Book Name:Jahannam Kay Khatrat

حدیث : ۶

         حضرت امیر المومنین ابوبکر صدیق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ جو شخص کسی ایسے نسب کا دعویٰ کرے جس نسب میں اس کا ہونا لوگوں کو معلوم و مشہور نہیں ، تو اس شخص نے   اللہ  تَعَالٰی کی ناشکری کی اور جو نسب کا انکار کرے اس نے بھی   اللہ  تَعَالٰی کی ناشکری کی۔

(الترغیب والترہیب، کتاب النکاح ، الترہیب أن ینتسب...الخ، الحدیث۹،  ج۳، ص۵۳، المعجم الأوسط للطبرانی، من اسمہ معاذ، الحدیث : ۸۵۷۵، ا ج۶، ص۲۲۱)

مسائل و فوائد

       مذکورہ بالا حدیثوں کو پڑھ کر ان لوگوں کی آنکھیں کھل جانی چاہیئیں جو ہندوستان میں خواہ مخواہ اپنا خاندان و نسب بدل کر کسی اونچے خاندان سے اپنا رشتہ نسب ملا لیتے ہیں ۔ سیکڑوں ایسے ہیں جن کو سیکڑوں برس سے لوگ یہی جانتے ہیں کہ وہ ہندوستانی ہیں اور ان کے آباؤ اجداد برسوں پہلے اسلام قبول کرکے مسلمان ہو گئے تھے مگر آج کل وہ عربی النسل بن کر اپنے کو صدیقی و فاروقی و عثمانی و سید کہنے لگے ہیں ۔ انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ لوگ ایسا کرکے کتنے بڑے گناہ کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ خداوند کریم ان لوگوں کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس حرام و جہنمی کام سے ان لوگوں کو توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

(۶۷)  بیویوں کے درمیان عدل نہ کرنا

        جس شخص کی دو یا دو سے زیادہ بیویاں ہوں ، اس پر فرض ہے کہ سب بیویوں کو کھانا کپڑا اور خرچ اور بستر کا حق اور سب بیویوں کے پاس سونے میں بالکل برابری کرے ہر گز ہر گز کسی بیوی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے ورنہ وہ گناہ میں مبتلا ہو گا اورجہنم کی سزا کا حق دار ہو گا اس بارے میں یہ چند حدیثیں بہت عبرت خیز و نصیحت آمیز ہیں ۔

حدیث : ۱

         حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے۔ حضور نبی کریم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ جب کسی کے پاس دو بیویاں ہوں اور وہ ان دونوں کے حقوق ادا کرنے میں برابر ی نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن وہ اس حالت میں آئے گا کہ اس کی ایک جانب کا آدھا دھڑ گراہوا ہو گا۔

(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب النکاح، باب القسم، الفصل الثانی، الحدیث : ۳۲۳۶، ج۲، ص۲۳۴۔سنن الترمذی، کتاب النکاح، باب ماجاء فی التسویۃ بین الضرائر، الحدیث :  ۱۱۴۴، ج۲، ص۳۷۵)

حدیث : ۲

         حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ جس کے پاس دو بیویاں ہوں اور وہ ایک ہی کی طرف مائل ہو جائے تو وہ قیامت میں اس حالت میں آئے گا کہ اس کے بدن کی ایک شق گری ہوئی ہوگی۔ (یعنی ایک طرف جھکی اور مڑی ہوئی ہو گی)۔

(الترغیب والترہیب، کتاب النکاح ، الترہیب من ترجیح احدی.....الخ، الحدیث۱، ج۳، ص۴۰۔سنن الترمذی، کتاب النکاح، باب ماجاء فی التسویۃ بین الضرائر، الحدیث۱۱۴۴، ج۲، ص۳۷۵)

حدیث : ۳

         حضرت عبد  اللہ  بن عمرو رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ بیشک عدل و انصاف کرنے والے   اللہ  تَعَالٰی کے دربار میں نور کے منبروں پر ہوں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں میں ، اور اپنی بیویوں کے معاملہ میں ، اور ان تمام کاموں میں جن کے وہ والی بنے ہیں عدل کرتے ہیں ۔  

(صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضیلۃ الامام...الخ، الحدیث :  ۱۸۲۷، ص۱۰۱۵)

   

(۶۸) بائیں ہاتھ سے کھانا پینا

        بائیں ہاتھ سے کھانا، پینا یا کوئی چیز بائیں ہاتھ سے لینا دینا ممنوع ہے۔ حدیثوں میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ چنانچہ نیچے تحریر کی ہوئی حدیثوں کو بغور پڑھئے۔

حدیث : ۱

         حضرت ابن عمر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے رسول   اللہ    صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے فرمایا کہ ہر گز ہر گز تم میں کوئی بائیں ہاتھ سے نہ کوئی چیز کھائے نہ کچھ پئے۔ کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے اور حضرت نافع  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  اس حدیث میں اتنا اور بھی بیان کرتے ہیں کہ بائیں ہاتھ سے نہ کوئی چیز لے نہ دے ۔        

 (الترغیب والترہیب، کتاب الطعام وغیرہ ، الترہیب من الاکل والشرب...الخ، الحدیث۱، ج۳، ص۹۲۔صحیح مسلم، کتاب الأشربۃ، باب آداب الطعام...الخ، الحدیث۲۰۲۰، ص۱۱۱۷)

حدیث : ۲

         حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے حضور نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ تم میں ہر ایک داہنے ہاتھ سے کھائے اور داہنے ہاتھ سے پئے اور داہنے سے ہر چیز دے اور لے۔ اس لئے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا پیتا اور لیتا دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الاطعمۃ، باب الاکل بالیمین، الحدیث