Book Name:Jahannam Kay Khatrat

ترجمۂ کنزالایمان :  اور ہم نے ان پر (پتھروں کا) ایک مینھ برسایا تو دیکھو کیسا انجام ہوا مجرموں کا ۔

        دوسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ

وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓىٕثَؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ(۷۴)                         (پ۱۷، الانبیآء : ۷۴)

ترجمۂ کنزالایمان :  اور لوط کو ہم نے حکومت اور علم دیااور اسے اس بستی سے نجات بخشی جو گندے کام کرتی تھی بیشک وہ برے لوگ بے حکم تھے۔

حدیث : ۱

        حضرت جابر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول    اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا ہے کہ سب سے زیادہ جس چیز کا مجھے اپنی امت پر خوف ہے وہ قومِ لوط کا عمل ہے۔   (سنن الترمذی، کتاب الحدود، باب ماجاء فی حداللوطی، الحدیث۱۴۶۲، ج۳، ص۱۳۸)

حدیث : ۲

         حضرت خزیمہ بن ثابت رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضور نبی کریم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ بیشک   اللہ  تَعَالٰی حق بات کہنے سے نہیں شرماتا ہے ۔ تم لوگ عورتوں سے اُن کے پیچھے کے مقام میں جماع نہ کرو۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح، باب النھی عن اتیان النسائ...الخ، الحدیث۱۹۲۴، ج۲، ص۴۵۰)

حدیث : ۳

        حضرت ا بن عباس رضی  اللہ  تَعَالٰی  عنہماسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا جو کسی مرد یا عورت کے پچھلے مقام میں جماع کرے   اللہ  تَعَالٰی اس پررحمت نہیں فرمائے گا۔ (سنن الترمذی، کتاب الرضاع، باب ماجاء فی کراھیۃ اتیان...الخ، الحدیث ۱۱۶۸، ج۲، ص۳۸۸)

حدیث : ۴

        حضرت ابن عباس  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ جس کو تم قومِ لوط کا عمل کرتے ہوئے پاؤ تو فاعل و مفعول دونوں کو قتل کر دو۔(سنن الترمذی، کتاب الحد ود، باب ماجاء فی حد اللوطی، الحدیث۱۴۶۱، ج۳، ص۱۳۷)

   

حدیث : ۵

          حضرت عمرو بن ابی عمرو  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے جو قوم لوط کا عمل کرے وہ ملعون ہے۔(سنن الترمذی، کتاب الحدود، باب ماجاء فی حد اللوطی، الحدیث۱۴۶۱، ج۳، ص۱۳۷)

حدیث : ۶

          حضرت ابو سعید خُدری  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی ہے کہ آخری زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے جو ’’لوطیہ‘‘ کہلائیں گے اور یہ تین قسم کے لوگ ہوں گے ، ایک وہ جو صرف لڑکوں کی صورتیں دیکھیں گے اور ان سے بات چیت کریں گے۔ دوسرے وہ ہوں گے جو لڑکوں سے مصافحہ اور معانقہ بھی کریں گے۔ تیسرے وہ لوگ ہوں گے جو اُن لڑکوں کے ساتھ بد فعلی کریں گے۔ تو ان سبھوں پر    اللہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی لعنت ہے مگر جو لوگ توبہ کر لیں گے   اللہ  تَعَالٰی اُن کی توبہ قبول کرلے گا اور وہ لعنت سے بچے رہیں گے۔

(کنزالعمال، کتاب الحدودمن قسم الاقوال، الحدیث۱۳۱۲۹، ج۳، الجزالخامس، ص۱۳۵)

حدیث : ۷

               حضرت وکیع رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   سے مروی ہے کہ جو شخص قومِ لوط کا عمل کرتے ہوئے مرے گا تو اُس کی قبر اُس کو قوم لوط میں پہنچا دے گی اور اُس کا حشر قوم لوط کے ساتھ ہو گا۔

(کنزالعمال، کتاب الحدودمن قسم الاقوال، الحدیث۱۳۱۲۷، ج۳، الجزالخامس، ص۱۳۵)

مسائل و فوائد

        دنیا میں بھی لوطی کی سزا بہت سخت ہے۔ چنانچہ حضرت امام شافعی و حضرت امام مالک و حضرت امام احمد بن حنبل  رحمۃ   اللہ  تَعَالٰی علیہم   کا یہ مذہب ہے کہ لوطی خواہ کنوارا ہو یا شادی شدہ سنگسار کرکے مار ڈالا جائے گا۔ (سنن الترمذی، کتاب الحدود، باب ماجاء فی حداللوطی، ج۳، ص۱۳۷)

  لوطی کے لئے امام اعظم رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کا فتو یٰ     

        اور حنفی مذہب یہ ہے کہ اس کے اوپر دیوار گرا دیں یا اونچی جگہ سے اِس کواوندھا کرکے گرائیں اور اِس پر پتھر برسائیں یا اِسے قید میں رکھیں یہاں تک کہ مر جائے یا توبہ کرلے یا چند بار یہ فعل بد کیا ہو تو بادشاہِ اسلام اِسے قتل کر ڈالے الغرض اغلام بازی یعنی پیچھے کے مقام میں جماع کرنا نہایت ہی خبیث فعل ہے بلکہ یہ زنا سے بھی بدتر ہے۔ اسی لئے اس میں شرعی حد مقرر نہیں کہ بعض اماموں کے نزدیک حد قائم کرنے سے آدمی اس گناہ سے پاک ہو جاتا ہے اور یہ اِتنا شدید اور بڑا گناہ ہے کہ جب تک توبہ خالصہ نہ ہو اس گناہ سے پاکی نہ حاصل ہو گی اور اس گناہ کوحلال جاننے والا کافر ہے۔ یہی مذہب جمہور ہے۔        (بہارشریعت، کہاں حد واجب ہے اور کہاں نہیں ، ج۲، حصہ۹، ص۹۲)