Book Name:Khanay ka Islami Tariqa

مدّھم سی آواز آنا اُس کے عمدہ اور پکّے ہونے کی علامت ہے ۔

کھانے کو عیب مت لگایئے

 (29)کھانے میں کسی قسم کاعیب نہ لگایئے مَثَلاً یہ مت کہئے کہ ٹیسٹی (لذیذ)نہیں ، کچّارہ گیا ہے ، نمک کم ہے ، تیکھا بَہُت ہے یا پھیکا پھیکاہے وغیرہ وغیرہ ۔ پسند ہے تو کھا لیجئے ، ورنہ ہاتھ روک لیجئے ۔  ہاں پکانے والے کومِرچ مَصالَحہ کی کمی بیشی کیلئے ھِدایت دینا مقصود ہو تو تنہائی میں رہنُمائی میں مُضایَقہ نہیں ۔

پھلوں کو عیب لگانا زیادہ بُرا ہے

(30) پھلوں کو عیب لگانا انسان کے پکائے ہوئے کھانے کے مقابلے میں زیادہ بُرا ہے کہ کھانا پکانے میں انسانی ہاتھوں کا زیادہ دخل ہے جبکہ پھلوں کے مُعاملے میں ایسا نہیں  ۔

(31)  کھانے یا سالن وغیرہ کے بیچ میں سے مت لیجئے کہ بیچ میں بَرَکت نازِل ہوتی ہے ۔

(32)اپنی طرف کے کَنارے سے کھایئے ، ہر طرف ہاتھ مت ماریئے ۔

(33) اگر ایک تھال میں مختلف قسم کی چیز یں ہیں تو دوسری طرف سے بھی اُٹھا سکتے ہیں  ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کھانے کے دَوران اچّھی باتیں کیجئے

 (34)کھانا کھاتے ہوئے اچّھا سمجھ کر چُپ رہنا آتَش پرستوں کا طریقہ ہے ، ہاں بولنے کوجی نہیں چا ہ رہا تو حَرَج نہیں ، یوں ہی فُضول گوئی ہر حال میں نامُناسب ہی ہے ، لہٰذاکھانے کے دَوران اچّھی اچّھی باتیں کرتے جایئے مَثَلاً جب بھی گھر میں مل جُل کر یا مہمانوں وغیرہ کے ساتھ کھا رہے ہوں تو کھانے پینے کی سنّتیں بیان کیجئے  ۔ زہے نصیب ! کھانے کے ان مَدَنی پھولوں کی حسبِ ضَرورت فوٹو کاپیاں فریم کروا کر یا گتیّ پر چَسپاں کر کے کھانے کی جگہ پر آویزاں کر دی جائیں اور کھانے کے اوقات میں وقتاً فوقتاً پڑھ کر سنائی جائیں  ۔

(35)کھانے کے دَوْران اِس قِسم کی گفتگو نہ کیجئے جِس سے لوگو ں کو گِھن آئے مَثَلاًدَست ، پیچش ، قَے وغیرہ کا تذکِرہ ۔

 (36)کھانا کھانے والے کے لقمے مت تاڑیئے ۔

اچّھی اچّھی بوٹیاں ایثار کیجئے

(37)کھانے میں سے اچّھی اچّھی بوٹیاں چھانٹ لینا یا مل کر کھا رہے ہوں تو اس لئے بڑے بڑے نوالے اٹھا کر جلدی جلدی نِگلنا کہ کہیں میں رَہ نہ جاؤں یا اپنی طرف زِیادہ کھانا سمیٹ لینااَلْغَرَض کسی بھی طریقے سے دوسروں کو محروم کردینا دیکھنے والوں کو بدظن کرتا ہے اور یہ بے مُرُوَّتوں اور حریصوں کا شَیوہ ہے ۔ اچھّی اَشیاء اپنے اسلامی بھائیوں یا اہلِ خانہ کیلئے ایثار کی نیّت سے تَرک کریں گے تو اِن شا ء اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ثواب پائیں گے ۔ جیسا کہ سلطانِ دوجہانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ بخشِش نشان ہے : جو شخص کسی چیز کی خواہش رکھتا ہو، پھر اس خواہش کو روک کر (دوسروں کو) اپنے اوپر ترجیح دے ، تواللہ عَزَّوَجَلَّاِسے بخش دیتا ہے ۔  (اتحاف السادۃ المتقین ج۹ ص ۷۷۹دارالکتب العلمیۃ بیروت)

گرے ہوئے دانے کھالینے کے فضائل

 (38)کھانے کے دَوران اگر کوئی دانہ یا لقمہ وغیرہ گر جائے تو اُٹھاکرپُونچھ کر کھالیجئے کہ مغفِرت کی بِشارت ہے ۔

(39)  حدیثِ پاک میں ہے ، جو کھانے کے گِرے ہوئے ٹکڑے اُٹھا کر کھائے وہ فَرَاخی(یعنی خوش حالی) کی زندگی گزارتا ہے اور اس کی اولاد اور اولاد کی اولاد میں کم عقلی سے حفاظت رہتی ہے ۔  (کنزالعُمّال  ج۱۵ ص ۱۱۱ حدیث ۴۰۸۱۵ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

(40) حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی نَقل فرماتے  ہیں ، ’’روٹی کے ٹکڑوں اور ریزوں کو چُن لیجئے اِن شاء اللّٰہعَزَّوَجَلَّ خوش حالی نصیب ہو گی ۔ بچے صحیح وسلامت اور بے عَیب ہوں گے اور وہ ٹُکڑے حُوروں کا مہر بنیں گے ۔ ‘‘ (اِحیاء الْعُلوم ج۲ص۷)

(41) گِری ہوئی روٹی کو اُٹھا کر چُومنا جائز ہے ۔             

(42)  دَستر خوان پر جو دانے وغیرہ گِر گئے اُنہیں مُرغیوں ، چِڑیوں ، گائے یا بکری وغیرہ کو کھلادیناجائزہے ۔  یا ایسی جگہ احتیاط سے رکھ دیں کہ چِیُونٹیاں کھا لیں  ۔

کھانے میں پھونک مارنا مَنع ہے

  (43) کھانے اور چائے وغیرہ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے  پھونک مت  ماریئے کہ بے بَرَکتی ہو گی، زیادہ گرم کھانا مت کھائیے کھانے کے قابِل ہوجانے کا انتِظار فرمالیجئے ۔ (  رَدُّالْمُحتَار ج۹ ص ۵۶۲ وغیرہ)

 (44) کھانے کے دَوران بھی سیدھے ہاتھ سے پانی نوش کیجئے ۔  یہ نہ ہو کہ ہاتھ آلُودہونے کے سبب اُلٹے ہاتھ میں پیالہ تھام کر سیدھے ہاتھ کی اُنگلی مَس کرکے دل کومنالیا کہ سیدھے ہاتھ سے پی رہا ہوں !

پانی چوس کر پینا سیکھئے

 



Total Pages: 7

Go To