Book Name:Khanay ka Islami Tariqa

نہ کریں اگرچہ ذکر اللہ کرنا جائز ہے ۔

(14)مِٹّی کے برتن میں کھانا اَفضل ہے کہ’’جو اپنے گھر میں مِٹّی کے برتن بنواتا ہے فِرِشتے اُس گھر کی زِیارت کرنے آتے ہیں ۔ ( رَدُّالْمُحتَارج ۹ ص ۵۶۶ دار المعرفۃ بیروت)

(15)سالن یا چَٹنی کی پیالی روٹی پرمت رکھئے ۔  ( رَدُّالْمُحتَارج ۹ ص ۵۶۲)

(16)ہاتھ یا چُھری کو روٹی سے نہ پُونچھئے ۔   (الفتاوی البزا زیۃعلی ہامش الفتاوی الھندیۃ  ج۶ ص ۳۶۵)

(17)زمین پر دَسترخوان بچھا کر کھانا سُنَّت ہے ۔ ٹیک لگا کر ، ننگے سَر یا ایک ہاتھ زمین پر ٹیک کر، جُوتے پہن کر ، لیٹے لیٹے یا چار زانو(یعنی چوکڑی مار کر )  مت کھایئے ۔

(18)روٹی اگر دَسترخوان پر آگئی تَو سالن کا اِنْتِظار کئے بِغیر کھانا شُروع فرما دیجئے ۔      ( رَدُّالْمُحتَارج ۹ ص ۵۶۲ دار المعرفۃ بیروت)

(19)اوّل آخِر نمک یا نمکین کھایئے کہ اِس سے ستَّر بِیماریاں دُور ہوتی ہیں ۔ (ایضاً)

(20)روٹی ایک ہاتھ سے نہ توڑیئے کہ مَغْروروں کا طریقہ ہے ۔

(21)روٹی اُلٹے ہاتھ میں پکڑ کر سیدھے ہاتھ سے توڑیئے ۔ فتاویٰ رضویہ جلد 21صَفْحَہ 669پر ہے : ’’ بائیں (یعنی اُلٹے ) ہاتھمیں روٹی لیکر دَہنے ( یعنی سیدھے ) ہاتھ سے نوالہ توڑنا دَفعِ تکبُّر کیلئے ہے ۔ ‘‘ہاتھ بڑھا کر تھال یا سالن کے برتن کے عَین بیچ میں اوپر کر کے روٹی اور ڈبل روٹی وغیرہ توڑنے کی عادت بنایئے  ۔ اِس طرح اَجزاء کھانے ہی میں گریں گے ورنہ دسترخوان پر گر کر ضائِع ہو سکتے ہیں  ۔

(22)سیدھے ہاتھ سے کھایئے ، اُلٹے ہاتھ سے کھانا، پینا، لینا، دینا، شیطان کا طریقہ ہے ۔

تین اُنگلیوں سے کھانے کی عادت ڈالئے

(23)تین اُنگلیوں یعنی بیچ والی ، شہادت کی اور انگوٹھے سے کھانا کھایئے کہ یہ سنّتِ اَنبِیاء عَلَیْہِمُ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلامہے ۔  عادت بنانے کیلئے اگر چاہیں تو ابتِداء ً سیدھے ہاتھ کی بِنْصَر(چھوٹی اُنگلی کے برابر والی کو بِنصَر کہتے ہیں ) کوخم کر کے اس میں ربڑبینڈ پہن لیجئے یا روٹی کا ٹکڑا ان دونوں اُنگلیوں سے ہتھیلی کی طرف دبائے رکھئے یا دونوں عمل ایک ساتھ کر لیجئے ، جب عادت ہو جائے گی تو اِن شاء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ربڑ وغیرہ کی حاجت نہ رہے گی ۔  حضرتِ سیِّدُنا مُلّا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ البَارِیفرماتے ہیں :’’ پانچ اُنگلیوں سے کھانا حریصوں کی نشانی ہے ۔ ‘‘(مرقاۃ ج ۸ ص ۹ دارالفکربیروت) اگر چاول کے دانے جدا جُدا ہوں اور تین اُنگلیوں سے نوالہ بننا ممکن نہ ہو تو چار یا پانچ اُنگلیوں سے کھا سکتے ہیں  ۔

