Book Name:Jahannam Kay Khatrat

حدیث : ۳

         حضرت حکیم بن حزام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے ایک مرتبہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے مال مانگا تو حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے مجھے مال عطا فرما دیا۔ پھر میں نے دوبارہ مانگا تو پھر بھی حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھے مال دے دیا۔ اور مجھ سے یہ فرمایا کہ اے حکیم!رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ یہ مال سبز اور میٹھا ہے(یعنی بہت مرغوب و پسندیدہ چیز ہے) تو جو آدمی اس کو اپنے نفس کی سخاوت کے ساتھ لے گا، اس مال میں برکت ہو گی اور جو نفس کی لالچ کے ساتھ اس کو لے گا اس میں برکت نہ ہو گی اور اس کی مثال یہ ہو گی کہ کوئی کھاتا رہے اور آسودہ نہ ہو اور اوپر والا ہاتھ (دینے والا) نیچے والے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہے۔ حضرت حکیم  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ       کا بیان ہے کہ یہ سن کر میں نے کہہ دیا کہ یا رسول  اللہ !   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    میں اس ذات کی قسم کھاتا ہوں جس نے آپ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کو نبی بنا کر بھیجا ہے کہ میں آپکے بعد کسی سے زندگی بھر کچھ نہیں مانگوں گا۔

(صحیح البخاری، کتاب الزکوٰۃ، باب الاستعفاف عن المسألۃ، الحدیث : ۱۴۷۲، ج۱، ص۴۹۷)

حدیث : ۴

         حضرت ابو سعید رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ جو سوال کرنے (بھیک مانگنے) سے بچے گا   اللہ  تَعَالٰی اس کو بچالے گا اور جو مالداری ظاہر کرے گا   اللہ  تَعَالٰی اس کو مالدار بنادے گا اور جو صابر بنے گا   اللہ  تَعَالٰی اس کو صابر بنا دے گا اور صبر سے بہتر اور وسیع عطیہ کوئی نہیں ہے جو کسی کو دیا گیا ہو۔

 (صحیح البخاری، کتاب الزکوٰۃ، باب الاستعفاف عن المسألۃ، الحدیث : ۱۴۶۹، ج۱، ص۴۹۶)

حدیث : ۵

         حضرت سہل بن الحنظلیہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے روایت کرتے ہیں کہ جس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ سوال سے مستغنی ہو اور پھر اس کے باوجود بھیک مانگے تو وہ جہنم کی بہت زیادہ آگ مانگ رہا ہے۔       (سنن أبی داود، کتاب الزکوٰۃ، باب مایعطی من الصدقۃ...الخ، الحدیث۱۶۲۹، ج۲، ص۱۶۴)

حدیث : ۶

         حضرت ثوبان  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی ہے رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے فرمایا کہ کون ہے جو اس بات کا ضامن ہو جائے کہ میں کسی سے کچھ نہیں مانگوں گا۔ تو میں اس کیلئے جنت دلانے کا ضامن ہوں ؟ یہ سن کر حضرت ثوبان رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ میں ! یا رسول  اللہ !   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     اس بات کی ضمانت لیتا ہوں ۔ تو حضرت ثوبان رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کا یہ حال تھا کہ وہ کبھی کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے۔(سنن ابی داود، کتاب الزکاۃ، باب کراھیۃ المسألۃ، الحدیث۱۶۴۳، ج۲، ص۱۷۰)

         حضرت زبیر بن عوام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ رسول  اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے راوی ہیں کہ تم میں کوئی اپنی رسی لے کر جائے اور لکڑیوں کا ایک گٹھر اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے اور اس کو بیچ کر اپنی ذات کا گزارہ کرے یہ اس سے بہت اچھا ہے کہ وہ لوگوں سے  بھیک مانگے کہ کوئی اس کو دے گا اور کوئی منع کر دے گا۔(صحیح البخاری، کتاب الزکوٰۃ، باب الاستعفاف ...الخ، الحدیث : ۱۴۷۱، ج۱، ص۴۹۷)

مسائل و فوائد

        خلاصہ کلام یہ ہے کہ بلا ضرورت لوگوں سے مال کا سوال کرنا اور بھیک مانگنا حرام و گناہ ہے اس زمانے میں کچھ لوگوں نے بھیک مانگنے کو اپنا پیشہ اور کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ حالانکہ وہ لوگ مستغنی اور غنی ہیں ۔ ان لوگوں کو مذکورہ بالا فرامین نبوی سے عبرت و نصیحت حاصل کرنی چاہیے کہ وہ لوگ بھیک مانگ مانگ کر دولت نہیں جمع کر رہے ہیں بلکہ جہنم کا انگارا جمع کر رہے ہیں ۔

