Book Name:Jahannam Kay Khatrat

         حضرت حکم نے ابن ابی لیلیٰ سے سنا کہ حضرت حذیفہرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے پانی مانگا تو ایک آدمی انکے پاس چاندی کے برتن میں پانی لایا تو حضرت حذیفہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے اس برتن کو پھینک دیا اور فرمایا کہ میں نے اس کو اس برتن کے استعمال سے منع کیا تھا مگر یہ نہیں مانا۔ بیشک رسول   اللہ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سونے چاندی کے برتنوں میں کچھ کھانے پینے اور حریر و دیباج  (ریشمی کپڑوں ) کے پہننے سے منع فرمایا ہے اور یہ ارشاد فرمایا ہے کہ یہ سب چیزیں دنیا میں کافروں کیلئے ہیں اور آخرت میں تم مسلمانوں کیلئے ہیں ۔

(سنن الترمذی، کتاب الأشربۃ، باب ماجاء فی کراہیۃ الشرب فی آنیۃ...الخ، الحدیث : ۱۸۸۵، ج۳، ص۳۴۹)

مسائل و فوائد

        سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا یا اور کسی طریقے سے ان کو استعمال کرنا حرام و ناجائز اور گناہ کا کام ہے۔ جس کی سزا جہنم کا عذاب ہے۔ وہ گلاس اور کٹورا جس میں دوسری دھاتوں کے ساتھ کچھ چاندی یا سونا لگا کر بنایا گیا ہو اس میں بھی کھانا پینا حرام ہے۔ ہاں البتہ اگر کسی دھات کے برتن پر چاندی کی صرف قلعی کر دی گئی ہو، تو ایسے برتن میں کھانے پینے کی ممانعت نہیں ہے۔ (و  اللہ  تَعَالٰی اعلم)

(۵۶)  ریا کاری

         کوئی بھی نیک عمل اور عبادت ہو خدا کی رضا چاہتے ہوئے، اور اخلاص کی نیت سے کرنا لازم ہے اگر نام و نمود اور شہرت یا کوئی دوسری نفسانی خواہش مقصود ہو تو     ’’ریا کاری‘‘ ہے اور ریاکاری وہ گناہ کبیرہ ہے جس کو شرک کی ایک شاخ کہا گیا ہے۔ اور   اللہ  تَعَالٰی نے ریا کاری کرنے والوں کو شیطان کا ساتھی بتایا ہے۔ چنانچہ ارشاد قرآنی ہے کہ   

وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا(۳۸) (پ۵، النساء : ۳۸)

ترجمۂ کنزالایمان : اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے   اللہ  اور نہ قیامت پر اور جس کا مصاحب شیطان ہوا تو کتنا برا مصاحب ہے۔

         دوسری آیت میں یوں ارشاد فرمایا کہ

فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ(۴) الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ(۵) الَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَۙ(۶) وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۠(۷)  (پ۳۰، الماعون : ۴۔۷)

ترجمۂ کنزالایمان :  تو ان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نمازسے بھولے بیٹھے ہیں وہ جو دکھاواکرتے ہیں اور برتنے کی چیز مانگے نہیں دیتے۔

   اسی طرح ریا کاری کی مذمت اور ممانعت میں بہت سی حدیثیں بھی وارد ہوئی ہیں ۔

حدیث : ۱

         حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا ہے کہ   اللہ  تَعَالٰی نے فرمایا ہے کہ میں تمام شریکوں سے زیادہ شرک سے بے نیاز ہوں ۔ جو شخص کوئی ایسا عمل کرے کہ اس عمل میں میرے ساتھ میرے غیر کو شریک کرے تو میں اس کو اس کے شرک کے ساتھ چھوڑ دوں گا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ میں اس سے بیزار ہوں وہ عمل اسی کیلئے ہے جس کیلئے اس نے کیا ہے۔

(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الرقاق، باب الریاء والسمعۃ، الفصل الاول، الحدیث :  ۵۳۱۵، ج۳، ص۱۳۷۔سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب الریاء والسمعۃ، الحدیث ۴۲۰۲، ج۴، س۴۶۹)

حدیث : ۲

         حضرت جندب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایاکہ جو شہرت کیلئے کوئی عمل کرے گا تو   اللہ  تَعَالٰی قیامت کے دن اسکے عیوب کو مشہور کرے گا اور جو ریا کاری کرے گا تو   اللہ  تَعَالٰی اسکی ریا کاری کا اس کو بدلہ دے گا۔    (صحیح مسلم، کتاب الزھدوالرقائق، باب من أشرک ...الخ، الحدیث : ۲۹۸۷، ص۱۵۹۴)

حدیث : ۳

         حضرت ابو سعید بن ابو فضالہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ جب   اللہ  تَعَالٰی قیامت کے دن سب لوگوں کو جمع فرمائے گا تو ایک منادی یہ اعلان کرے گا کہ جس نے اپنے اس عمل میں جو   اللہ  کیلئے کیا ہے کسی دوسرے کو شریک کر لیا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کا ثواب    اللہ   عَزَّ وَجَلَّ   کے غیر سے طلب کرے۔          

(سنن الترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الکھف، الحدیث۳۱۶۵، ج۵، ص۱۰۵)

حدیث : ۴

         حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول   اللہ   صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ آخری زمانے میں کچھ ایسے بھی لوگ نکلیں گے جو دنیا کو دین کے ذریعے طلب کریں گے۔ وہ لوگوں کیلئے بھیڑ کی کھال پہنیں گے۔ اپنی نرم دلی ظاہر کرنے کیلئے ان کی زبانیں شکر سے زیادہ میٹھی ہوں گی اور ان کے دل بھیڑیوں کے دل ہوں گے۔   اللہ   تَعَالٰی  ( ان ریا کاروں سے) فرمائے گا کہ کیا یہ لوگ میرے مہلت دینے سے بے خوف ہو گئے ہیں ؟ کیا یہ لوگ مجھ پر جری ہو گئے ہیں ؟ تو مجھ کو میری ہی قسم ہے کہ میں ضرور ضرور ان لوگوں پر ایسا فتنہ بھیجوں گا جو عقل مند آدمی کو حیرانی میں ڈال دے گا۔ (سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب ۶۰، الحدیث : ۲۴۱۲، ج۴، ص۱۸۱)

حدیث : ۵

         حضرت شداد بن اوس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ جس نے ریاکاری کرتے ہوئے نماز پڑھی تو یقینا اس نے شرک کا کام کیا اور جس نے ریاکاری سے روزہ رکھا اس نے بے شک شرک کا کام کیا اور جس نے ریاکاری کرتے ہوئے صدقہ دیا اس نے بلاشبہ شرک کا کام کیا۔(المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند الشامیین، حدیث شداد بن اوس، الحدیث :  ۱۷۱۴۰، ج۶

Total Pages: 57

Go To