Book Name:Jahannam Kay Khatrat

حدیث : ۲

        حضور اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں کا مذاق اڑانے والے کے سامنے جنت کا ایک دروازہ کھولا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آؤ آؤ تو وہ بہت ہی بے چینی اور غم میں ڈوبا ہوا اس دروازے کے سامنے آئے گا مگر جیسے ہی وہ دروازے کے پاس پہنچے گا وہ دروازہ بند ہو جائے گا پھر ایک دوسرا جنت کا دروازہ کھلے گا اور اس کو پکارا جائے گاکہ آؤ یہاں آؤ چنانچہ یہ بے چینی اور رنج وغم میں ڈوبا ہوا اس دروازے کے پاس جائے گا تو وہ دروازہ بند ہو جائے گا، اسی طرح اس کے ساتھ معاملہ ہو تا رہے گا یہاں تک کہ دروازہ کھلے گا اور پکارپڑے گی تو وہ نہیں جائے گا۔ (اس طرح وہ جنت میں داخل ہو نے سے محروم رہے گا)(احیاء علوم الدین، کتاب آفات اللسان، الآفۃ الحادیۃعشرالسخریۃوالاستھزائ، ج۳، ص۱۶۲)

حدیث : ۳

        جو اپنے کسی دینی بھائی کو اس کے کسی ایسے گناہ پر عار دلائے گا جس سے وہ توبہ کر چکا ہو تو عار دلانے والا اس وقت تک نہیں مریگا جب تک کہ وہ خود اس گناہ کو نہ کر لے۔

(احیاء علوم الدین، کتاب آفات اللسان، الآفۃ الحادیۃعشرالسخریۃوالاستھزاء ، ج۳، ص۱۶۳)

مسائل وفوائد

         بہر حال کسی کو ذلیل کرنے کے لیے اور اس کی تحقیر کرنے کے لیے اس کی خامیوں کو ظاہر کرنا ، اس کا مذاق اڑانا، اس کی نقل اتارنایا اس کو طعنہ مارنا یا عار دلانا یا اس پر ہنسنا یا اس کو برے برے القاب سے یاد کرنا اور اس کی ہنسی اڑانا مثلا آج کل کے بزعم خود اپنے آپ کو عرفی شرفاء کہلانے والے کچھ قوموں کو حقیر و ذلیل سمجھتے ہیں اور محض قومیت کی بنا پر ان کا تمسخر اور استہزاء کرتے اور مذاق اڑاتے رہتے ہیں اور قسم قسم کے دل آزار القاب سے یاد کرتے رہتے ہیں ۔ کبھی طعنہ زنی کرتے ہیں ۔ کبھی عار دلاتے ہیں یہ سب حرکتیں حرام و گناہ اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں ۔

        لہٰذا ان حرکتوں سے توبہ لازم ہے، ورنہ یہ لوگ فاسق ٹھہریں گے۔ اسی طرح سیٹھوں اور مالداروں کی عادت ہے کہ وہ غریبوں کے ساتھ تمسخر اور اہانت آمیز القاب سے ان کو عار دلاتے اور طعنہ زنی کرتے رہتے ہیں اور طرح طرح سے ان کا مذاق اڑایا کرتے ہیں ۔ جس سے غریبوں کی دل آزاری ہوتی رہتی ہے۔ مگر وہ اپنی غربت اور مفلسی کی وجہ سے مالداروں کے سامنے دم نہیں مار سکتے۔ ان مالدارو ں کو ہوش میں آ جانا چاہیے کہ اگر وہ اپنے ان کرتوتوں سے توبہ کرکے باز نہ آئے تو یقینا وہ قہر قہار و غضب جبار میں گرفتار ہو کر جہنم کے سزاوار بنیں گے اور دنیا میں ان غریبوں کے آنسو قہر خداوندی کا سیلاب بن کر ان مالداروں کے محلات کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائیں گے کیونکہ  

بشر کو صبر نہیں ورنہ یہ مثل سچ ہے

کہ چپ کی داد غفور رحیم دیتا ہے

(۶۴)  مسجد میں دنیا کی بات کرنا 

        مسجدوں میں دنیا کی بات چیت کرنا اور شور مچانا منع ہے۔ اس گناہ سے بچنا لازم ہے کیونکہ حدیثوں میں اس کی ممانعت آئی ہے۔چنانچہ

حدیث : ۱

         حضرت حسن بصری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مرسلا ًروایت ہے کہ  رَسُولَ  اللہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ مسجدوں میں دنیا کی باتیں لوگ کریں گے تو تم ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو کہ ان کو خدا     عَزَّ وَجَلَّ    سے کچھ کام نہیں ۔(شعب الایمان للبیھقی، باب فی الصلوات، فصل المشی الی المساجد، الحدیث ۲۹۶۲، ج۳، ص۸۶)

حدیث : ۲

         حدیث میں آیا ہے کہ مسجد میں دنیاوی بات چیت نیکیوں کو اس طرح کھا ڈالتی ہے جس طرح چوپائے گھاس کو کھا ڈالتے ہیں ۔

 (اتحاف السادۃ المتقین، کتاب اسرارالصلوۃ ومھماتھا، الباب الاول، ج۳، ص۵۰)

حدیث : ۳

         حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ کوئی مسجد میں سودا بیچ رہا ہے یا سودا خرید رہا ہے تو تم لوگ کہہ دو کہ   اللہ  تَعَالٰی تمہاری تجارت میں نفع نہ دے اور جب تم دیکھو کہ کوئی اپنی گم شدہ چیز کو چلا چلا کر مسجد میں ڈھونڈ رہا ہے تو تم کہہ دو کہ خدا   عَزَّ وَجَلَّ    کرے تمہاری گم شدہ چیز تمہیں نہ ملے۔ (الترغیب والترہیب، کتاب الصلوۃ، باب الترہیب من البصاق فی المسجد، الحدیث۱۴، ج۱، ص۱۲۶)

حدیث : ۴

         حضرت سائب بن یزید رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں مسجد میں لیٹا ہوا تھا تو کسی نے مجھ کو کنکری ماری جب میں نے دیکھا تو وہ امیرالمومنین حضرت عمر  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ تھے۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ جاؤ اور ان دونوں آدمیوں کوجو مسجد میں پکار کر باتیں کر رہے تھے ، میرے پاس لاؤ تو میں ان دونوں کو لایا۔ تو امیر المومنین نے ان دونوں سے پوچھا کہ تم دونوں کہاں کے رہنے والے ہو؟ تو ان دونوں نے کہا کہ ہم طائف کے رہنے والے ہیں تو امیر المومنین نے فرمایا کہ اگر تم دونوں مدینہ کے رہنے والے ہوتے تومیں تم دونوں کو مار مار کر درد مند کر دیتا۔ تم لوگ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی مسجد میں بلند آواز سے گفتگو کر رہے ہو

(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الصلوۃ، باب المساجد...الخ، الفصل الثالث، الحدیث :  ۷۴۴، ج۱، ص۲۳۴۔صحیح البخاری، کتاب الصلوٰۃ، باب رفع الصوت....الخ، الحدیث۴۷۰، ج۱، ص۱۷۸)

حدیث : ۵

 



Total Pages: 57

Go To