Book Name:Jahannam Kay Khatrat

حدیث : ۶

         حضرت شداد بن اوس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ وہ رونے لگے تو لوگوں نے ان سے کہا کہ کیا چیز آپ کو رلاتی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو ایک بات فرماتے ہوئے سنا تھا اسی کو یاد کرکے رو رہا ہوں ۔ میں نے رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھ کو اپنی امت پر شرک اور چھپی ہوئی شہوت کا خوف ہے تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول   اللہ  !  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کیا آپ کی امت آپ کے بعد شرک کرے گی؟  تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا کہ ’’ہاں ‘‘ لیکن سن لو کہ وہ سورج یا چاند اور پتھر اور بت کی عبادت نہیں کریں گے لیکن وہ اپنے عملوں میں ریا کاری کریں گے اور چھپی ہوئی شہوت یہ ہے کہ ان میں سے ایک آدمی صبح کو روزہ دار رہے گا۔ پھر اس کی شہوتوں میں سے کوئی شہوت اس کے ساتھ    آ جائے گی تو وہ روزہ چھوڑ دے گا۔             

(مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب الرقاق ، باب الریاء والسمعۃ ، الفصل الثالث ، الحدیث :  ۵۳۳۲، ج۳، ص۱۴۰۔شعب الایمان للبیھقی، باب فی اخلاص العمل للّٰہ وترک الریائ، الحدیث : ۶۸۳۰، ج۵، ص۳۳۳)

حدیث : ۷

         حضرت محمود بن لبید رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ مجھے سب سے زیادہ جس چیز کا تم لوگوں پر خوف ہے وہ چھوٹا شرک ہے تو لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول  اللہ !  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   چھوٹا شرک کیا ہے؟ تو فرمایا کہ ’’ریا کاری‘‘ اور بیہقی میں یہ بھی ہے کہ جس دن   اللہ  تَعَالٰی لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا تو ریا کاروں سے فرمائے گا کہ تم لوگ اس کے پاس جاؤ جس کو تم دنیا میں اپنا عمل دکھا کر کیا کرتے تھے پھر تم دیکھ لو کہ کیا تم اس کے پاس کوئی جزاء اور بھلائی پاتے ہو۔

(المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث محمود بن لبید ، الحدیث : ۲۳۶۹۲ ، ج۹، ص۱۶۰۔شعب الایمان للبیھقی، باب فی اخلاص العمل للّٰہ وترک الریائ، الحدیث :  ۶۸۳۱، ج۵، ص۳۳۳)

حدیث : ۸

         حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     ہمارے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ ہم لوگ دجال کا تذکرہ کر رہے تھے تو آپ نے فرمایا کہ کیا میں تم لوگوں کو اس چیز کی خبر نہ دوں جو میرے نزدیک دجال سے بھی زیادہ خوفناک ہے! تو ہم لوگوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں یا رسول  اللہ !  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   ضرور ہم لوگوں کو خبر دیجئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ وہ چھپا ہوا شرک ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہو تو وہ یہ دیکھ کر اپنی نماز کو زیادہ لمبی کر دے کہ کوئی آدمی اس کو دیکھ رہا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الرقاق، باب الریاء والسمعۃ، الفصل الثالث، الحدیث :  ۵۳۳۳، ج۳، ص۱۴۰۔سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الریاء والسمعۃ، الحدیث :  ۴۲۰۴، ج۴، ص۴۷۰)

مسائل و فوائد

        الحاصل ’’ر یا کاری ‘‘سخت حرام، اور گناہ کبیرہ ہے۔ ریاکاری کرنے سے عبادتوں کا اجر و ثواب نہ صرف غارت و اکارت ہو جاتا ہے بلکہ وہ عبادت گناہ عظیم بن جاتی ہے جس سے اگر سچی توبہ نہ کرے تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔’’و  اللہ  تَعَالٰی اعلم‘‘

(۵۷)  تکبر 

        تکبر وہ قبیح و مذموم چیز ہے جو سخت حرام اور گناہ ہے اور یہ وہ جرم ہے کہ دنیا و آخرت دونوں جگہوں میں اس کا انجام ذلت و خواری ہے ۔یہی وہ گناہ ہے جس نے ہمیشہ کیلئے ابلیس کے گلے میں لعنت کا طوق ڈال دیا اور وہ مردود و مطرود ہو کر بہشت سے نکال دیا گیا اور قیامت تک تمام ملائکہ اور جن و انس اس پرلعنت بھیجتے رہیں گے اور قیامت کے دن وہ اور اس کے متبعین جہنم کا ایندھن بنیں گے۔

تکبر عزازیل را خوارکرد     بزندان لعنت گرفتار کرد   

یعنی تکبر نے عزازیل کو ذلیل و خوار کر دیا اور لعنت کے قید خانے میں گرفتار کر دیا۔

        ’’عزازیل‘‘  فرشتوں کا معلم اور بہت بڑا عابد و زاہد تھا مگر اس نے تکبر سے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنے سے کمتر بتایا اور سجدہ نہیں کیا تو وہ مردودِ بارگاہِ الٰہی ہو کر بہشت سے نکالا گیا اور تمام مخلوق کی لعنت و ملامت میں گرفتار ہو گیا۔ قرآن مجید نے بار بار اعلان فرمایا کہ

فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ(۷۲)   (پ۲۴، الزمر : ۷۲)

ترجمۂ کنزالایمان : تو کیا ہی برا ٹھکانہ متکبروں کا۔

        اسی طرح تکبر کی چال کو حرام فرماتے ہوئے خداوند قدوس نے ارشاد فرمایا :

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا(۳۸)             (پ۱۵، بنی اسرائیل : ۳۷، ۳۸)

ترجمۂ کنزالایمان :  اور زمین میں اتراتا نہ چل بیشک تو ہرگز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا یہ جو کچھ گزرا ان میں کی بری بات تیرے رب کو ناپسند ہے۔

        حدیثوں میں بھی بکثرت تکبر کی قباحت و مذمت بیان کی گئی ہے چنانچہ۔

حدیث : ۱

         حضرت ابن مسعود  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ    سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ        نے فرمایا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا وہ جہنم میں  داخل نہیں ہو گا اور جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔      (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ، الحدیث۹۱، ص۶۱)

حدیث : ۲

 



Total Pages: 57

Go To