Book Name:Jahannam Kay Khatrat

        شکار کرنے کیلئے، کھیتی کی حفاظت کیلئے، مویشیوں کی حفاظت کیلئے مکان کی حفاظت کیلئے ان چار مقصدوں کیلئے کتا پالنا جائز ہے۔ باقی ان کے سوا مثلاً کھیلنے کیلئے، دل بستگی اور تفریح کیلئے ، لڑانے یا دوڑانے کے لئے یا کسی اور کام کیلئے کتا پالنا ناجائز و ممنوع ہے۔ چنانچہ بہت سی حدیثوں میں اس کی ممانعت آئی ہے۔

حدیث : ۱

         حضرت ابن عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا ہے کہ جو شخص شکار یا مویشیوں کی حفاظت کے علاوہ (کسی فضول کام) کیلئے کتا پالے گا تو اس کے ثواب میں سے روزانہ دو قیراط گھٹتا رہے گا ۔       

(الترغیب والترہیب، کتاب الأدب وغیرہ، باب الترہیب من اقتناء الکلب...الخ، الحدیث۱، ج۴، ص۳۴۔صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ، باب الأمربقتل الکلاب...الخ، الحدیث : ۱۵۷۴، ص۸۴۸)

حدیث : ۲

         حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ کھیتی اور مویشی کی حفاظت کے علاوہ اگر کوئی کسی دوسرے مقصد سے کتا پالے گا تو روزانہ اس کا ثواب ایک قیراط گھٹتا رہے گا۔ (الترغیب والترہیب، کتاب الأدب وغیرہ، باب الترہیب من اقتناء الکلب...الخ، الحدیث۴، ج۴، ص۳۴۔صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ، باب الأمربقتل الکلاب...الخ، الحدیث : ۱۵۷۵، ص۸۵۰)

حدیث : ۳

       حضرت بریدہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت جبریل علیہ السلام حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خدمت میں آنے سے رک گئے تو حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے حضرت جبرئیلعلیہ السلام سے پوچھا کہ کس چیز نے آپکو آنے سے روک دیا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو۔   

(الترغیب والترہیب، کتاب الأدب وغیرہ، باب الترہیب من اقتناء الکلب...الخ، الحدیث۸، ج۴، ص۳۵، المسندلامام احمد بن حنبل، حدیث بریدۃ الأسلمی، الحدیث : ۲۳۰۴۸، ج۹، ص۱۸)

حدیث : ۴

         حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور یہ کہا کہ میں شب گزشتہ بھی آیا تھا مگر میرے مکان میں داخل ہونے میں یہ رکاوٹ پڑ گئی کہ مکان کے دروازے میں کچھ آدمیوں کی تصویریں تھیں اور گھر کے اندر ایک پردہ تھا اس پر بھی تصویریں بنی ہوئی تھیں ، اورگھر کے اندر ایک کتا بھی تھا۔ تو آپ حکم دیجئے کہ تصویروں کے سرکاٹ ڈالے جائیں تا کہ وہ درخت کے مثل ہو جائیں اور پردے کے بارے میں یہ حکم دے دیجئے کہ اس کو پھاڑ کر دو مسندیں بنا لی جائیں جو زمین میں پڑی رہیں اور روندی جاتی رہیں ۔ اور حکم دے دیجئے کہ کتا مکان سے نکال دیا جائے۔ یہ حضرت حسن و حسین   رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  کا کتا تھا جو حضور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے تخت کے نیچے تھا۔ چنانچہ وہ کتا نکال دیا گیا۔ (الترغیب والترہیب، کتاب الأدب وغیرہ، باب الترہیب من اقتناء الکلب...الخ، الحدیث۹، ج۴، ص۳۵۔سنن الترمذی، کتاب الأدب، باب ماجاء أن الملائکۃ...الخ، الحدیث : ۲۸۱۵، ج۴، ص۳۶۸)

