Book Name:Christian musalman ho gaya

کرسچین مسلمان ہوگیا

(اور دیگر 14مَدَنی بہاریں)

 

 

 

 

پیشکش :

شعبہ اِصلاحی کتب

 مجلس اَلْمَدِ یْنَۃُ الْعِلْمِیّۃ(دعو تِ اسلامی )

 

 

 

 

ناشر

 

 

 

 

مکتبۃ المد ینہ باب المدینہ کراچی

اََلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ ط

’’فیضانِ عطّار ‘‘ کے9 حُروف کی نسبت سے اس رسالے کو پڑھنے کی ’’9  نیّتیں‘‘

 فرمانِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم:   نِیَّۃُ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہo مسلمان کی نیّت اس کے عمل سے بہتر ہے۔(المعجم الکبیر للطبرانی، الحدیث: ۵۹۴۲، ج۶، ص۱۸۵)

 دو مَدَنی پھول:

 {۱} بِغیر اچّھی نیّت کے کسی بھی عملِ خیر کا ثواب نہیں ملتا۔

{۲}جتنی اچّھی نیّتیں زِیادہ، اُتنا ثواب بھی زِیادہ۔

 {۱}ہر بارحَمْد و {۲}صلوٰۃ اور{۳}تعوُّذو{۴}تَسمِیہ سے آغاز کروں گا۔ (اسی صفحہ کے اُوپر دی ہوئی دو عَرَبی عبارات پڑھ لینے سے چاروں نیّتوں پر عمل ہوجائے گا)۔ {۵} حتَّی الْوَسْع اِس کا باوُضُو اور {۶}قِبلہ رُو مُطالَعَہ کروں گا {۷}جہاں جہاں’’اللہ‘‘کا نام  پاک آئے گا وہاں عَزَّوَجَلَّ  اور{۸} جہاں جہاں ’’سرکار‘‘کا اِسْمِ مبارَک آئے گا وہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم پڑھوں گا{۹}دوسروں کویہ رسالہ پڑھنے کی ترغیب دلائوں گا۔

پہلے اسے پڑھ لیجئے

            شیخِ طریقت امیرِ اہلِسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ اپنے رسالے  ’’T.V.کی تباہ کاریاں ‘‘میں لکھتے ہیں:

            فخریہ فلمیں ڈِرامے دیکھنے والوں کی خدمت میں عبرت کیلئے ایک حیا سوز واقِعہ عرض کرتا ہوں: مجھے مکَّۂ مکرَّمہ میں کسی نے ایک خانماں برباد لڑکی کا خط پڑھنے کو دیا جس میں مضمون کچھ اِس طرح تھا :ہمارے گھر میں. T.V پہلے ہی سے موجود تھا۔ ہمارے ابُّو کے ہاتھ میں کچھ پیسے آگئے تو ڈِش انٹینا بھی اُٹھا لائے۔ اب ہم ملکی فلموں کے علاوہ غیر ملکی فلمیں بھی دیکھنے لگے۔ میری اسکول کی سَہیلی نے مجھے ایک دن کہا: فُلاں ’’ چینل‘‘  لگاؤگی تو سیکس اپیل(SEX APPEAL) مناظِر کے مزے لوٹنے کو ملیں گے۔ ایک بار جب میں گھر میں اکیلی تھی تو وہ چینل آن کردیا ’’جِنْسِیّات‘‘ کے مختلف مناظِر دیکھ کر میںجِنْسی خواہِش کے سبب آپے سے باہَر ہوگئی، بے تاب ہو کر فوراً گھر سے باہَر نکلی، اِتِّفاق سے ایک کار قریب سے گزررہی تھی جسے ایک نوجوان چلا رہا تھا، کار میں کوئی اور نہ تھا، میں نے اُس سے لِفٹ مانگی، اُس نے مجھے بٹھالیا ..... یہاں تک کہ میں نے اُس کے ساتھ ’’کالا منہ‘‘ کرلیا۔ میری بَکارت ( یعنی کنوار پن ) زائل ہوگئی، میرے ماتھے پر کَلَنک کا ٹیکہ لگ گیا، میں برباد ہوگئی! مولیٰنا صاحِب !بتائیے مجرِم کون؟‘ میں خود یا میرے ابُّو کہ جنہو ں نے گھر میں پہلے. T.V لاکر بسایا اور پھر ڈِش انٹینا بھی لگایا۔

 د ل کے پھپھولے جل اُٹھے  سینے کے داغ سے

 اِ س گھر کو آگ لگ گئی گھر  کے چَراغ سے

                آہ ! اِس طرح تو. T.V اورV.C.R.  اور INTERNETپر فلمیں اور ڈِرامے دیکھنے کے سبب روزانہ نہ جانے کتنی عزّتیں پامال ہوتی ہوں گی۔ نہ جانے کتنے ہی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں دنیا میں ہی برباد ہوجاتے ہوں گے۔ (T.v.کی تباہ کاریاں، ص ۲۴)

                میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس عبرت ناک حکایت سے معاشرے کی بدحالی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ واقعی فی زمانہ حالات بڑی تیزی کے ساتھ تنزلی کی طرف بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں ۔ ایک طرف بے عملی کا سیلاب اپنی تباہی مچا رہا ہے تو دوسری طرف بد عقیدگی کے خوفناک طوفان کی ہولناکیاں بربادی کے بھیانک مناظر پیش کررہی ہیں۔ جدت پسندی کی رنگینیاں اور فریب کاریاں مسلم معاشرے کو ٹی۔وی ،ڈش



Total Pages: 8

Go To