Book Name:Jahannam Kay Khatrat

ترجمۂ کنزالایمان :  اور حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے جلے۔

        اور حدیثوں میں بھی اس کی ہلاکت خیز مضرت کا بڑے ہی عبرت انگیز الفاظ میں بیان آیا ہے۔

حدیث : ۱

         حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ ایک دوسرے سے حسد مت کرو اور ایک دوسرے سے بغض نہ رکھواور ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور اے   اللہ  کے بندو!تم آپس میں ایک دوسرے کے بھائی بھائی بن کر رہو۔

 (صحیح البخاری، کتاب الادب، باب یٰٓـاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا ...الخ، الحدیث :  ۶۰۶۶، ج۴، ص۱۱۷۔صحیح مسلم، کتاب البروالصلۃ، باب تحریم الظن...الخ، الحدیث : ۲۵۶۳، ص۱۳۸۶ )

حدیث : ۲

         حضرت انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا ڈالتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا ڈالتی ہے اور صدقہ گناہوں کو اس طرح بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور نماز مومن کا نور ہے اور روزہ جہنم سے ڈھال ہے۔ (کنزالعمال، کتاب الاخلاق، من قسم الاقوال، الحسد، الحدیث :  ۷۴۳۵، الجزء الثالث، ص۱۸۵)   

حدیث : ۳

         حضرت زبیر بن عوام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ آہستہ آہستہ تمہارے اندر اگلی امتوں کی بیماریاں پھیل رہی ہیں یعنی حسد اور بغض۔ یہ دین کو مونڈنے والی بیماریاں ہیں ، بال کو مونڈنے والی نہیں ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی جان ہے کہ تم لوگ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکو گے جب تک مومن نہ ہو جاؤ۔ اور تم لوگ اس وقت تک مومن نہ ہو گے جب تک کہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرو گے۔ کیا میں تمہیں وہ کام نہ بتا دوں کہ جب تم لوگ اس کو کرو گے تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے اور وہ کام یہ ہے کہ تم لوگ آپس میں سلام کا چرچا کرو۔(کنزالعمال، کتاب الاخلاق، من قسم الاقوال، الحسد، الحدیث :  ۷۴۴۰، الجزء الثالث، ص۱۸۶)

حدیث : ۴

         حضرت عبد  اللہ  بن بسررَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ حسد کرنے والا اور چغلی کھانے والا اور کاہن (نجومی)، مجھ کو ان لوگوں سے اور ان لوگوں کو مجھ سے کوئی تعلق نہیں ۔(کنزالعمال، کتاب الاخلاق، من قسم الاقوال، الحسد، الحدیث :  ۷۴۴۲، الجزء الثالث، ص۱۸۶)

حدیث : ۵

         حضرت ضمرہ بن ثعلبہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ لوگ اس وقت تک ہمیشہ خیریت اور اچھی حالت میں رہیں گے جب تک کہ ایک دوسرے پر حسد نہ کریں گے۔(کنزالعمال، کتاب الاخلاق، من قسم الاقوال، الاکمال، الحدیث :  ۷۴۴۶، الجزء الثالث، ص۱۸۶)              

(۶۱) بغض و کینہ

       مسلمانوں سے بغض اور کینہ رکھنا بھی حرام اور گناہ ہے اس بارے میں یہ چند حدیثیں خاص طور سے بغور پڑھیے۔

حدیث : ۱

         حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ تم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور تم لوگ بھائی بھائی بن کر رہو۔(صحیح مسلم، کتاب البروالصلۃ، باب تحریم الظن، الحدیث : ۲۵۶۳، ص۱۳۸۶ )

حدیث : ۲

         حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ اسے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  شب براء ت میں   اللہ  تَعَالٰی تمام بخشش مانگنے والوں کی مغفرت فرما دیتا ہے اوررحمت طلب کرنے والوں پر رحمت نازل فرما دیتا ہے۔ لیکن کینہ رکھنے والے کے معاملہ کو مؤخر اور ملتوی فرما دیتا ہے۔ 

(کنزالعمال، کتاب الاخلاق، من قسم الاقوال، الحقدوالشحنائ، الحدیث :  ۷۴۴۷، الجزء الثالث، ص۱۸۶)

حدیث : ۳

         حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ہر ہفتہ میں دو مرتبہ بندوں کے اعمال   اللہ  تَعَالٰی کے دربار میں پیش کئے جاتے ہیں تو   اللہ  تَعَالٰی ہر بندہ مومن کو بخش دیتا ہے لیکن اس بندے کو کہ اس کے اور اس کے (دینی) بھائی کے درمیان بغض و کینہ ہو، اس کی   اللہ  تَعَالٰی مغفرت نہیں فرماتا۔

(کنزالعمال، کتاب الاخلاق، من قسم الاقوال، الحقدوالشحنائ، الحدیث :  ۷۴۴۹، الجزء الثالث