 (ولا حول ولا قوۃ الا ب اﷲ  العلی العظیم)

(۷۱)   قارئین ومریدین کیلئے ضروری ہدایات

(۱) مذہب اہل سنت و جماعت پر قائم رہیں جو سلف صالحین اور گزشتہ علمائے حرمین شریفین کا مذہب ہے۔ سنیوں کے جتنے مخالف مذاہب ہیں ، مثلاً وہابی، دیوبندی، رافضی ، قادیانی، نیچری ، وغیرہ ان سب سے جدا رہیں اور سب کو اپنا دینی دشمن اور مخالف جانیں ۔ نہ ان کی باتوں کو سنیں نہ ان کی صحبت میں بیٹھیں ۔ ان کی تقریروں اور تحریروں کو نہ سنیں نہ پڑھیں کیونکہ شیطان کو (معاذ  اللہ ) دل میں وسوسہ ڈالتے دیرنہیں لگتی۔ آدمی کو جہاں مال یا آبرو کے برباد ہونے کا اندیشہ ہو وہاں ہر گز کوئی عقل مند نہیں جا سکتا اوردین و ایمان تو مسلمان کی سب سے زیادہ عزیز چیز ہے۔ لہٰذا اس کی محافظت میں حد سے زیادہ جدوجہد اور کوشش فرض ہے۔ مال اور دنیا کی عزت اور دنیا کی زندگی تو فقط دنیا ہی تک محدود ہیں اور دین و ایمان سے تو آخرت اور ہمیشگی کے گھر میں کام پڑنے والا ہے اس لئے جان و مال اور دنیاوی عزت سے بڑھ کر دین و ایمان کی حفاظت کا سامان کرنا بے حد ضروری ہے۔

(۲) نماز پنجگانہ کی پابندی نہایت ضروری ہے مردوں کو مسجد وجماعت کا التزام بھی واجب ہے بے نماز مسلمان گویا تصویر کا آدمی ہے کہ ظاہری صورت انسان کی ہے مگر انسان کا کام کچھ نہیں ۔ یاد رکھو کہ بے نماز وہی نہیں ہے جو کبھی نہ پڑھے بلکہ جو ایک وقت کی بھی قصداً نماز چھوڑ دے وہ بے نماز ہے۔ کسی کی نوکری ملازمت خواہ تجارت وغیرہ کسی حاجت کے سبب ایک وقت کی بھی نماز قضا کر دینی سخت ناشکری اور پرلے سرے کی نادانی و گناہ کبیرہ ہے جو جہنم میں لے جانے والاہے۔ کوئی آقا یہاں تک کہ کافر کا بھی اگر کوئی نوکر ہو تو وہ اپنے ملازم کو نماز سے باز نہیں رکھ سکتا اور اگر کوئی آقا اپنے نوکر کو نماز سے منع کرے تو ایسی نوکری ہی قطعاً حرام ہے اور نماز چھوڑ کر کوئی بھی رزق کا ذریعہ روزی میں برکت نہیں لا سکتا۔ یاد رکھو کہ رزق اور روزی دینا اسی کا کام ہے جس نے نماز فرض کی ہے۔ لہٰذا اس رزاق مطلق پر توکل اور بھروسا کرتے ہوئے ہمیشہ رزق و روزی کا ذریعہ ایسی ہی نوکری اور ملازمت کو بنانا لازم ہے کہ جس میں خدا    عَزَّ وَجَلَّ   کے فرائض کو چھوڑنا نہ پڑے، ورنہ سخت غضب الٰہی میں مبتلا ہو گا۔

(۳) جتنی نمازیں قضا ہو گئیں ہیں سب کا ایسا حساب لگائیں کہ تخمینے میں باقی نہ رہ جائیں اور ان سب کو بقدر طاقت رفتہ رفتہ جلد ادا کریں ۔ اور اس میں ہر گز ہر گز کاہلی نہ کریں ۔ کیونکہ موت کا وقت معلوم نہیں اورجب تک فرض ذمہ پر باقی ہوتا ہے کوئی نفل مقبول نہیں ہوتا جب چند نمازیں قضا ہوئی ہوں مثلاً سو بار کی فجر قضا ہے تو اس قضا کو پڑھتے وقت ہر بار یوں نیت کریں کہ سب میں پہلی وہ



Total Pages: 57

Go To