روٹی کا کنارا توڑنا

(24)روٹی کاکَنارا توڑ کر ڈال دینا اور بیچ کاحصّہ کھا لینا اِسراف ہے ۔ ہاں اگرکَنارے کچّے رہ گئے ہیں اور اِس کے کھانے سے نقصان ہو گا تو توڑ سکتا ہے ، اِسی طرح یہ معلوم ہے کہ روٹی کے کَنارے دوسرے لوگ کھا لیں گے ضائع نہ ہوں گے تو توڑنے میں حرج نہیں ، یہی حکم اس کا بھی ہے کہ روٹی میں جو حصّہ پھولا ہوا ہے اُسے کھا لیتا ہے باقی کو چھوڑ دیتا ہے ۔  ( ملخَّص از بہار شریعت حصہ ۱۶ ص۲۰)

دانت کا کام آنت سے مت لیجئے

(25)  لقمہ چھوٹا لیجئے اوراس احتیاط کے ساتھ کہ چپڑ چپڑ کی آواز پیدا نہ ہو اچّھی طرح چبا کر کھائیے ۔ اگر اچّھی طرح چَبائے بِغیر نگل جائیں گے تو ہَضم کرنے کیلئے مِعدہ کو سخت زَحمت کرنی پڑے گی اور نتیجۃً طرح طرح کی بیماریوں کا سامنا ہو گا لہٰذا دانتوں کا کام آنتوں سے مت لیجئے ۔

(26)جب تک حلْق سے نیچے نہ اُتر جائے دوسرے لقمے کی طرف ہاتھ بڑھانا یا لُقمہ اٹھا لیناکھانے کی حِرص کی علامت ہے  ۔

(27) روٹی کو دانت سے کاٹ کر کھانا حد درجہ معیوب اور بے برکتی کا باعِث ہے ، یوں ہی کھڑے کھڑے کھانا سنّتِ نصاریٰ ہے ۔ (سنّی بہشتی زیور ص ۵۶۵ )

کھانا کھانے میں پھل پہلے کھانے چاہئیں

(28)ہمارے یہاں پھل آخر میں کھانے کا رَواج ہے جبکہ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی  فرماتے ہیں :’’اگر پھل ہوں تو پہلے وہ پیش کئے جائیں کہ طبّی لحاظ سے ان کا پہلے کھانا زیادہ مُوافِق ہے ، یہ جلد ہَضم ہوتے ہیں لہٰذا ان کومِعدے کے نچلے حصّے میں ہونا چاہئے اور قراٰنِ پاک سے بھی پھل کے مُقدَّم (یعنی پہلے )ہونے پر آگاہی حاصِل ہوتی ہے چُنانچِہ پارہ 27سورۃُ الواقِعہکی آیت نمبر 20 ، 21 میں ارشا ہوتا ہے : ۔

وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ(۲۰) وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ(۲۱)       (پ ۲۷ الواقِعہ ۲۰، ۲۱)

ترجَمۂ کنزالایمان:اورمیوے جو پسند کریں اورپرندوں کا گوشت جو چاہیں ۔ (اِحیاء العُلُوم ج۲ص ۲۱)

          میرے آقا اعلیٰ حضرت، مولیٰناشاہ امام اَحمد رَضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن روایت نَقل کرتے ہیں ، ’’ کھانے سے پہلے تربوز کھانا پیٹ کو خوب دھودیتا ہے اور بیماری کوجڑ سے ختم کردیتا ہے ۔ ‘‘ ( فتاوٰی رضویہ  ج ۵ ص ۴۴۲ )تربوز کے مکمَّل چھلکے یا دھاریاں اور گول دھبّے ہوں تو ان کا سبز رنگ جتنا گہرا ہو گا اُتنا ہی اِن شا ء اللّٰہ عزوجل اندر سے لال اور میٹھا نکلے گا ۔ کہتے ہیں : تربوز پر ہلکا سا ہاتھ مارنے پر



Total Pages: 7

Go To