مسائل و فوائد

        کاشانۂ  اقدس میں حضرت حسن و حضرت حسین  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  کے کتے اور تصویروں کا موجود رہنا اس وقت تھا جب کہ تصویروں اور کتوں کا مکان کے اندر رہنا حرام نہیں ہوا تھا۔ حضرت جبریل علیہ السلام کے اسی واقعہ کی وجہ سے تصویروں اور کتوں کا مکانوں میں رکھنا ناجائز قرار دے دیا گیا۔ اس ممانعت کے بعد اب کسی مسلمان کیلئے جائز نہیں ہے کہ وہ مکان یا کپڑوں پر کسی جاندار کی تصویر رکھے۔ اسی طرح شکار کیلئے اور کھیتی و مویشی و مکان کی حفاظت کیلئے تو کتا پالنا شریعت میں جائز ہے۔ باقی ان کے سوا دوسرے تمام کتوں کا پالنا ناجائز ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو ان خلاف شرع کاموں سے بچنا لازم ہے کیوں کہ شریعت ہی مسلمانوں کیلئے دونوں جہانوں میں صلاح و فلاح کا واحد ذریعہ ہے۔ مغربی تہذیب کے دلدادوں کی ہر گز ہر گز پیروی نہیں کرنی چاہیے جو کتوں کو اپنی اولاد کی طرح پالتے اور گود میں لئے پھرتے ہیں بلکہ جوش محبت میں کتوں کا منہ بھی چومتے رہتے ہیں ۔ (لاحول ولا قوۃ الا با ﷲ )   

(۷۰)  بلا ضرورت بھیک مانگنا

        بلا ضرورت محض اپنا مال بڑھانے کیلئے بھیک مانگنا حرام و گناہ ہے اور حدیثوں میں بکثرت اس کی ممانعت آئی ہے۔ چند حدیثیں یہاں تحریر کی جاتی ہیں ۔چنانچہ

حدیث : ۱

         حضرت قبیصہ بن مُحارق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ان سے فرمایا کہ اے قبیصہ! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ل کا سوال کرنا اور بھیک مانگنا تین شخصوں کے علاوہ کسی کیلئے درست و حلال نہیں ۔ ایک تو وہ شخص کہ اس نے کسی کی ضمانت لی ہواور اس کے پاس مال نہ ہو، تو اس کیلئے حلال ہے کہ وہ بھیک مانگ کر اپنی ضمانت کی رقم ادا کرے۔ دوسرے وہ کہ کسی آفت نے اس کے مال کوہلاک کر دیاتو اس کیلئے حلال ہے کہ وہ اپنے سامان زندگی کو درست کرنے کیلئے بقدر ضرورت بھیک مانگ سکتا ہے۔ تیسرے وہ شخص جو فاقہ میں مبتلا ہو گیا ہو یہاں تک کہ تین آدمی جو عقلمند ہوں اس کی قوم میں سے اٹھ کر یہ کہہ دیں کہ یقینا یہ شخص فاقہ کشی میں مبتلا ہو گیا ہے۔ تو وہ شخص زندگی کے گزارہ بھر بقدر حاجت بھیک مانگ سکتا ہے ان تین شخصوں کے علاوہ جو بھیک مانگے اور دوسروں سے مال کا سوال کرے تو اے قبیصہ! رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ    وہ مال حرام ہے جس کو وہ کھا رہا ہے۔(صحیح مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب من تحل لہ المسألۃ، الحدیث : ۱۰۴۴، ص۵۱۹)

حدیث : ۲

         حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ جو شخص اپنا مال بڑھانے کیلئے بھیک مانگتا ہے وہ جہنم کا انگارا مانگ رہا ہے تو اس کو کم مانگے یا زیادہ یہ اس کو سمجھ لینا چاہیے۔       (صحیح مسلم، کتاب الزکوٰۃ باب کراہۃ المسألۃ للناس، الحدیث : ۱۰۴۱