Book Name:Jahannam Kay Khatrat

 

 عذابوں کا ہزارواں حصہ بھی نہیں ۔ بس اُس کی مقدار اور کیفیتوں اور قسموں کو تو صرف   اللہ  تَعَالٰی ہی جانتا ہے۔   اللہ  تَعَالٰی ہرمسلمان کو جہنم کے عذابوں سے بچائے اور ایسے اعمال سے محفوظ رکھے جو جہنم میں لے جانے والے ہیں ۔

        اب ہم اُن چند اعمال کی فہرست تحریر کرتے ہیں جن پر قرآن و حدیث میں جہنم کی وعیدیں آئی ہیں ۔ اِن اعمال کو غور سے پڑھئے اور اِن کاموں سے بچتے رہیے، تا کہ جہنم کے عذا بوں سے نجات مل سکے۔

جہنم میں لے جا نے والے اعمال

)  شرک 

           شرک اکبر الکبائر یعنی تمام بڑے بڑے گناہوں میں سب سے زیادہ بڑا گناہ ہے۔ اِس کے بارے میں خداوند ِ قدوس نے قرآن مجید میں فرمایا کہ

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا(۴۸) (پ۵، النساء : ۴۸)

ترجمۂ کنز الایمان :  بے شک    اللہ   اسے نہیں بخشتا کہ اس کیساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑے گناہ کا طوفان باندھا۔

اسی طرح دوسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ

وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا(۱۱۶) (پ۵، النساء : ۱۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان : اورجو  اللہ  کاشریک ٹھہرائے  وہ دور کی گمراہی میں پڑ ا۔   

        شرک کے بارے میں  اللہ  تَعَالٰی  کا اعلان ہے کہ وہ اِس گناہ کو کبھی بھی نہ بخشے گا۔ باقی شرک کے سوا دوسرے تمام گناہوں کو جس کیلئے وہ چاہے گا بخش دے گا اور مشرک ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ضرور جہنم میں جائے گا۔ مشرک کی کوئی عبادت مقبول نہیں ۔ بلکہ عمر بھر کی عبادت شرک کرنے سے غارت و برباد ہو جاتی ہے چنانچہ قرآن مجید میں ہے کہ

لَىٕنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ                           (پ۲۴، الزمر : ۶۵)

ترجمۂ کنز الایمان : کہ اے سننے والے اگر تو نے   اللہ  کا شریک کیا تو ضرور تیرا سب کیا دھرا اکارت جائے گا

حدیث :  حضرت عبد   اللہ   بن مسعود  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے  رَسُولَ      اللہ       صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے عرض کیا کہ یا رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کون سا گناہ    اللہ     عَزَّ وَجَلَّ   کے نزدیک سب سے زیادہ بڑا ہے؟ تو آپ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا :  یہ ہے کہ تم  اللہ   عَزَّوَجَلَّ کیلئے کوئی شریک ٹھہراؤ حالانکہ ا ُسی نے تم کو پیدا کیا ہے۔  (صحیح البخاری، کتاب التوحید، باب قول   اللہ  یایھاالرسول...الخ، الحدیث۷۵۳۲، ج۴، ص۵۸۸)      

اِن کے علاوہ دو سری بہت سی آیات اور حدیثیں بھی شرک کی ممانعت میں وارد ہوئی ہیں ۔ لہٰذا جہنم کے عذا ب سے بچنے کیلئے شرک سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔

شرک کیا ہے :    شرک کسے کہتے ہیں اور شرک کی حقیقت کیا ہے؟ تو اس کے بارے میں علامہ حضرت سعد الدین تفتازانی رَحْمَۃُ   اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی کتاب ’’ شرح عقائد‘‘  میں تحریر فرمایا کہ

       الا شتراک ھواثبات الشریک فی الالوھیۃ بمعنی وجوب الوجود کما    للمجوس او بمعنی استحقاق العبادۃ کما لعبدۃ الاصنام                    (شرح العقائد النسفیۃ، مبحث الافعال کلھابخلق   اللہ  ...الخ، ص۷۸)

        شرک کے معنی یہ ہیں کہ خدا   عَزَّ وَجَلَّ    کی الوہیت میں کسی کو شریک ٹھہرانا یا تو اس طرح کہ خدا    عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی کو واجب الوجود مان لینا جیسا کہ مجوسی کہتے ہیں یا اس طرح کہ خداکے سوا کسی کو عبادت کا حقدار مان لینا جیسا کہ بت پرستوں کا عقیدہ ہے۔

          حضرت علامہ تفتا زانی رَحْمَۃُ   اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس عبارت میں فیصلہ کر دیا کہ شرک کی دوہی صورتیں ہیں ایک یہ کہ خدا  عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی کو واجب الوجود مانا جائے۔ دوسری یہ کہ خدا   عَزَّ وَجَلَّ   کے سوا کسی کو عبادت کے لائق مان لیا جائے۔

کون کون سی چیزیں شرک نہیں ہیں

(۱) انبیائ علیہم السلام  ، اولیاء رحمہم   اللہ  تعالیٰکو محبت سے پکارنا یعنی یا رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ، یا غوث رضی ا ﷲ عنہ  کہنا۔

(۲)  بزرگوں سے مدد طلب کرنا ۔

(۳) بزرگوں کے مزاروں پر چادر پھول ڈالنا۔

(۴) فاتحہ پڑھنا ۔

(۵) بزرگوں کو خدا   عَزَّ وَجَلَّ   کی بارگاہ میں وسیلہ بنا نا۔

(۶) بزرگوں کے مزاروں کے سامنے مراقبہ کرنا ۔

(۷)  بزرگوں کے مزاروں کا ادب کرنا۔

(۸) بزرگوں کے فاتحہ کے کھانوں اور مٹھائیوں کو تبرک سمجھ کر کھانا، جو نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں سُنّی مسلمانوں کا دستور و طریقہ ہے یہ ہرگز ہر گز شرک نہیں کیوں کہ کوئی مسلمان بھی

 ا نبیاء ، اولیاء اور دوسرے بزرگوں یعنی پیروں اور اماموں اور شہیدوں کو واجب الوجود یا لائق عبادت نہیں مانتا ہے، بلکہ تمام مسلمان اِن بزرگوں کو    اللہ   عَزَّ وَجَلَّ   کا بندہ مان کر اِن کی تعظیم کرتے ہیں تا کہ   اللہ  تَعَالٰی اپنے محبوبوں کی تعظیم سے خوش ہو جائے لہٰذا سنیوں کے یہ اعمال ہر گز ہر گز شرک نہیں ہو سکتے۔ ہاں البتہ جو جاہل لوگ قبروں کو سجدہ کرتے ہیں اگر وہ لوگ اِن بزرگوں کو قابلِ



Total Pages: 57

Go To