Book Name:Jahannam Kay Khatrat

         حضرت امام مالک  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ    نے مسجد نبوی کے ایک جانب ایک میدان بنا دیا تھا جس کو لوگ ’’ بُطَیْحَائ‘‘ کہتے تھے اور امیر المومنین نے یہ فرما دیا تھا کہ جو کوئی شور کرے یا شعر گائے یا بلند آواز سے گفتگو کرے تو وہ مسجدسے نکل کراس میدان میں آ جائے۔      

(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الصلوۃ، باب المساجد...الخ، الفصل الثالث، الحدیث :  ۷۴۵، ج۱، ص۲۳۵، الموطا للامام مالک، کتاب قصر الصلاۃ فی السفر، باب جامع الصلاۃ، الحدیث۴۳۲، ج۱، ص۱۷۰)

(۶۵)  قرآن مجید بھلا دینا 

        قرآن مجید پڑھ کر غفلت اور لاپرواہی سے اس کو بھلا دینا بہت سخت گناہ ہے اس کے بارے میں چند حدیثیں بہت ہی لرزہ خیز ہیں ۔چنانچہ

حدیث : ۱

         حضرت انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ میری امت کے تمام ثوابوں کو میرے سامنے پیش کیا گیا یہاں تک کہ مسجد سے کسی گندی چیز کے نکالنے کا ثواب بھی پیش کیا گیا اور میری امت کے تمام گناہوں کو بھی میرے سامنے پیش کیا گیا تو میں نے اس سے بڑا کسی گناہ کو نہیں دیکھا کہ آدمی نے قرآن مجید کی کوئی سورت یا آیت جو اسے یاد تھی اسے بھلا دیا۔(الترغیب والترہیب، کتاب قراء ۃ القراٰن، الترہیب من نسیان القراٰن...الخ، الحدیث۳، ج۲، ص۲۳۴، سنن ابی داود، کتاب الصلوٰۃ ، باب  فی  کنس المسجد، الحدیث : ۴۶۱، ج۱، ص۱۹۸)

حدیث : ۲

         حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ جو آدمی قرآن مجید پڑھ کر اس کو بھلا دے گا تو وہ   اللہ  تَعَالٰی سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ جذامی( کوڑھی) ہو گا۔

(الترغیب والترہیب، کتاب قراء ۃ القراٰن، الترہیب من نسیان...الخ، الحدیث۴، ج۲، ص۲۳۴۔سنن ابی داود، کتاب الوتر ، باب التشدیدفیمن حفظ القرأن ثم نسیہ، الحدیث : ۱۴۷۴، ج۲، ص۱۰۷)

حدیث : ۳

         حضرت ابن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے کہ جس سینے میں کچھ بھی قرآن مجید نہ ہو تو وہ ویران گھر کی مثل ہے۔

 (الترغیب والترہیب، کتاب قراء ۃ القراٰن، الترہیب من نسیان...الخ، الحدیث۱، ج۲، ص۲۳۳۔ سنن الترمذی، کتاب فضائل القراٰن، باب۱۸، الحدیث :  ۲۹۲۲، ج۴، ص۴۱۹)

(۶۶)کسی دوسرے کو اپنا باپ بنا لینا

        اپنے حقیقی باپ کو چھوڑ کرکسی دوسرے کو اپنا باپ بتانا یا اپنے خاندان و نسب کو چھوڑ کر کسی دوسرے خاندان سے اپنا نسب جوڑنا حرام وگناہ اور جنت سے محروم کرکے دوزخ میں لے جانے والا کام ہے اس بارے میں بڑی سخت وعیدیں حدیثوں میں آئی ہیں چنانچہ مندرجہ ذیل حدیثیں بہت عبرت خیز ہیں ۔

حدیث : ۱

         حضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا ہے کہ جو اپنے باپ کے غیر کو اپنا باپ بنانے کا دعویٰ کر ے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے۔ (الترغیب والترہیب، کتاب النکاح وما یتعلق بہ، الترہیب أن ینتسب الانسان...الخ، الحدیث۱، ج۳، ص۵۱۔صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان حال...الخ، الحدیث : ۱۱۵، ص۵۲)

حدیث : ۲

         حضرت ابو ذر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اپنے باپ کے غیر کو اپنا باپ بنانے کا دعویٰ کرے گاحالانکہ اس کو معلوم ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو اس شخص نے ناشکری کی۔

(الترغیب والترہیب، کتاب النکاح ، الترہیب أن ینتسب الانسان...الخ، الحدیث۲، ج۳، ص۵۱۔ صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب۵، الحدیث : ۳۵۰۸، ج۲، ص۴۷۶