Book Name:Jahannam Kay Khatrat

عبادت سمجھ کر سجدہ کریں تو یہ کھلا ہوا شرک ہو گا۔ اور اگر اِن بزرگوں کی تعظیم کیلئے سجدہ کریں تویہ اگرچہ شرک نہیں ہو گا مگر ناجائز و حرام اور بہت سخت گناہ ہوگا۔ لہٰذا مسلمان کو قبروں کے سجدہ سے خود بھی بچنا چاہیے اور دوسروں کو بھی روکنا چاہیے ۔

        خاص کر خانقاہوں کے سجادہ نشین اور مزاروں کے مجاورین حضرات کا فرض ہے کہ وہ قبروں پر سجدہ کرنے والے جاہل زائرین کو قبروں کو سجدہ کرنے سے روکیں اور خلاف شرع حرکت کرنے والے زائرین کو خانقاہوں اور مزاروں سے باہر کر دیں ۔ ورنہ وہ بھی ان زائرین کے گناہوں میں شریک ٹھہریں گے اور قہر قہار و غضب جبار میں گرفتار ہو کر عذاب نار کے حقدار ٹھہریں گے مگر افسوس کہ سجادہ نشین و مجاورین حضرات چند پیسوں اور چند بتاشوں کے لالچ میں گنوار قسم کے زائرین اور اجڈ عورتوں کو خانقاہوں اور مزاروں میں جانوروں کی طرح گھس پڑنے کی اجازت دے دیتے ہیں اور یہ گنوار قبروں پر سر پٹک پٹک کر علانیہ سجدہ کرتے ہیں اور سجادہ نشین و مجاورین اپنی آنکھوں سے ان حرکتوں کو دیکھتے ہیں مگر دم نہیں مار سکتے اور اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہابی ، سنیوں کو طعنہ دیتے ہیں بلکہ بہت سے مسلمان ان قبیح حرکتوں کو دیکھ کر ُسنّیت سے متنفر ہو کر وہابی ہو جاتے ہیں ۔ (نعوذ باللّٰہ منہ)   

 (۲)  کفر  

         شرک کی طرح کفر بھی وہ بڑا گناہ ہے جو مُعاف نہیں ہو سکتا اور مشرک کی طرح کافر بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں دا خل کیا جائے گا۔ قرآن مجید کی سینکڑوں آیتوں اور حدیثوں میں کافروں کیلئے جہنم کے عذاب کی وعید شدید آئی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں بار بار   اللہ  تَعَالٰی کایہ فرمان ہے کہ

وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴)                    (پ۱، البقرۃ : ۱۰۴)

ترجمۂ کنزالایمان : اورکافروں کیلئے درد ناک عذاب ہے

اسی طرح دوسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ

وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۲۱۷) (پ۲، البقرۃ : ۲۱۷)

ترجمۂ کنزالایمان : اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے پھر کافر ہو کر مرے تو ان لوگوں کا کیا اکارت گیا دنیا میں اور آخرت میں اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ۔

         اور ایک آیت میں یہ فرمایا کہ

بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓــٴَـتُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۸۱)                  (پ۱، البقرۃ : ۸۱)

ترجمۂ کنزالایمان : ہاں کیوں نہیں جو گناہ کمائے اور اس کی خطا اسے گھیرلے وہ دوزخ والوں میں ہے انہیں ہمیشہ اس میں رہنا ۔

        بہر حال خلاصہ یہ ہے کہ کافر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ضرور جہنم میں جائیگا۔   

کُفر کیا ہے :   دین اسلام کی ضروریات میں سے کسی ایک بات کا انکار کرنا یا اُس میں شک کرنا، یا اُس سے ناراض ہونا یا اُس کو حقیر سمجھنا یا اُس کی توہین کرنا یہ سب کفر ہے۔ مثلاً خدا  عَزَّ وَجَلَّ   کی ذات و صفات سے انکار کرنا یا خدا   عَزَّ وَجَلَّ   کے رسولوں اور نبیوں  علیہم السلام  میں سے کسی رسول یا نبی کا انکار کرنا یا خدا   عَزَّ وَجَلَّ   کی کتابوں میں سے کسی کتاب کا انکار کرنا یا فرشتوں کا انکار کرنا یا قیامت کا انکار کرنا یا کسی نبی ، یا رسول یا فرشتہ یا قرآن یاکعبہ کی توہین کرنا۔

         اسی طرح بعض کام بھی کفر ہیں جیسے بت کو سجدہ کرنا یا بت پرستی کی جگہوں کی تعظیم کرنا یا شعارِ کفر یعنی کفار کی دینی علامتوں پر عمل کرنا۔ مثلاً جنیو پہننا۔ یا سر پر چٹیا رکھنا یا عیسائیوں کی صلیب پہننا یہ سب کفر کی باتیں ہیں ۔ غرض ہر وہ عقیدہ و عمل کفر ہے جس سے اسلام کی تکذیب یا توہین ہوتی ہو۔اگر کوئی کفر سر زد ہو جائے تو فوراً ہی اُس سے توبہ کرکے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہونا اور بیوی سے دوبارہ نکاح کر لینا ضروری ہے ورنہ اگر کفر سے توبہ کئے بغیر مر گیا تو ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ (نعوذ ب  اللہ  )

مسائل و فوائد

  جو مسلمان ہو کر کفر کرے اس کو شریعت میں ’’  مُر تَد‘‘ کہتے ہیں اور دنیا میں مُر تَد کی یہ سزا ہے کہ اس کو تین دن کی مہلت دی جائے گی اور اُن تین دنوں میں علماء کرام اُس کو سمجھائیں گے اور توبہ کا مطالبہ کریں گے اگر وہ توبہ کرکے مسلمان ہو گیا تو خیر، ورنہ تیسرے دن بادشاہِ اسلام اُس کو قتل کرا دے گا ۔ (بہارشریعت، مرتد کا بیان، ج۲، حصہ۹، ص۱۶۴)   

(۳)مسلمان کا قتل

        مسلمان کاخونِ ناحق کرنا یہ بھی جہنم میں لے جانے والا گناہ کبیرہ ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ دنیا کا ہلاک ہو جانا   اللہ  کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل ہونے سے ہلکا ہے

 (تفسیرخزائن العرفان، پ۵، النساء : ۹۳)

قرآن مجید میں ہے کہ

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا(۹۳)                           (پ۵، النساء : ۹۳)

ترجمۂ کنزالایمان : اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور   اللہ  نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کیلئے تیار رکھا بڑا عذاب۔

         دوسری آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّؕ-ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ(۱۵۱) (پ۸، الانعام : ۱۵۱)

ترجمۂ کنزالایمان :  اورجس جان کی   اللہ  نے حرمت رکھی ہے اسے ناحق نہ مارو یہ تمہیں حکم فرمایا ہے کہ تمہیں عقل ہو۔

         ایک دوسری آیت میں یوں ارشاد فرمایا کہ

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا  (پ۵، النساء : ۲۹)

 



Total Pages: 57

Go To