیالے ، گلاس اور جگ وغیرہ کو دھوپی کر اِسی طرح صاف کرلیجئے ۔  کہ غذا کاکوئی ذرّہ یا اثر باقی نہ رہے اور یوں خوب بَرَکتیں لوٹئے ۔

(54) گلاس میں بچّے ہوئے مسلمان کے صاف ستھرے جھوٹے پانی کو قابلِ استعمال ہونے کے باوُجُود خوامخواہ پھینک کر ضائِع کر دینا اسراف ہے اور اسراف حرام ۔   ( سنّی بہشتی زیور ص ۵۶۷، فرید بک اسٹال ، مرکز الاولیاء لاہور  مُلَخصاً)

 پینے کے بعد گلاس یا کٹورے کو رکھ دیجئے ۔  چند لمحوں کے بعد دیکھیں گے تو مشروب کے چند قطرے برتن کی دیواروں سے اُتر کر پَیندے میں جمع ہو چکے ہوں گے ، اُس کو پی لیجئے ورنہ ضائع ہو سکتا ہے ۔

(55) کھانے  کے آخِر میں اَلحمدُلِلّٰہ کہئے  ۔ اوّل آخِر ماثور ( یعنی قراٰن و حدیث کی) دعائیں بھی یاد ہوں تو پڑ ھئے  ۔

(56)صابون سے اچّھی طرح ہاتھ دھو لیجئے تاکہ بُو اورچِکناہٹ جاتی رہے ۔

کھانے کے بعد مَسح کرنا سنّت ہے

 (57)حدیثِ پا ک میں  یہ بھی ہے ، (کھانے سے فراغت کے بعد )’’سرکارِ مدینہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ہاتھ دھوئے اور ہاتھوں کی تَری سے منہ اور کلائیوں اورسرِاقدس پرمَسْح کرلیا اور اپنے پیارے صَحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ’’عِکراش! جس چیز کو آگ نے چُھوا ( جو آگ سے پکائی گئی ہو) اُس کے کھانے کے بعد یہ وُضو ہے ۔ ‘‘(سننِ ترمِذی  ج ۳ص  ۳۳۵ حدیث ۱۸۵۵ )

(58) کھانے کے بعددانتوں کاخِلال کیجئے ۔

پچھلے گناہ مُعاف

(59) حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا:جو شخص کھا نا کھائے اور یہ کلِمات کہے تو اس کے گزَشتہ تمام گناہ مُعاف کر دیئے جاتے ہیں : ۔

   دعا کے وہ کلِمات یہ ہیں : ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ  اَطْعَمَنِیْ ھَذَا وَ رَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیرِ حَوْلٍ مِّنِّیْ وَلَاقُوَّ ۃٍ  ۔ ‘‘

 



Total Pages: 7

Go To