Book Name:Jahannam Kay Khatrat

ترجمۂ کنزالایمان : اور اپنی جانیں قتل نہ کرو بیشک   اللہ  تم پر مہربان ہے۔

         ایک دوسری آیت میں ہے کہ

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍؕ-نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْۚ                 (پ۸، الانعام : ۱۵۱)

ترجمۂ کنزالایمان : اور اپنی اولاد قتل نہ کرو مفلسی کے باعث ہم تمہیں اور انہیں سب کو رزق دیں گے۔   

         اور ایک دوسری آیت میں یہ بھی فرمایا کہ

وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىٕلَتْﭪ(۸) بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ(۹) (پ۳۰، التکویر : ۸، ۹)

ترجمۂ کنزالایمان :  اور جب زندہ دبائی ہوئی سے پوچھا جائے کس خطاپر ماری گئی

        ا ب اس مضمون کے بارے میں چند حدیثیں بھی پڑھ لیجئے جو بہت رقت انگیز و عبرت خیز ہیں ۔

حدیث : ۱

          حضرت ابو سعید و حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ’’ اگر تمام آسمان و زمین والے ایک مسلمان کا خون کرنے میں شریک ہو جائیں تو  اللہ  تَعَالٰی اُن سب کو منہ کے بل اَوندھا کرکے جہنم میں ڈال دے گا۔‘‘   ( سنن الترمذی، کتاب الدیات، باب الحکم فی الدماء، الحدیث۱۴۰۳، ج۳، ص۱۰۰)

حدیث : ۲

         حضرت ابن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے نبی کریمصلی   اللہ  تَعَالٰی علیہ و اٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ (قیامت کے دن) مقتول کی رگوں سے خون بہتا ہو گا اور وہ اپنے        قاتل کے سر کا اگلا حصہ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے خدا  عَزَّ وَجَلَّ   کے حضور حاضر ہو گا، اے میرے پروردگار ! اِس نے مجھ کو قتل کیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ عرش تک پہنچ کر خدا   عَزَّوَجَلَّ کے دربار میں اپنا مقدمہ پیش کرے گا۔(سنن الترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ النسائ، الحدیث۳۰۴۰، ج۵، ص۲۳)   

حدیث : ۳

          حضرت ابوالدرداء رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے رسول    اللہ     صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ ہر گناہ کے بارے میں اُمید ہے کہ   اللہ  تَعَالٰی بخش دے گا۔ لیکن جو  شرک کی حالت میں مر گیا اور جس نے کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر د یا اُن دونوں کو  نہیں بخشے گا ۔    

  (مشکوۃ المصابیح، کتاب القصاص، الفصل الثانی، الحدیث :  ۳۴۶۸، ج۲، ص۲۸۹۔سنن ابی داود، کتاب الفتن والملاحم، باب فی تعظیم قتل المؤمن، الحدیث۴۲۷۰، ج۴، ص۱۳۹)

حدیث : ۴

         حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ جو شخص ایک مسلمان کے قتل میں مدد کرے اگرچہ وہ ایک لفظ بول کر بھی مدد کرے تو وہ اِس حال میں (قیامت کے دن)    اللہ   عَزَّ وَجَلَّ   کے دربار میں حاضر ہو گا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان یہ لکھا ہو گا کہ’’ یہ    اللہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی رحمت سے مایوس ہو جانے والا ہے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ، کتاب الدیات، باب التغلیظ فی قتل (مسلم) ظلماً، الحدیث۲۶۲۰، ج۳، ص۲۶۲ )

مسائل و فوائد

        خلاصہ کلام یہ ہے کہ کسی مسلمان کو قتل کرنا بہت ہی سخت گناہ کبیرہ ہے۔ پھر اگر مسلمان کا قتل اس کے ایمان کی عداوت سے ہو یا قاتل مسلمان کے قتل کو حلال جانتا ہو تو یہ کفر ہو گا اور قاتل کافر ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں جلتا رہے گا۔ اور اگر صرف دُنیوی عداوت کی بِنا پر مسلمان کو قتل کر دے اور اِس قتل کو حلال نہ جانے جب بھی آخرت میں اس کی یہ سزا ہے کہ وہ مدتِ دراز تک جہنم میں رہے گا۔

        دُنیا میں مقتول کے وارثوں کو اختیار ہے کہ اگر وہ چاہیں تو قاتل کو قتل کرکے قصاص لے لیں ۔ اور اگر چاہیں تو ایک سو اونٹ یا اس کی قیمت قاتل سے بطورِ خون بہا کے لے لیں ۔ اور اگر چاہیں تو قاتل کو مُعاف کر دیں ۔( و  اللہ  تَعَالٰی اعلم)

(۴)  زنا کا ری

        یہ وہ جرم ہے کہ دنیا کی تمام قوموں کے نزدیک فعلِ قبیح اور جرم و گناہ ہے اور اسلام میں یہ کبیرہ گناہ ہے اور دنیا و آخرت میں ہلاکت کا سبب اور جہنم میں لے جانے والابدترین فعل ہے۔ قرآن مجید میں   اللہ  تَعَالٰی نے فرمایا کہ

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(۳۲) (پ۱۵، بنی اسرائیل : ۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان : اور بد کاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بری راہ ۔

         اﷲ  اکبر!زنا کرنا بہت ہی بری اور بڑی بات ہے۔ ارشاد ربّانی ہے کہ زنا کے قریب بھی مت جاؤ۔یعنی ان باتوں سے بھی بچتے رہو جو تمہیں زنا کاری کی طرف لے جائیں ۔ چنانچہ ایک دو سری آیت میں یہ ارشاد فرمایاہے کہ

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ(۳۰) وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ (پ۱۸، النور : ۳۰، ۳۱)

 



Total Pages: 57

Go To