Book Name:Jahannam Kay Khatrat

حدیث : ۵

         حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ یہ حلال نہیں ہے کہ مسلمان (بغض و کینہ کے سبب سے) اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ تعلق کاٹ کر اس کو چھوڑ دے۔ جو تین دن سے زیادہ اس طرح  تعلق چھوڑے رہے گا اور اسی حالت میں مر جائے گا تو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔

 (سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فیمن یھجر اخاہ المسلم، الحدیث۴۹۱۴، ج۴، ص۳۶۴)

حدیث : ۶

         حضرت ابو خراش سلمی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو ایک سال تک اپنے (دینی) بھائی کو چھوڑے رہے تو یہ اتنا بڑا گناہ ہے کہ گویا اس کا خون بہا دیا۔   (سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فیمن یھجر اخاہ المسلم، الحدیث۴۹۱۵، ج۴، ص۳۶۴)

 (۶۲)مکر اور دھوکہ بازی

        مسلمانوں کے ساتھ مکر یعنی دھوکہ بازی اور دغا بازی کرنا قطعاً حرام اور گناہ کبیرہ ہے جس کی سزا جہنم کا عذاب عظیم ہے۔اس کی ممانعت و حرمت کے بارے میں چند حدیثیں بڑی ہی رقت خیز و عبرت آموز ہیں ۔

حدیث : ۱

        امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  جو کسی مومن کو ضرر پہنچائے یا اس کے ساتھ مکر اور دھوکہ بازی کرے وہ ملعون ہے۔(سنن الترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء فی الخیانۃوالغش، الحدیث : ۱۹۴۸، ج۳، ص۳۷۸)   

حدیث : ۲

         حضرت ابو صرمہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے نبی کریم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ جو مسلمان کو ضرر پہنچائے   اللہ  تَعَالٰی ضرور اس کو ضرر پہنچائے گا اور جو مسلمانوں کو مشقت میں ڈالے   اللہ  تَعَالٰی اس کو مشقت میں ڈالے گا۔(سنن الترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء فی الخیانۃوالغش، الحدیث :  ۱۹۴۷، ج۳، ص۳۷۸)

حدیث : ۳

        حضرت ابن مسعود رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا ہے جو ہمارے ساتھ دھوکہ بازی کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور مکر و دھوکہ بازی جہنم میں ہے۔  (کنزالعمال، کتاب الاخلاق، من قسم الاقوال، المکروالخدیعۃ، الحدیث :  ۷۸۲۱، الجزء الثالث، ص۲۱۸)

حدیث : ۴

         امیرالمومنین حضرت علی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ جو کسی مسلمان کے ساتھ مکر کرے یا نقصان پہنچائے یا دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔  (کنزالعمال، کتاب الاخلاق، من قسم الاقوال، المکروالخدیعۃ، الحدیث :  ۷۸۲۲، الجزء الثالث، ص۲۱۸)

حدیث : ۵

        امیرالمومنین حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  تین شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے :

   (۱) دھوکہ باز    (۲) احسان جتانے والا     (۳) بخیل ۔        (کنزالعمال، کتاب الاخلاق، من قسم الاقوال، المکروالخدیعۃ، الحدیث :  ۷۸۲۳، الجزء الثالث، ص۲۱۸)

(۶۳) کسی کا مذاق اڑانا  

        اہانت اور تحقیر کیلئے زبان یا اشارات، یا کسی اور طریقے سے مسلمان کا مذاق اڑانا حرام و گناہ ہے۔ کیونکہ اس سے ایک مسلمان کی تحقیر اور اس کی ایذاء رسانی ہوتی ہے اور کسی مسلمان کی تحقیر کرنا اوردکھ دینا سخت حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

         قرآن مجید میں   اللہ  تَعَالٰی نے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ-وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۱)                   (پ۲۶، الحجرات : ۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان :  اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے دور نہیں کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی برا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں تووہی ظالم ہیں ۔

       اس کی ممانعت اور شناعت کے بارے میں چند حدیثیں بھی وارد ہوئی ہیں چنانچہ   

حدیث : ۱



Total Pages: 57

Go To