Book Name:Jahannam Kay Khatrat

         حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ تین آدمیوں سے (بوجہ غضب کے)   اللہ  تَعَالٰی نہ کلام فرمائے گا، نہ ان کی طرف (رحمت کی نظر سے )دیکھے گا، نہ انہیں گناہوں سے پاک فرمائے گا اور ان کیلئے درد ناک عذاب ہے۔

    (۱)     زنا کار بڈھا    (۲)  جھوٹا بادشاہ    (۳)  متکبر فقیر۔    (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان غلظ .....الخ، الحدیث : ۱۰۷، ص۶۸)

حدیث : ۳     

         حضرت عمرو بن شعیب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   راوی ہیں کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے فرمایا کہ تکبر کرنے والے قیامت کے دن میدان محشر میں چیونٹیوں کے مثل بنا کر لائے جائیں گے مگر ان کی صورتیں آدمی کی ہوں گی اور ہر طرف سے ان پر ذلت کا گھیرا ہو گا اور وہ گھسیٹ کر جہنم کے اس قید خانہ میں ڈالے جائیں گے جس کا نام ’’بولس‘‘ (ناامیدی کی جگہ ) ہو گا۔ ان کے اوپر جہنم کی آگ ہو گی جو ’’نارالانیار‘‘  کہلاتی ہے اور انہیں جہنمیوں کے بدن کا پیپ پلایا جائے گا جس کا نام ’’طینۃ الخبال‘‘ (پیپ کا کیچڑ) ہے۔

 (سنن الترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، باب۴۷، الحدیث :  ۲۵۰۰، ج۴، ص۲۲۱)

حدیث : ۴

         امیر المومنین حضرت عمررَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ انہوں نے منبر پر فرمایا کہ اے لوگو!تواضع کرو اس لئے کہ میں نے رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو   اللہ  تَعَالٰی کے لئے تواضع کرے گا تو   اللہ  تَعَالٰی اس کو بلند فرما دے گا تو وہ اپنی نظر میں چھوٹا ہو گا مگر لوگوں کی نگاہوں میں بہت بڑا ہو گا۔ اور جو تکبر کرے گا   اللہ  تَعَالٰی اس کو پست کر دے گا تووہ اپنے نزدیک بڑا ہو گا اور لوگوں کی نگاہوں میں اتنا چھوٹا ہو گا کہ کتے اور خنزیر سے بھی کمتر ہو گا۔(شعب الایمان للبیھقی ، باب فی حسن الخلق ، فصل فی التواضع ، الحدیث :  ۸۱۴۰ ، ج۶، ص۲۷۶)

حدیث : ۵

         حضرت ابن مسعود رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا وہ جنت میں نہیں داخل ہو گا۔ تو ایک شخص نے عرض کیا کہ آدمی اس کو پسند کرتا ہے کہ اسکا کپڑا اچھا ہو، اس کاجوتا اچھا ہو(تو کیا یہ بھی تکبر ہے) تو آپ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا کہ   اللہ  تَعَالٰی جمال والا ہے اور وہ جمال والے کو پسند فرماتا ہے۔ (یہ تکبر نہیں ہے) بلکہ تکبر یہ ہے کہ آدمی حق سے سرکشی کرے اور دوسرے لوگوں کو ذلیل سمجھے۔ (صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب تحریم الکبر وبیانہ ، الحدیث : ۹۱ ، ص۶۰)

حدیث : ۶

 حضرت ابو امامہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ تم لوگ تکبر سے بچو۔ اس لئے کہ آدمی  تکبر کرتا رہتا ہے۔یہاں تک کہ   اللہ  تَعَالٰی (فرشتوں کو) حکم دیتا ہے کہ میرے اس بندے کو ’’جبارین‘‘ (ظالموں ) میں لکھ دو۔(کنزالعمال ، کتاب الاخلاق ، من قسم الاقوال ، حرف الکاف ، الکبر و الخیلاء ، الحدیث :  ۷۷۲۶ ، الجزء الثالث ، ص۲۱۰)

مسائل و فوائد

        اچھا لباس، اچھا مکان و سامان رکھنا یہ تکبر نہیں بلکہ تکبر یہ ہے کہ حق سے سرکشی کرے اپنے کو بڑا اور عزت والا سمجھے۔ اور دوسرے کو اپنے سے کمتراور ذلیل سمجھے     در حقیقت یہ وہ تکبر ہے جو دنیا و آخرت میں آدمی کو ذلت کے غار میں گرانے والا، اور جہنم میں پہنچانے والا گناہ ہے۔  اللہ  تَعَالٰی اعلم)

(۵۸) بخیلی

        بخیلی بہت ذلیل خصلت اور بدترین گناہ ہے قرآن و حدیث میں بخیلوں کیلئے جہنم کی وعید آئی ہے، چنانچہ قرآن مجید میں   اللہ  تَعَالٰی نے فرمایا کہ

وَ  لَا  یَحْسَبَنَّ  الَّذِیْنَ  یَبْخَلُوْنَ  بِمَاۤ  اٰتٰىهُمُ  اللّٰهُ  مِنْ  فَضْلِهٖ  هُوَ  خَیْرًا  لَّهُمْؕ-بَلْ  هُوَ  شَرٌّ  لَّهُمْؕ-سَیُطَوَّقُوْنَ  مَا  بَخِلُوْا  بِهٖ  یَوْمَ  الْقِیٰمَةِؕ                             (پ۴، اٰل عمرٰن : ۱۸۰)

ترجمۂ کنزالایمان :  اورجو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو   اللہ  نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگزاسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں ۔ بلکہ وہ ان کیلئے برا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا  قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا۔

          دوسری آیت میں یوں ارشاد ہوا کہ     

اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙﰳ (۳۶) الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖؕ-وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ(۳۷) (پ۵، النساء : ۳۶۔۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان :  بے شک   اللہ  کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والا بڑائی مارنے والا جو آپ بخل کریں اوراوروں سے بخل کے لیے کہیں اور   اللہ  نے جو انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپائیں اور کافروں کیلئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

   اسی طرح حدیثوں میں بھی کثرت سے بخیلی کی مذمت اور اس پر وعیدیں آئی ہیں چنانچہ

حدیث : ۱

         امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ دھوکا دینے والا اوربخیل اور احسان جتانے والا (شروع سے) جنت میں نہیں داخل ہو گا بلکہ کچھ دن جہنم کا عذاب چکھ لینے کے بعد جنت میں جائے گا۔