Book Name:Jahannam Kay Khatrat

ترجمۂ کنزالایمان : (اے رسول)مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کیلئے بہت ستھرا ہے بیشک   اللہ  کو ان کے کاموں کی خبر ہے اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اوراپنی پارسائی کی حفاظت کریں ۔   

    زنا کاری کی مذمت و ممانعت کے بارے میں مندرجہ ذیل چند حدیثیں بھی پڑھ لیجئے۔

حدیث : ۱

         حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ زنا کرنے والا جتنی دیر تک زنا کرتارہتا ہے اس وقت تک وہ مومن نہیں رہتا۔(صحیح البخاری، کتاب المحاربین، باب اثم الزناۃ...الخ، الحدیث۶۸۱۰، ج۴، ص۳۳۸)

        مطلب یہ ہے کہ زناکاری کرتے وقت ایمان کا نور اس سے جدا ہو جاتا ہے پھر اگر وہ اس کے بعد توبہ کر لیتا ہے تو اس کا نور ِایمان پھر اس کو مل جاتا ہے، ورنہ نہیں ۔

حدیث : ۲

         حضرت صفوان بن عَسَّال  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے آیاتِ بَیِّنات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ           

(۱) شرک نہ کرو  (۲) چوری نہ کرو  (۳) زنا نہ کرو  (۴)اور اس جان کو نہ قتل کرو جس کو   اللہ  تَعَالٰی نے حرام فرمایا مگر حق کے ساتھ  (۵) کسی بے قصور کو بادشاہ کے سامنے قتل کیلئے پیش نہ کرو  (۶) جادو مت کرو  (۷) سود مت کھاؤ  (۸) کسی پاکدامن عورت پر زنا کی تہمت نہ لگاؤ  (۹) جہاد کفار کے وقت میدان جنگ چھوڑ کر نہ بھاگو  (۱۰) اور خاص یہودیوں کے لئے یہ کہ سینچر کے دن کا ا حترا م کریں ۔(جامع الترمذی، کتاب الاستئذان والآداب، باب ماجاء فی قبلۃ الیدوالرجل، الحدیث۲۷۴۲، ج۴، ص۳۳۵)

حدیث : ۳

         حضرت عبد  اللہ  بن مسعود  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     سے ایک شخص نے سوال کیا کہ کون سا گناہ   اللہ  تَعَالٰی کے نزدیک زیادہ بڑا ہے؟ تو آپ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     نے فرمایا کہ تم   اللہ  کیلئے کوئی شریک ٹھہراؤحالانکہ    اللہ   عَزَّ وَجَلَّ   ہی نے تم کو پیدا کیا۔ تو اس شخص نے کہا کہ پھر اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ تو آپ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا یہ ہے کہ تم اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کرو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گی۔ اِس پر اُس شخص  نے کہا کہ پھراس کے بعد کون سا گناہ زیادہ بڑا ہے؟ تو آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا یہ ہے کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو۔ چنانچہ   اللہ  تَعَالٰی نے اِس کی تصدیق قرآن مجیدمیں نازل فرما دی کہ

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَۚ-             (پ۱۹، الفرقان : ۶۸)

ترجمۂ کنزالایمان : اور وہ جو   اللہ  کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کی   اللہ  نے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے اور  بد کاری نہیں کرتے۔

(صحیح البخاری، کتاب الدیات، باب قول   اللہ  ومن یقتل مؤمنا...الخ، الحدیث۶۸۶۱، ج۴، ص۳۵۶)

مسائل و فوائد

        زنا بہت سخت حرام اور گناہ کبیرہ ہے جس کی سزا آخرت میں جہنم کا عذاب، اور دنیا میں زنا کار کی یہ سزا ہے کہ زنا کار مرد و عورت اگر کنوارے ہوں تو بادشاہِ اسلام اِن کو مجمع عام میں ایک سو دُرے لگوائے گا اوراگر وہ شادی شدہ ہوں تو انہیں عام مجمع کے سامنے سنگسار کرا دے گا یعنی ان پر پتھر برسا کر ان کو جان سے مار ڈالے گا۔اور  دنیا میں خداو ندی عذاب کے بارے میں ایک حدیث میں یہ آیا ہے کہ ’’ کثر فیھم  الموت ‘‘ یعنی زنا کار قوم میں بکثرت موتیں ہوں گی۔   

(مشکوۃ المصابیح، کتاب الرقاق، باب تغیر الناس، الفصل الثالث، الحدیث :  ۵۳۷۰، ج۳، ص۱۴۸۔الموطا للامام مالک، کتاب الجہاد، باب ما جاء فی الغلول، الحدیث۱۰۲۰، ج۲، ص۱۹)

      ایک اور حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ’’ اخذوا بالسنۃ ‘‘  یعنی زنا کار قوم قحط میں مبتلا کر دی جائے گی۔

(مشکوۃ المصابیح، کتاب الحدود، الفصل الثالث، الحدیث :  ۳۵۸۲، ج۲ص۳۱۴۔المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث عمرو بن العاص، الحدیث۱۷۸۳۹، ج۶، ص۲۴۵)

        الغرض دنیا و آخرت میں اس فعلِ بد کا انجام ہلاکت و بربادی ہے۔ لہٰذا مسلمانوں پرلازم ہے کہ اپنے معاشرہ کو اس ہلاکت خیز بدکاری کی نحوست سے بچائیں  خداو ند کریم اپنے حبیب   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے طفیل میں ہر مسلمان مردو عورت کواِس بلاء عظیم سے محفوظ رکھے۔ (آمین)

 (۴)لواطت

        یہ گندا اور گھناؤنا کام زناکاری سے بھی بڑھ کر شدید گناہ کبیرہ ہے اور جہنم میں لے جانے والا بدترین کام ہے۔  اللہ  تَعَالٰی  نے قومِ لوط کو جنھوں نے سب سے پہلے یہ فعل بد کیا تھا قرآن مجید میں بار بار اُن لوگوں کو بدترین مجرم قرار دیا ۔اور قرآن مجید میں کہیں ان لوگوں کو ’’مجرمین‘‘ کہیں ’’مسرفین‘‘ کہیں ’’فاسقین ‘‘  فرما کر ان لوگوں کے جرموں کا اعلان اور اس فعلِ بد کی مذمت کا بیان فرمایا ۔ اور قرآن مجید کی بہت سی سورتوں میں جا بجا اس کا ذکر فرمایا کہ قومِ لوط پر اُن کی اِس بد اعمالی کی سزا میں شدید پتھراؤ اور زلزلہ کاعذاب بھیج کر اُن کی بستیوں کو اُلٹ پلٹ کر دیا اور پوری آبادی کو تہس نہس کرکے اُس قوم کو دنیا سے نیست و نابود کر دیا۔ چنانچہ سورئہ اعراف میں فرمایا :

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَح



Total Pages: 57

Go To